Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کیلئے محفوظ زونس قائم کئے جائیں

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کیلئے محفوظ زونس قائم کئے جائیں

وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ کی تجویز
اقوام متحدہ ۔ 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد نے آج ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کیلئے ’’محفوظ زونس‘‘ قائم کئے جائیں جو میانمار میں فوجی کارروائی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے رہے ہیں جو خود ہمارے ملک کی معیشت پر سوالیہ نشان لگا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کل اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو بحفاظت اور باوقار طریقہ سے اپنے ملک لوٹ جانا چاہئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ اقوام متحدہ نے خود بھی اس بات کی توثیق کی ہیکہ زائد از 4 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش جاچکے ہیں۔ راکھین اسٹیٹ میں میانمار کی فوج نے ان کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے جہاں خواتین کی عصمت ریزی کے علاوہ کئی مواضعات کو نذرآتش بھی کردیا گیا۔ 25 اگست کو روہنگیا انتہاء پسندوں نے متعدد پولیس چوکیوں پر ہلہ بول دیا تھا جس کے بعد فوج کو حالات قابو میں کرنے میدان میں آنا پڑا تھا۔ شیخ حسینہ نے میانمار کے حکام پر سرحدوں پر زمینی سرنگ بچھانے کا الزام عائد کیا تاکہ روہنگیا مسلمان واپس نہ آسکیں۔ لہٰذا اس صورتحال میں اب اقوام متحدہ کو فوری طور پر اس بحران کی یکسوئی کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ انہوں نے اس موقع پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے محفوظ زونس قائم کرنے کیلئے پانچ نکاتی منصوبہ کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ مجوزہ محفوظ زونس کی نگرانی اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہوگی۔ وزیراعظم بنگلہ دیش نے کہا کہ اقوام متحدہ کو روہنگیا پناہ گزینوں کی مسلسل آمد کے اخراجات کی تکمیل کیلئے 20 کروڑ امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔ انہوں نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا کہ راجستھان میں 1971ء میں نسل کشی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1971ء میں 25 مارچ کی آدھی رات کو اچانک فوجی کارروائی شروع ہوگئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT