Monday , May 28 2018
Home / دنیا / میانمار میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق قاصد پر امتناع

میانمار میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق قاصد پر امتناع

جنوری میں مجوزہ دورہ نہیںہوگا، کسی روہنگیا تارک وطن کو ملک بدر نہیں کیاگیا : حکومت ہند
جنیوا ؍ نئی دہلی ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق قاصد برائے میانمار نے آج کہا کہ حکومت نے ملک میں ان کے داخلہ پر امتناع عائد کیا ہے اور انہیں ملک سے دور رکھنے سے معلوم ہوتا ہیکہ راکھین اسٹیٹ میں کچھ تو بھیانک واقعات پیش آرہے ہیں۔ یو این کے خصوصی قاصد یانگھی لی جنوری میں میانمار کا دورہ کرتے ہوئے ملک بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے والی تھی، بالخصوص راکھین کے حالات کا جائزہ لینا تھا جو گذشتہ اگست کے اواخر میں روہنگیا اقلیتی مسلم برادری کے خلاف فوجی کارروائی سے بحران میں مبتلاء ہے۔ تب سے لگ بھگ 655,000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کو فرار ہوچکے ہیں کیونکہ فوجیوں کے ہاتھوں ان پر مظالم کے واقعات کی اطلاع ملتی رہی ہے۔ اکثریتی بدھ ملک میں ہجوموں نے بھی روہنگیا مسلمانوں کو ہر طرح کے ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کے فوجیوں کو روہنگیا کے خلاف نسل کشی کا موردالزام ٹھہرایا جس کی حکومت نے پرزور تردید کی ہے لیکن اسے شدید عالمی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یانگھی نے کہا کہ انہیں حکومت میانمار کے فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے۔ یانگھی کو انسانی حقوق کے بارے میں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو سال میں دو مرتبہ حقوق پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ میانمار کے یانگھی کی میعاد تک تمام تر تعاون سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ حکومت میانمار کے ترجمان نے کہا کہ یانگھی کو ملک میں داخلہ سے منع کردیا گیا کیونکہ وہ غیرجانبدار نہیں ہے لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس امتناع کو اشتعال انگیز اقدام قراردیا ہے۔ دریں اثناء حکومت ہند نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں کسی بھی روہنگیا تاریک وطن کو ملک بدر نہیں کیا گیا۔ مملکتی وزیرداخلہ کرن رجیجو نے آج راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق تقریباً 330 پاکستانیوں اور لگ بھگ 1,770 بنگلہ دیشی شہریوں کو گذشتہ 3 سال کے دوران ملک سے نکالا گیا۔ کسی بھی روہنگیا پناہ گزین کو اس مدت کے دوران ملک سے باہر نہیں بھیجا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT