Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مہنگائی کے سبب متوسط افراد کی زندگی اجیرن

مہنگائی کے سبب متوسط افراد کی زندگی اجیرن


آخر اچھے دن کب آئیں گے ؟ نظام آباد میں عوام کا حکومت سے استفسار
نظام آباد:20؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضروری اشیاء کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ سے درمیانی افراد کیلئے معاشی طور پر بحرانی کا شکار ہونا پڑرہا ہے اور حکومت کیخلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اچھے دن کب آئینگے یا اچھے دن کے معنی یہی ہے کیا کہے کر حکومت سے سوال کرتے ہوئے نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سٹیزن نے کہا کہ دال مہنگی اور گوشت سستا ہوگیا ہے۔ معیاری تور کی دال 225 روپئے کیلو ہے تو چکن صرف 120 روپئے کیلو ہے اس طرح ضروری اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کی وجہ سے درمیانی عوام کیلئے زندگی بسر کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ماہ جنوری میں دال کی قیمت 85 روپئے کیلو تھی تو اگست میں 115، ستمبر میں 140 اور اکتوبر میں 225 فی کیلو ہے۔ قیمتوں  پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح تیزی کے ساتھ ضروریہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ریاست میں ناکافی بارش کے باعث پیداوار میں کمی کے سبب اناج کی قلت محسوس ہورہی ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے اناج کی قلت کو دور کرنے کیلئے غیر مجاز طریقہ سے گوداموں میں موجودہ اناج کو باہر نکالنے اور پڑوسی ملکوں سے اناج کے حصول کیلئے اقدامات کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے قبل ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور اچھے دن آنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے عوام کی ہمدردی حاصل کی تھی۔ لیکن اقتدار کے 16ماہ کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ حالانکہ ضلع میں تور کی دال کی کاشت کی کمی کے باوجود بھی عام آدمی کو آسانی کے ساتھ تور کی دال حاصل ہوتی تھی۔ عام طور پر ضلع کو کرناٹک ، بیدر، گلبرگہ کے علاوہ مہاراشٹرا کے آکولہ اور لاتور کے اضلاع سے دال سربراہ کی جاتی تھی اور ہر ماہ 14تا 15 ٹن 8 لاریوں میں سربراہ کی جاتی تھی لیکن قیمتوں میں اضافہ کے سبب 4لاری ہر ماہ سربراہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ارزاں فروش کی دکانات میں بھی تور کی دال فروخت کی جاتی تھی اورہر ماہ 500 میٹرک ٹن دالوں کو ارزاں فروش کی دکانات پر سربراہ کیا جاتا تھا لیکن گذشتہ جون سے دکانوں پر تور کی دال سربراہ نہ کرنے کی وجہ سے غریب عوام کو کرانہ دکان کے ذریعہ منہ مانگی دام لگا کر دال خریدنا پڑرہا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کو معاشی طورپر بوجھ ہورہا ہے اور آنے والے دنوں میں تور کی دال کی قیمت میں مزیداضافہ ہونے کے امکانات اور دھان کی قلت کے امکانات ظاہر ہورہے ہیں اور حکومت سے جنگی خطوط پر اقدامات کرتے ہوئے دال کی قلت کو دور کرنے اور قیمتوں کی کمی کیلئے دیگر ممالک سے حاصل کرنے کا ضلع کی عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT