Friday , September 21 2018
Home / اداریہ / مہنگائی پر کنٹرول کب ہوگا ؟

مہنگائی پر کنٹرول کب ہوگا ؟

ہر سال یہی کہتے ہیں گلشن کے نگہباں اس سال نہیں فصل بہار اب کے برس ہے مہنگائی پر کنٹرول کب ہوگا ؟

ہر سال یہی کہتے ہیں گلشن کے نگہباں
اس سال نہیں فصل بہار اب کے برس ہے
مہنگائی پر کنٹرول کب ہوگا ؟
نریندر مودی حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے قبل مہم کے دوران بی جے پی کے تقریبا تمام قائدین اور خود نریندر مودی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کرتے ہوئے عوام کیلئے اچھے دن لائیں گے ۔ مودی حکومت کا ایک سال تو محض اچھے دن کے انتظار میں گذر گیا ہے اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے کسی طرح کے اقدامات نہیںکئے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جس طرح کانگریس زیر قیادت یو پی اے دور حکومت میں عوام کو کالا بازاریوں اور ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا اسی طرح مودی حکومت نے بھی عوام کو مہنگائی کی مار سہنے کیلئے بے یار و مددگار چھوڑدیا ہے ۔ ریٹیل شعبہ میں جب سے ملٹی نیشنل کمپنیوںنے داخلہ لیا ہے اس وقت سے صورتحال اور بھی سنگین ہوتی جا رہی ہے اور ان کی جانب سے من مانی قیمتوں کی وصولی کا سلسلہ چل پڑا ہے اور ان پر حکومت کا کوئی کنٹرول یا قابو نہیں رہ گیا ہے ۔ گذشتہ ایک مہینے میں تین مرتبہ مودی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے ۔ ہر بار اضافہ بھاری ہی کیا گیا ہے اور کل کا اضافہ قدرے معمولی کہا جاسکتا ہے ۔ ڈیزل کی قیمتوںمیں گذشتہ دو مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے اس بار معمولی سی کمی کی گئی ہے۔ مودی حکومت کا یہ استدلال ہے کہ عالمی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کی وجہ سے یہ اضافہ اور کمی ہو رہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب عالمی مارکٹ میںتیل کی قیمتوں میں خاصی گراوٹ آئی تھی اس وقت حکومت کی جانب سے یہ کمی عوام کو منتقل کرنے کی بجائے سرکاری تیل کمپنیوں کے خزانے بھرنے کے کام میںلی گئی ۔ حکومت نے اکسائز ڈیوٹی میںاضافہ کرتے ہوئے عوام کو راحت سے محروم کردیا تھا ۔ اب اگر عالمی مارکٹ میںتیل کی قیمتوں میں قدرے اضافہ ہوا ہے تو حکومت اکسائز ڈیوٹی میں کمی کرتے ہوئے عوام کو اس بوجھ سے راحت فراہم کرسکتی تھی لیکن اس نے اضافہ کا بوجھ راست طور پر عوام پر منتقل کردیا ہے ۔ فیول کی قیمتوںمیںاضافہ کے نتیجہ میں تقریبا تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہونا یقینی ہوتا ہے اور یہ بوجھ بھی عوام پر لاددیا جا رہا ہے ۔
گذشتہ ایک سال کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوںمیں اتارچڑھاؤکا سلسلہ جاری رہا ۔ ابتدائی ایام میںمعمولی اضافہ پر اکتفاکیا گیا تھا تاہم بعد میںان قیمتوںمیںزبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ ایک مہینے کے دوران دودھ کی قیمت میں بھی خاصااضافہ ہوگیا ہے دودھ ملک میں تقریبا ہر گھر کی ضرورت ہے اسکے باوجود اس پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات نہیںکئے جارہے ہیں۔ خودسرکاری دودھ کی قیمتوںمیںاضافہ کرتے ہوئے خانگی کمپنیوںکومزید اضافہ کاموقع فراہم کیاجا رہا ہے ۔ اس بارمانسون کی کمی کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ابتدائی چند ایام میںبارش معمول سے پانچ فیصد زیادہ رہی ہے لیکن سارے سیزن میں بحیثیت مجموعی بارش کی کمی کے اندیشے ہیں۔ایسے میںآئندہ دنوںمیںاشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمزیداضافہ کے اندیشے مسترد نہیںکئے جاسکتے ۔ آنے والے دن بھی عوام کیلئے مشکل حالات ہی لا رہے ہیںاور عوام کو حکومت سے اچھے دن کی جو امید تھی وہ دھری کی دھری رہ گئی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مانسون کی کمی سے نمٹنے کیلئے اس کی جانب سے موثر اقدام کئے جا رہے ہیں اور ملک میںایک سال کیلئے کافی اناج کے ذخائر موجود ہیں۔ اناج کے ذخائر کا موجود رہنا مانسون کی کمی کا حل نہیںہوسکتا اور نہ ان کے نتیجہ میں قیمتوں پر قابو پانے میںمدد مل سکتی ہے ۔ گذشتہ عرصہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی طلب اور سپلائی کے فرق کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ حکومت ذخائر رکھتے ہوئے سربراہی کو یقینی بنانے میںناکام رہی تھی جس کے نتیجہ میںعوام کو بوجھ برداشت کرنا پڑا ۔
حکومت اپنے طور پر تو اچھے دن آنے کا ادعا کر رہی ہے اور خود وزیر اعظم بھی ایسا دعوی کرتے ہیںلیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ کسان برادری پہلے ہی سے مسائل کا شکار ہے ۔ کہیں بے موسم بارش سے فصلوںکو نقصان ہوا ہے تو کہیں کم بارش سے کسانوںکو پریشانیاںلاحق ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میںعوام ہی ہیںجو مہنگائی کی مسلسل مار کھانے پر مجبور ہیںاور حکومت انہیں کسی طرح کی راحت پہونچانے کیلئے تیار نظر نہیں آتی ۔ حکومت کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول رکھنے کیلئے کسی طرح کا میکانزم تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ چور بازاریوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی موثر مہم چلانیکی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچایا جاسکے ۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ عوام میں بھی اچھے دن کا احساس پیدا ہو ورنہ عجب نہیں کہ خود حکومت کیلئے برے دن شروع ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT