Tuesday , November 13 2018
Home / دنیا / مہلک بم دھماکوں کے بعد رات کی بسوں پر بنگلہ دیش میں امتناع

مہلک بم دھماکوں کے بعد رات کی بسوں پر بنگلہ دیش میں امتناع

ڈھاکہ 10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )بنگلہ دیش نے آج حکم دیا ہے کہ طویل مدتیں بسیں رات کے وقت سڑکوں سے ہٹا لی جائیں کیونکہ دو پٹرول بم حملے کئے جاچکے ہیں جن میں 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ سیاسی بے چینی پھوٹ پڑنے کے بعد صورتحال بدترین ہوجانے کے دوران یہ حملے کئے گئے ۔

ڈھاکہ 10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )بنگلہ دیش نے آج حکم دیا ہے کہ طویل مدتیں بسیں رات کے وقت سڑکوں سے ہٹا لی جائیں کیونکہ دو پٹرول بم حملے کئے جاچکے ہیں جن میں 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ سیاسی بے چینی پھوٹ پڑنے کے بعد صورتحال بدترین ہوجانے کے دوران یہ حملے کئے گئے ۔

یہ حملے جنوری کے اوائل میں تشدد کے آغاز سے اب تک کہ مہلک ترین حملے تھے جبکہ اپوزیشن نے ملک گیر سطح پر ٹرانسپورٹ کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے ۔جونیر وزیر داخلہ عبدالزماں خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ آپریٹرس نے اتفاق کیا ہے کہ 9 بجے شب کے بعد بسیں سڑکوں سے ہٹالی جائیں گی ۔ جبکہ دیگر گاڑیاں چلتی رہیں گی۔ رات کے وقت تا اطلاع ثانی بسیں نہیں چلائی جائیں گی۔ 1000 سے زیادہ بسیں ‘لاریاں اور ویانس پر آتشی بموں سے حملے کئے گئے ہیں جن کا الزام اپوزیشن کے کارکنوں پر ہے جنہوں نے ناکہ بندی کے ایک حصہ کے طور پر یہ حملے کئے ہیںجن کا مقصد وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے ۔ لاکھوں طویل مسافتی مسافرین بنگلہ دیش کی بسوں پر انحصار کرتے ہیںجن کے چلانے والوں کو ناکہ بندی کے آغاز سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہورہے ہیں۔امریکی سفیر مارشیا برنی کاٹ نے صورتحال کو قطعی الم ناک قرار دیا ہے ۔

قبل ازیں ان کی ملاقات وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی سے ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو بنگلہ دیش میں تشدد روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جسے جمہوریت کا تحفہ عطا کیا گیا ہے اور جمہوریت میں اختلافات دور کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔اپوزیشن قائد خالدہ ضیاء نے سڑکوں کی موجودہ ناکہ بندی ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ریلویز اور آبی گذرگاہیں پولیس کی حد تک محدود ہوگئی ہے جبکہ سابق وزیر اعظم 3 جنوری سے اپنے دفتر پر نظر بند کردی گئی ۔ خالدہ ضیاء نے تشدد کے پس پردہ اُن کی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہونے کی تردید کی ہے ۔ لیکن عہد کیا ہے کہ شیخ حسینہ کے تازہ انتخابات میں اتفاق تک ناکہ بندی جارہی ہے ۔عہدیداروں نے ہزاروں فوجی اور پولیس ملازمین گاڑیوں کی حفاظت کیلئے تعینات کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT