Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / میانمار میں قیام امن کی ناکامی سے سوچی لاعلم کیوں ؟

میانمار میں قیام امن کی ناکامی سے سوچی لاعلم کیوں ؟

FILE - In this Friday, Aug. 11, 2017, file photo, Myanmar's State Counsellor Aung San Suu Kyi delivers an opening speech during the Forum on Myanmar Democratic Transition in Naypyitaw, Myanmar. Suu Kyi has canceled plans to attend the U.N. General Assembly, with her country drawing international criticism for violence that has driven at least 370,000 ethnic Rohingya Muslims from the country in less than three weeks. (AP Photo/Aung Shine Oo, File)

مئو اور لہو پارٹیوں کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کا عمل صرف رسمی
ملک میں آج بھی فوج کا دبدبہ برقرار
روہنگیاؤں کا مستقبل غیریقینی، سیاسی تجزیہ نگار ڈیوڈ میتھلس کے تاثرات

نیفی ڈا۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دو مسلح نسلی گروپس آج میانمارمیں جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کریں گے جس کی وجہ سے یہاں ایک تقریب کا سماں ہے اور حکومت اس امن معاہدہ پر دستخط کو اپنی فتح سے تعبیر کررہی ہے کیونکہ نقادوں نے قیام امن کو ’’ناکارہ‘‘ اور ’’ناقابل عمل‘‘ قرار دیا تھا لہٰذا ان نقادوں کی زبانیں اب اپنے آپ بند ہوجائیں گی۔ یاد رہیکہ اس وقت دنیا بھر کی نظریں ان مظلوم، بے سروسامان اور خوفزدہ 7,00,000 روہنگیا مسلمانوں پر لگی ہوئی ہیں جن کے خلاف میانمار میں جب فوجی کارروائی کی گئی تو وہ اپنی جان بچانے کے لئے بنگلہ دیش فرار ہوگئے تھے اور اب وہاں جیسے تیسے اپنی زندگی گزار رہے ہیں تاہم بنگلہ دیش جیسے غریب ملک کے لئے یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے ان لاکھوں روہنگیاؤں کو پناہ دیئے ہوئے ہے ورنہ کئی ممالک تو اس اقدام کے متحمل بھی نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی ’’کمزور‘‘ معیشت کا رونا روتے رہے ہیں۔ اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی نے اعلان کیا تھا کہ راکھین اسٹیٹ میں قیام امن ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ان کی سیویلین حکومت نے 2016ء میں اقتدار سنبھالا تھا لیکن اس کے بعد آنگ سان سوچی نے روہنگیاؤں کے قتل عام پر کوئی بیان دینا تک گوارہ نہیں کیا تھا جس کے بعد عالمی سطح پر ان کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ملک میں اب تک جو بھی ہوتا رہا اس سے قطع نظر، منگل کو نیومئو اسٹیٹ پارٹی (NWSP) اور لہو ڈیموکریٹک یونین (LDU) نے نیشنل سیز فائر ایگریمنٹ (NCA) پر دستخط کرتے ہوئے ان دیگر آٹھ ملیشیاس میں شامل ہوگئے جنہوں نے آنگ سان سوچی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل دستخط کئے تھے۔ ان دو گروپس کی میانمار کی فوج کے ساتھ کچھ عرصہ تک کوئی جھڑپ نہیں ہوئی تھی۔ تاہم یہ لوگ ایک طاقتور باغی فوجی گروپ کا حصہ تھے جس نے میانمار کی سابقہ فوجی حکومت کے دور میں این سی اے پر دستخط کرنے کیلئے کافی مزاحمت سے کام لیا تھا۔ دریںا ثناء ایل ڈی یو کے صدرنشین کیا کھون سار نے دستخط کرنے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آنگ سان سوچی پر پورا اعتماد ہے تاہم ہمیں اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ مستقبل میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہوگا کیونکہ حکومت اور فوج میں اتحاد کا فقدان ہے حالانکہ میانمار کی فوج نے جنٹا دورحکومت سے دستبرداری اختیار کرلی ہے تاہم اب بھی ملک کے بعض اہم امور کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے جن میں امورداخلہ کے علاوہ دفاع اور سرحدی معاملات بھی ان کے کنٹرول میں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ کی کل نشستوں کے ایک چوتھائی پر بھی ان کا (فوج) ہی قبضہ ہے۔ اس کی وجہ سے فوج کو یہ اختیارات ازخود حاصل ہوگئے ہیں کہ وہ ملک میں جہاں چاہے (بشمول راکھین اسٹیٹ) فوجی کارروائی کرسکتی ہے۔ میانمار میں ہی آج ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جنہیں سوچی کی 21 ویں صدری کی امن مذاکرات کے کامیاب ہونے پر شبہات ہیں۔ یاد رہیکہ میانمار کی 1948ء میں برطانیہ سے آزادی کے حصول میں سوچی کے والد کا اہم رول رہا ہے جنہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ملک کی آزادی کے بعد مختلف نسلی گروپس خودمختار زندگی گزار سکیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ خصوصی طور پر روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا رویہ روا رکھا گیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق بھی ان سے چھین لئے گئے۔ سیاسی تجزیہ نگار ڈیوڈ میتھلسن نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مئو اور لہو پارٹیوں کی جانب سے دستخط کرنے کے باوجود یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ میانمار میں قیام امن کا عمل ناکام ہوچکا ہے اور حیرت کی بات یہ ہیکہ اس حقیقت سے خود اسٹیٹ کونسلر (سوچی) بھی ناواقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کے عمل کو ناکام کرنے میں ملک کی فوج نے اہم رول ادا کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT