Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / میانمارکے انتخابات میں سوچی کی پارٹی کو دوتہائی اکثریت

میانمارکے انتخابات میں سوچی کی پارٹی کو دوتہائی اکثریت

کئی انتخابی نتائج ہنوز باقی، 80 فیصد سے زائد نشستوں پر قبضہ، اوباما اور بانکی مون کی مبارکباد
ینگون /13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آنگ سان سوچی کی پارٹی نے پارلیمنٹ میں ہفتہ کے دن منعقدہ رائے دہی میں کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کی وجہ سے انھیں صدر میانمار بننے کی اجازت حاصل ہوسکتی ہے اور وہ فوج سے اقتدار کی ان کو منتقلی کے بعد حکومت قائم کرسکتی ہیں۔ یہ انتخابات جن میں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی نے پہلی بار 1990ء کے بعد مقابلہ کیا تھا، رائے دہندوں کی کثیر تعداد نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کی پارٹی کو 80 فیصد سے زیادہ نشستیں حاصل ہو گئیں۔ یونین الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کی معلومات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج این ایل ڈی دوتہائی اکثریت حاصل کرچکی ہے، جس کی حکومت کے لئے اسے ضرورت تھی۔ اسے 348 پارلیمانی نشستیں حاصل ہوچکی ہیں، ہنوز کئی انتخابی نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔ حکومت اب سوچی کی پارٹی کو ایک انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والی پارٹی تسلیم کرتی ہے، جس نے 50 سال کی فوجی حکمرانی کے بعد ملک میں ایک انقلاب پیدا کیا۔ سوچی کی پارٹی قطعی اکثریت کے ساتھ ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں پر قابض ہوچکی ہے، چنانچہ صدر منتخب کرسکتی اور حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔ 70 سالہ سوچی نے زبردست اکثریت حاصل کرکے فوجی انتظامیہ کی سیاسی تقدیر پر مہر لگادی ہے اور لامحدود اختیارات حاصل کرلئے ہیں۔

سوچی فوج کے مدون کردہ دستور کے مطابق صدر مقرر نہیں کی جاسکتیں، اس دستور کے تحت 25 فیصد نشستیں فوج کے لئے مختص بھی ہیں۔ سوچی پہلے ہی عہد کرچکی ہیں کہ وہ صدر سے بالاتر ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ دستور کا تجزیہ کریں گی اور اعلی عہدوں پر تقررات کے بارے میں اختیارات کا جائزہ لیں گی۔ میانمار کے ایک آزاد تجزیہ نگار رچرڈ ہارسے نے کہا کہ این ایل ڈی جو قانون چاہے منظور کرنے کے قابل ہے، اسے مخلوط حکومت تشکیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اقتدار کی منتقلی کے دوران این ایل ڈی کو محتاط رہنا ہوگا اور ہر ایک کو اپنے ساتھ رکھنا ہوگا۔ ان شاندار انتخابی نتائج سے بلند حوصلہ سوچی نے قومی مفاہمت کی بات چیت صدر تھین سین اور سربراہ فوج من آنگ لائنگ کے ساتھ طے کی ہے۔ دونوں این ایل ڈی کی انتخابی کار کردگی پر انھیں مبارکباد دے چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی پرامن ہوگی۔ تھین سین کی برسر اقتدار یونین یکجہتی اور ترقیاتی پارٹی جو سابق فوجیوں نے قائم کی تھی، انتخابات میں مکمل طورپر شکست کھاچکی ہے، اس کے باوجود صدر نے جو ایک سابق جنرل ہیں، اپنی وردی اتارکر حکومت کی قیادت کے لئے 2011ء میں سادہ لباس اختیار کرچکے ہیں۔ انھیں اتوار کے پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے ستائش حاصل ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون نے سوچی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی، لیکن تھین سین کی دلیری و بصیرت اور اصلاحی طریقہ کار کے دوران قیادت کے لئے ان کی ستائش کرچکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے انتخابات کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے سوچی اور صدر میانمار دونوں کو ٹیلیفون پر مبارکباد پیش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT