Wednesday , January 17 2018
Home / دنیا / میانماری حکام روہنگیا مسلمانوں کی شناخت مٹانے کوشاں

میانماری حکام روہنگیا مسلمانوں کی شناخت مٹانے کوشاں

ینگون ۔ 8 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے واحد مسلم اکثریتی علاقے میں حکام نے دیہاتوں کی ناکہ بندی کردی اور بعض صورتوں میں مقامی لوگوں کو زد و کوب کیا اور حتیٰ کہ گرفتار بھی کیا جو امیگریشن عہدیداروں کے پاس اپنا رجسٹریشن کرانے سے انکار کرتے ہوں۔ مقامی لوگوں اور جہد کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی نوعیت کی انتہائی جارحانہ مساعی ہے کہ روہ

ینگون ۔ 8 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے واحد مسلم اکثریتی علاقے میں حکام نے دیہاتوں کی ناکہ بندی کردی اور بعض صورتوں میں مقامی لوگوں کو زد و کوب کیا اور حتیٰ کہ گرفتار بھی کیا جو امیگریشن عہدیداروں کے پاس اپنا رجسٹریشن کرانے سے انکار کرتے ہوں۔ مقامی لوگوں اور جہد کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی نوعیت کی انتہائی جارحانہ مساعی ہے کہ روہنگیا کمیونٹی کو زبردستی اپنی شناخت ختم کرتے ہوئے پڑوسی بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین وطن کی حیثیت سے اس ملک کو آنے والے لوگوں کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرانے پر مجبور کردیا جائے۔شمالی ریاست راکھین جو اس ملک کے 1.3 ملین روہنگیا مسلمانوں کے 90 فیصد حصے کا وطن ہے، وہاں امیگریشن حکام ، بارڈر گارڈس اور غیر قانونی شہریوں سے نمٹنے والی ٹاسک فورس کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ بس فیملی لسٹ کو تازہ کر رہے ہیں جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس سال شادی ، موت اور پیدائش سے متعلق سوالات کے علاوہ لوگوں کی نسل کے اعتبار سے زمرہ بندی کی گئی ہے۔ حکومت ملک میں روہنگیا کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ جو اس نسل سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ درحقیقت بنگالی ہیں۔ اس کے برخلاف مکینوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اس رجسٹریشن مہم میں حصہ لینے سے انکار کیا، انہیں نتائج و عواقب بھگتنے پڑے۔

TOPPOPULARRECENT