Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / میانمار آپریشن کے بعد جنگجویانہ بیان بازی پر شدید تنقید

میانمار آپریشن کے بعد جنگجویانہ بیان بازی پر شدید تنقید

نئی دہلی ، 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ممتاز دانشوروں کے گروپ نے میانمار میں فوجی آپریشن کے تناظر میں حکومت اور بی جے پی کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کی جانب سے ’’جنگ جواحساسات کے بلاسوچے سمجھے اظہار‘‘ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت و برسراقتدار پارٹی سے ایسے لوگوں سے لاتعلقی اختیار کرلینے پر زور دیا۔ انھوں نے حکومت سے یہ اپیل بھی کی کہ

نئی دہلی ، 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ممتاز دانشوروں کے گروپ نے میانمار میں فوجی آپریشن کے تناظر میں حکومت اور بی جے پی کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کی جانب سے ’’جنگ جواحساسات کے بلاسوچے سمجھے اظہار‘‘ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت و برسراقتدار پارٹی سے ایسے لوگوں سے لاتعلقی اختیار کرلینے پر زور دیا۔ انھوں نے حکومت سے یہ اپیل بھی کی کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے احیاء کیلئے دستیاب اولین موقع کا فائدہ اٹھا لیا جائے۔ دانشوروں نے اپنے ایک بیان میں کسی وزیر کا حوالہ نہیں دیا لیکن وہ ظاہر طور پر وزیر مملکت راجیہ وردھن راٹھوڑ کا ذکر کررہے تھے جنھوں نے کہا کہ انڈین آرمی شمال مشرقی شورش پسندوں کے خلاف میانمار حملے کے بعد اب پاکستان میں سرحد پار مخصوص حملے انجام دے سکتی ہے۔ اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں کلدیپ نیر، مکند دوبے، جسٹس راجندر سچر، مرنال پانڈے، منورنجن موہنتی، ضویا حسن، جوہان دیال، این ڈی پنچولی، محمد سلیم انجینئر، سیما مصطفیٰ، جاوید نقوی اور سمیت چکرورتی شامل ہیں۔ صحیفہ نگاروں، سفارت کاروں، جیوری کی ذمہ داریاں نبھانے والوں اور دیگر شخصیتوں والے گروپ نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم ہند۔میانمار سرحد کے پاس شمال مشرق کے عسکریت پسندوں کے خلاف ہندوستانی آرمی کے بظاہر کامیاب آپریشن کے بعد حکومت کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں، برسراقتدار پارٹی کے نامور ترجمانوں اور جنگی حکمت عملی طئے کرنے والوں اور پالیسی سازوں سے قریب تر اداروں سے وابستہ ماہرین کے جنگجویانہ نوعیت کے بے پرواہ بیانات بدرجہ غایت فکرمند ہیں۔ ہمیں اس رویہ کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کیلئے خطرناک نتائج اور ہمارے پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات پر پڑنے والے اثرات کی بابت گہری تشویش ہے۔

TOPPOPULARRECENT