میانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کیخلاف بربریت نسل کشی : امریکہ

Rohingya refugees wait to receive food and other aids distributed by different organisations at Thaingkhali refugee camp in the Bangladeshi district of Ukhia on October 30, 2017. More than 600,000 Rohingya have arrived in Bangladesh since a military crackdown in neighbouring Myanmar in August triggered an exodus, straining resources in the impoverished country. / AFP PHOTO / Dibyangshu SARKAR

واشنگٹن- امریکی ایوان نمائندگان نے روہنگیا مسلمانوں پر بربریت کونسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) میں میانمارکی فوج کی مخالفت میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے۔

ایوان اب سرکاری طور پر یہ مؤقف اختیارکرتا ہے کہ اجتماعی تشدد کی پالیسیاں اور میانمار کی حکومت کی جانب سے روہنگیا کی بے دخلی کے لیے اختیار کردہ اقدامات نسل کشی قرار دی جاتی ہے۔

ایوان نے قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی، قرارداد کے حق میں 394 جب کہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ پڑا۔

اس سے قبل بھی اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمارفوج نسل کشی سمیت اجتماعی ہلاکتوں اورجنسی زیادتی میں ملوث ہے جسے میانمارکی فوج کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا تاہم ابھی واشنگٹن میں قائم میانمارکے سفارت خانے نے فوری طور پر ایوان نمائندگان میں کی جانے والی رائے شماری پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

واضح رہے کہ میانمارفوج اور شدت پسند بدھ مت کے مظالم کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کا تعلق رکھائن سے ہے جہاں سے 7 لاکھ سے زئد مہاجرین بنگلا دیش کے مہاجرین کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT