Friday , December 15 2017
Home / مضامین / میانمار، حکومت ہند کا طرز تغافل

میانمار، حکومت ہند کا طرز تغافل

 

غضنفر علی خاں
ہندوستانی حکومت اور میانمار نے روہنگیا پناہ گزینوں کے ضمن میں اپنی اپنی انسانی ذمہ داریوں سے فرار کا جو رویہ اپنایا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ یہ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان پناہ گزینوں کو گھر اور صرف روٹی کپڑا یا آسرا فراہم کیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ 4 لاکھ 21 ہزار انسان جو اتفاق سے مسلمان ہیں کیوں زندہ رہنے کے حق سے محروم کئے جارہے ہیں۔ انھیں کس ناکردہ گناہ کی سزا دی جارہی ہے؟ کیوں میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی نے اپنی قوم سے پہلے خطاب کے دوران ان پناہ گزینوں پر وہاں کی فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے ظلم و استبداد کو حق بجانب قرار دیا؟ اگرچیکہ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ کہاکہ میانمار ان پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپس ہونے کی مشروط اجازت دے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ سوچی نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیاکہ فوج ان پر مظالم ڈھارہی ہے۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ آنگ سان سوچی اپنے ملک کی کئی آبادیوں کے گھر جلانے، ہزاروں، لاکھوں انسانوں کے قتل عام و قتل عبث کو ان کے گھر ان کی عبادت گاہوں کو جلانے ان کے بچوں کو تہہ تیغ کرنے، ان کی عصمتیں لوٹنے کو بھی ظلم نہیں سمجھتیں۔ ظلم بہرحال ظلم ہے اور یہ جب حد سے تجاوز کرجاتا ہے تو قدرت خود بخود اس کو ختم کرنے کا نظم کرلیتی ہے ۔ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے انھیں اس ستم گری اور انسانیت سوز تشدد کی خواہ وہ انتہا پسند بدھسٹ نے کیا ہوا اور وہاں کی فوج نے کیا ہوا تسلیم کرتے ہوئے اس کی مذمت سخت الفاظ میں کرنی چاہئے تھی۔

وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی محض قیدی بنی رہیں اور اس قیدی کی طرح روہنگیائی مسلمانوں پر زیادتیوں کے مسئلہ پر زبان نہیں کھولیں۔ ان کی کیا مجبوریاں تھیں، ہیں اور رہیں کہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سوچی اپنے ملک کی ایسی سربراہ ہیں جو وہاں کی فوج کے رحم و کرم پر ہی اقتدار پر رہ سکتی ہیں اور یہ ظلم فوج نے ہی کیا ہے۔ ان کی کیا مجال کہ جس فوج کے رحم و کرم پر ان کا اقتدار برقرار رہ سکتا ہے اس فوج کے ظلم و زیادتی کی مذمت کرتیں۔ انھوں نے تو اپنے خطاب میں ڈھٹائی سے کہا ہے کہ دنیا میانمار کے واقعات پر مبالغہ سے کام لے رہی ہے۔ اپنا ملک چھوڑنے پر کوئی انسانی آبادی آمادہ نہیں ہوتی۔ کوئی اپنے گھر اپنی بسی بسائی زندگی برباد نہیں کرسکتا۔ یہ صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی انسانی آبادی پر چند لوگ عرصۂ حیات تنگ کردیں۔ جب وہ سرزمین جس پر وہ بستی ہے کسی ناگوار بوجھ کی طرح انھیں اُگل دے۔ سوچی نے ان تمام پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے خطاب میں فوج اور بدھسٹوں کے ظلم و ستم کی پردہ پوشی کی اور اس کو جائز قرار دیا۔ ان کے خیال میں ساری دنیا کے ممالک ان کے میڈیا میں غلط خبریں ٹیلی کاسٹ اور شائع کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ساری دنیا کو جھٹلادیا اور اپنے خطاب میں صرف جھوٹ کا سہارا لیا۔ ان کی مثال اس بلّی کی سی ہے جو چراکر دودھ پیتی ہے اور اپنی آنکھیں بند کرکے یہ سمجھتی ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ’’وہ اس شتر مرغ کی طرح ہیں جو ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھتا ہے کہ ریت کا یہ طوفان جس سے وہ بچنا چاہتا ہے گزر جائے گا۔ شتر مرغ کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ ریت کا طوفان خود اس کو اپنے اندر چھپاکر اس کی زندگی ختم کردیتا ہے۔ سوچی نے اپنی سیاسی بقاء کی خاطر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے جھوٹ بولا۔ حالانکہ انھیں نوبل انعام انسانی حقوق اور ملک میں جمہوریت بحال کرنے کے لئے ہی عطا کیا گیا۔

اصولاً تو سوچی کو یہ اعزاز یہ انعام واپس کردینا چاہئے۔ وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی برقراری کے معاملہ میں بالکل ناکام ہوچکی ہیں۔ یہ تو ہوئی بات میانمار کی خاتون لیڈر سوچی کی۔ ہمارے ملک کے احوال بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ 1970 ء کی ہند ۔ پاک جنگ میں ہندوستان نے اُس وقت مداخلت کی تھی جبکہ سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کی فوج بے پناہ مظالم کررہی تھی۔ جب بنگلہ دیشی عوام آزادی کی جدوجہد کررہے تھے۔ جب ان کے اپنے وطن میں ان کا خون خرابہ ہورہا تھا اس وقت بھی مظلوم بنگلہ دیشی مسلمانوں نے ہندوستان میں پناہ لی تھی۔ اس جنگ میں پاکستانی فوج کے 93 ہزار سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ان تمام اسیران جنگ کو ہندوستان نے کافی عرصہ تک مہمانوں کی طرح پالا۔ ان کے اخراجات کی پابجائی کے لئے پوسٹ کارڈ کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔ انھیں اپنے پاس رکھنے کے لئے ہر پیر کو سارا ہندوستان دوپہر کا کھانا ترک کرکے ساری بچت پاکستانی اسیران جنگ کو دیتا تھا۔ اس ہند ۔ پاک جنگ میں اگرچیکہ ہندوستان کی فتح ہوئی تھی لیکن فتح ہونے کے باوجود کبھی ہندوستان نے مفتوح پاکستانی اسیران جنگ (جنگی قیدیوں کی حق تلفی نہیں کی لیکن وہ دور اور تھا اس دور کے حکمران مختلف تھے۔ انھیں قومی سکیورٹی کے تحفظ کا بھرپور خیال تھا لیکن اُس وقت کی حکومت قومی سلامتی یا سکیورٹی کا ڈھول نہیں پیٹا کرتی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کہ ملک پر ایسی کانگریس کی حکومت تھی جس سے ’’مکت بھارت‘‘ بنانے کا بی جے پی خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ آنجہانی اندرا گاندھی کی حکومت تھی۔ اس جنگ میں ہندوستان کی فتح کا سہرا مسز گاندھی کے سر باندھتے ہوئے اسی بی جے پی کے لیڈروں نے انھیں (اندرا گاندھی) کو ’’شکتی کی دیوی‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ ان ہی بی جے پی نے کانگریس لیڈر مسز اندرا گاندھی کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ آج وہی بی جے پی روہنگیا پناہ گزینوں کو اس لئے جگہ دینے سے ڈر رہی ہے کہ ان میں سے کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو پاکستان کی آئی ایس آئی اور داعش سے متاثر ہیں اور یہی لوگ ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس مفروضہ کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ جہاں تک قومی سلامتی کا تعلق ہے تو یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ملک کا ہر باشندہ، ہر مسلمان، ہر ہندو، ہر عیسائی، سکھ اور پارسی اپنی جان قربان کرکے قومی سلامتی کا تحفظ کرتا ہے اور کرتا رہے گا کیوں کہ ہندوستان کے ہر شہری کو اپنی قومی سلامتی اتنی ہی عزیز بلکہ اس سے زیادہ عزیز ہے جتنی کہ بی جے پی اور اس کی حکومت کو ہے۔ قومی سلامتی کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن روہنگیائی پناہ گزینوں کے تعلق سے حکومت ہند کو یہ سوچنا چاہئے کہ پناہ گزین جو صرف سانس کی پونجی لے کر ہندوستان آنا چاہتے تھے جن کو ازسرنو اپنی زندگیاں شروع کرنی ہے۔ یہ خانماں برباد لوگ کیسے ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کچھ ایسے برمی مسلمان ہمارے ملک میں داخل ہوئے ہیں جن کے پاس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے صداقت نامے نہیں ہیں تو ان کو ہندوستان میں داخل ہونے یا یہاں بسنے سے روکا جاسکتا ہے لیکن ان مٹھی بھر افراد کے لئے ہندوستان اپنی انسانی ذمہ داریوں سے تو گریز نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلفنامہ میں حکومت نے اپنا موقف پیش کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور حکومت کا اختیاری مسئلہ ہے۔ اس لئے کورٹ اس میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ یہ حلف ہندوستان میں انسانی حقوق کے ان تیقنات سے میل نہیں کھاتا جو دستور ہند میں دیئے گئے ہیں اس کے بجائے اگر مودی حکومت روہنگیائی پناہ گزینوں کو اچھی طرح چھان بین کرکے انھیں پناہ دینے کی بات کرے تو یہ ملک کی تمام روایات کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار ہوگا۔ فی الوقت تو روہنگیائی پناہ گزینوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ :
خدایا تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
(اقبالؔ)

TOPPOPULARRECENT