Tuesday , December 18 2018

میانمار میں 40 مسلمانوں کا قتل عام‘حکومت تماشائی

یانگون ۔ /23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بدھ راہبوں نے مسلمانوں کو پھر ایک مرتبہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور گزشتہ ہفتہ مغربی میانمار میں مسلح افراد نے ایک دیہات میں گھس کر مسلمانوں کو بری طرح زدوکوب کیا اور تقریباً 40 افراد کو ہلاک کردیا ۔ یہ لوگ چاقوؤں اور دیگر اسلحہ سے لیس تھے ۔ مقامی ذرائع اور نیٹ ورک کے ذریعہ مصدقہ طور پر انسانی ح

یانگون ۔ /23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بدھ راہبوں نے مسلمانوں کو پھر ایک مرتبہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور گزشتہ ہفتہ مغربی میانمار میں مسلح افراد نے ایک دیہات میں گھس کر مسلمانوں کو بری طرح زدوکوب کیا اور تقریباً 40 افراد کو ہلاک کردیا ۔ یہ لوگ چاقوؤں اور دیگر اسلحہ سے لیس تھے ۔ مقامی ذرائع اور نیٹ ورک کے ذریعہ مصدقہ طور پر انسانی حقوق گروپ نے یہ اطلاع فراہم کی ہے ۔ حکومت نے ہلاکتوں کی تردید کی اور کہا کہ روہنگیا مسلم دیہاتیوں کے حملے میں ایک پولیس سارجنٹ ہلاک ہوگیا ۔ حکومت نے کہا کہ مسلمانوں کے قتل عام کی اطلاع غلط ہے ۔ انسانی حقوق گروپ فورٹی فائی رائیٹس کے ایکزیکٹیو ڈائرکٹر میتھیو اسمتھ نے حکومت سے انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے والے ورکرس ‘ آزاد مبصرین اور صحافیوں کو شمالی رکھینے ریاست کے دوچریرتان دیہات تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہ گاؤں مکمل خالی ہوچکا ہے اور /14 جنوری کو پیش آئے اس واقعہ کے بعد اس کی ناکہ بندی کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی اس دیہات کے گھروں میں کئی نعشیں بے یار و مددگار پڑی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے روہنگیا میں مردوں اور بچوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 10 سال کے عمر کے بچوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اس طرح کی گرفتاریوں اور من مانی طور پر حراست میں لینے سے علاقہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ سلسلہ فوری ختم ہونا چاہیے ۔ اسمتھ نے کہا کہ وحشت ناک ہلاکتوں اور تشدد کی لہر کو روکنے کی ضرورت ہے

اور انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر مسلم مردوں اور بچوں کی گرفتاری اس مسئلہ کا حل نہیں ۔ میانمار میںبدھسٹوں کی اکثریت ہے اور یہاں کی آبادی تقریباً 60 ملین ہے ۔ یہ ملک گزشتہ دو سال سے نسلی تشدد کا شکار ہے ۔ دوچریرتان دیہات میں 40 مسلمانوں کے قتل عام کے بعد تشدد میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 280 سے متجاوز ہوگئی ہے ۔ اس کے علاوہ تقریباً ڈھائی لاکھ مسلمان اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کے مظالم پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ توقع ہے کہ اقوام متحدہ ازخود کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے میں اندرون ایک ہفتہ بیان جاری کرے گا ۔

TOPPOPULARRECENT