Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / ’’میانمار میں مسلمانوں پر ملٹری کے مظالم بھیانک خواب‘‘

’’میانمار میں مسلمانوں پر ملٹری کے مظالم بھیانک خواب‘‘

نئی دہلی 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ روہنگیا مسلمانوں کا مسلسل قیام سنگین نوعیت کے سکیورٹی مضمرات رکھتا ہے، نیز نت نئی قسم کی پریشانیاں پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے کیوں کہ ہزارہا افراد میانمار میں اپنے گھر بار کو چھوڑ کر یہاں پناہ لینے آرہے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کا کہیں (کسی ملک) سے تعلق نہیں اور یہ تشریح اقوام متحدہ نے کی ہے کہ وہ دنیا کی سب سے زیادہ ظلم و ستم کی شکار اقلیتی آبادی ہے۔ وہ لوگ تمام تر مشقتوں، پریشانیوں، مصیبتوں کو جھیلتے ہوئے اُس ’اجنبی‘ ملک میں غیریقینی کیفیت کی زندگی گزار رہے ہیں جسے وہ اپنا وطن گردانتے ہیں۔ اور جیسے ہی اُنھیں یہ خیال آتا ہے کہ اُنھیں کبھی نہ کبھی دوبارہ وطن واپس بھیج دیا جائے گا تو اُن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بالغ تو بالغ 12 سالہ نور الاسلام نے تک روہنگیا میں مسلمانوں کے حالات کی عکاسی کرتے ہوئے مختصراً یہی کہا ہے کہ وہ اپنے مادر وطن کو شاید کبھی واپس نہیں جانا چاہے گا۔ ’’میں یہاں خوش ہوں اور اسکول جاتے ہوئے مسرت ہورہی ہے۔ میں کبھی میرے مادر وطن کو واپس جانا نہیں چاہتا کیوں کہ وہاں ملٹری بچوں کا قتل کرتی ہے۔ میں حکومت سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں واپس میانمار نہ بھیجے‘‘۔ اِس بچے کی باتوں میں ’گھر‘ وہ چھوٹا سا عارضی گوشہ ہے جو جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں کچرے کے انبار سے قریب بنایا گیا اور ’اسکول‘ قریبی علاقہ جسولا میں واقع سرکاری مدرسہ ہے۔ 2012 ء میں گرما کی ایک رات کی بات ہے جس میں نور کی فیملی کیلئے سب کچھ ہمیشہ کے لئے بدل گیا اور وہ پناہ گزین بن گئے۔ نور اُس وقت محض 7 سال کا تھا لیکن اُسے یاد ہے کہ کس طرح عسکریت پسندوں نے میانمار کی راکھین ریاست میں اُن کے مکان پر ہلہ بول دیا تھا۔ اُسے یہ بھی یاد ہے کہ وہ لوگ موت کے منہ سے کسی طرح بچ نکلے اور جدوجہد کے ابتدائی ایام بنگلہ دیش میں گزارے جہاں سے اُنھیں نکال دیا گیا اور تب وہ ہندوستان آئے۔ اُس نے مزید بتایا کہ ہم کئی دنوں تک بھوکے رہے جب ہندوستان پہونچے میرے باپ نے گزر بسر کے لئے مچھلی بیچنا شروع کیا۔ اپنی بپتا سناتے ہوئے نور کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اُس کی فیملی شاہین باغ کیمپ میں مقیم 70 خاندانوں میں سے ہے۔ وہاں تقریباً 1200 روہنگیا افراد بستے ہیں جن میں سے بعض کو قومی دارالحکومت کے مدن پور کھدر میں واقع کیمپ میں جگہ ملی ہے۔ جاریہ ماہ راکھین سے سینکڑوں ہزاروں روہنگیا افراد کو فراری پر مجبور کیا گیا جن میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے اور اُنھوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے، اُن کی زبوں حالی عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں آئی ہے چنانچہ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو تباہ کن انسانی صورتحال کا سامنا ہے۔ جو ہندوستان پہونچ گئے اُن کی بھی اپنی علیحدہ نوعیت کی پریشانیاں ہیں کیوں کہ حکومت اُنھیں ملک بدر کردینے کی دھمکی دے رہی ہے۔ شاہین باغ کیمپ کے پناہ گزین سبیکون ناہر نے بتایا کہ وہ پوری زندگی پناہ گزین کی حیثیت سے گزارنا نہیں چاہتا لیکن میانمار میں اپنے گاؤں کو واپسی کا خیال بھی آتا ہے تو ملٹری حملوں کی بھیانک یادیں مجھے ازحد بے چین کردیتی ہیں۔ اِسی طرح 35 سالہ عبدالرحیم اور دیگر نے میانمار میں راکھین کے حالات کے بارے میں یہی کچھ بیان کیا ہے۔ روہنگیا ہیومن رائٹس انیشیٹیو سے وابستہ شبیر نے وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج سے تحریری نمائندگی بھی کی ہے۔ حکومت نے 9 اگسٹ کو پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ زائداز 14,000 روہنگیا جو یو این ایچ سی آر کے پاس درج رجسٹر ہیں، موجودہ طور پر ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ آج مرکز نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ روہنگیا مسلمان اِس ملک میں ’’غیر قانونی‘‘ تارکین وطن ہیں اور اُن کا لگاتار یہاں قیام قومی سلامتی کیلئے سنگین نوعیت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ مرکز کے حلفنامے کے مطابق جو فاضل عدالت کی رجسٹری میں داخل کیا گیا، ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور بس جانے کا بنیادی حق صرف شہریوں کو دستیاب ہے اور غیرقانونی پناہ گزین کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT