Wednesday , September 26 2018
Home / دنیا / میانمار کو روہنگیاؤں کی واپسی شہریوں کی قبولیت سے مشروط

میانمار کو روہنگیاؤں کی واپسی شہریوں کی قبولیت سے مشروط

سربراہ فوج کی جانب سے بازآبادکاری سے انکار ، روہنگیا مسلمانوں کی سخت مخالفت
یانگون۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) روہنگیا پناہ گزین ریاست راکھین کو اس وقت تک واپس نہیں آسکتے جب تک کہ میانمار کے ’’حقیقی شہری‘‘ انہیں قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہوجائیں۔ ملک کی فوج کے سربراہ نے کہا کہ آج حکومت کے عہد پر کہ مسلم بے گھر اقلیت کی بازآبادکاری کا آغاز کیا جائے گا، مشکوک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 6 لاکھ سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ مبینہ طور پر وہ میانمار کی فوج کی اگست کے اواخر میں شروع کردہ بے رحم مہم سے بچنے کیلئے میانمار سے فرار ہوکر پڑوسی ملک بنگلہ دیش پہونچے تھے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ کرۂ ارض کی جھلسا دینے والی کارروائی ہے جس میں سینکڑوں دیہاتوں کو جلا کر راکھ کردیا گیا۔ یہ واقعہ شمالی ریاست راکھین میں پیش آیا اور نسلی صفائے کے مترادف ہے۔ اقلیتوں کا اب کوئی وطن باقی نہیں رہا۔ میانمار کے سخت گیر سربراہ فوج من آنگ ہلائنگ سختی سے بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور پرزور انداز میں کہتے ہیں کہ فوجیوں نے صرف روہنگیا شورش پسندوں کو حملہ کا نشانہ بنایا ہے۔وہ بحران کے دوران ’’فیس بک‘‘ پر اپنے ایک مداح کو جو روہنگیا مخالف جذبات رکھتا ہے اور بدھ مت کا پیرو ہے ، انہوں نے کہا تھا کہ مسلمان غیرملکی مداخلت کار ہیں جو بنگلہ دیش سے میانمار کی ریاست راکھین کئی نسلوں پہلے منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیاؤں کی بازآبادکاری کیلئے اب بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسی وقت واپس آسکتے ہیں جبکہ بدھ اکثریت انہیں قبول کرلے جو میانمار کے اصل شہری ہیں۔ سربراہ فوج نے یہ بھی کہا کہ میانمار ، بنگلہ دیش میں مقیم تمام روہنگیاؤں کو واپسی کی اجازت نہیں دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی مجوزہ تعداد میانمار کیلئے ناقابل قبول ہے۔جنرل کا یہ تبصرہ حکومت کے بازآبادکاری کے تیقن کے ایک دن بعد سامنے آیا۔

TOPPOPULARRECENT