Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / میانمار کی فوجی کارروائی سے چالیس فیصد روہنگیا دیہات خالی

میانمار کی فوجی کارروائی سے چالیس فیصد روہنگیا دیہات خالی

یانگون ۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دیہاتوں کی ایک نمایاں تعداد جہاں ماضی میں روہنگیا مسلمان ساکن تھے اور جنہیں میانمار کی فوج نے حملوں کا نشانہ بنایا تھا، اب خالی ہوچکے ہیں۔ حکومت نے چہارشنبہ کے دن دیر گئے اس کا اعتراف کیا۔ حکومت کے ترجمان زاہتے نے کہا کہ جملہ 471 دیہات جو 3 صنعتی علاقوں میں واقع تھے، 25 اگست کو روہنگیا مسلمانوں پر فوج کے حملوں کا نشانہ بن گئے۔ ان میں سے 176 دیہات مکمل طور پر ان کے ساکن افراد نے ترک کردیئے ہیں جبکہ دیگر 34 دیہات جزوی طور پر خالی ہوچکے ہیں۔ زاہتے نے یہ بھی کہاکہ میانمار کی درپردہ قائد آنگ سان سوچی آئندہ ہفتہ روہنگیا پناہ گزین بحران کے موضوع پر قوم سے خطاب کریں گی۔ بین الاقوامی دباؤ تشدد روکنے کیلئے حکومت میانمار پر بڑھتا جارہا ہے۔ سوچی اپنے ٹیلیویژن پر خطاب میں منگل کے دن شمالی ریاست راکھین میں تشدد کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال پر اظہارخیال کریں گی۔ میانمار کی مسلم اقلیت پر تشدد کے نتیجہ میں تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار روہنگیا پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمہ کے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے اور پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کیا جاسکے۔ برطانیہ کے سفیر برائے اقوام متحدہ میتھیو رائی کراف نے قونصل کے صحافتی بیان میں جو بند دروازہ کے تبادلہ خیال کے بعد جاری کیا گیا تھا، کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے انتہائی طاقتور ادارہ کا اولین بیان ہے جو میانمار کی 9 سالہ صورتحال کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی کشتی بنگلہ دیش جاتے ہوئے دریائے ناف میں ڈوب گئی ۔ پولیس عہدیدار معین الدین خان نے کہا کہ ایک خاتون اور ایک بچے کی نعشیں برآمدکی جاچکی ہیں۔ بیشتر 35 مسافر جو کشتی میں سوار تھے، تیر کر کنارے کو پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ممکن ہیکہ یہ کشتی ٹیک ناف میں نیاپاڑہ کے قریب آدھی رات کے وقت ڈوبی ہوگئی۔ یہ علاقہ بنگلہ دیش کے جنوب بعید کنارے پر جو میانمار سے متصل ہے، واقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT