میانمار کی فوج پر روہنگیا باغیوں کا گھات لگاکر حملہ

ہندو پناہ گزین میانمار واپسی کیلئے بے چین ‘ فوج پر روہنگیائیوں کے مسلسل حملے جاری ‘کئی فوجی افسر زخمی

یانگون ۔ 7جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) روہنگیا باغیوں نے آج دعویٰ کیا کہ میانمارکی فوج پر گھات لگاکر حملہ انہوں نے کیا تھا ۔ ریاست راکھین کے شمالی علاقہ میں میانمار کی فوج پر گھات لگاکر حملہ کیا گیا تھا جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے ۔ یہ حملہ اُس علاقہ میں تشدد کے ذریعہ روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست سے فرار ہونے پر مجبور کردینے کے واقعہ کے کئی ہفتہ بعد پیش آیا ۔ گذشتہ اگست سے ریاست راکھین میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔ شورش پسندوں پر سلسلہ وار دھاؤں کے نتیجہ میں فوج سے انتقام لینے کا جذبہ پیدا ہوا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج مسلم روہنگیا اقلیت کی نسل کشی میں ریاست رکھین میں مصروف تھی ۔ فوج کی اس مہم سے 6,50,000 روہنگیا بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور کئے گئے ‘ جہاں پناہ گزینوں کی صورتحال بدترین ہیں ۔ عصمت ریزی ‘ قتل اور آتشزنی کے واقعات عروج پر ہیں ۔ فوج اور سراغ رسانوں پر میانمار میں باغی مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ میانمار کی فوج سختی سے راکھین کے بارے میں خبروں کو باہر جانے سے روک رہی ہے ۔ اس نے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ دہشت گردی کے خطرہ کو کچلنے کیلئے اس کا ردعمل باغیوں کی شورش کے تناسب میں ہے ۔ شورش پسند جنہیں اراکان روہنگیا فوج کی جانب سے کہا جاتا ہے ۔ حالیہ مہینوں میں کئی حملے کرچکے ہیں لیکن مبینہ طور پر فوج نے تقریباً 10 روہنگیا عسکریت پسندوں پر گھات لگاکر حملے کئے ہیں ۔ باغیوں نے ایک دیسی ساختہ کار کے ذریعہ جمعہ کی صبح میانمار کی فوج پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس سے کئی عہدیدار اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگئے ۔ عسکریت پسندوں نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ اتوار کے دن ان کے ٹوئیٹر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان شائع کیا گیا ہے ۔ تاہم بیان میں شمالی ریاست راکھین میں ابتر نظم و قانون کی صورتحال کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ فوج کے دھاؤں میں تقریباً 12افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ روہنگیا اپنے سیاسی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ‘ انہیں منظم جبر کا سامنا ہے جو برسوں سے میانمار میں بدھ مت کے پیرو ان پر کرتے آرہے ہیں ۔ اتوار کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روہنگیا عوام سے تمام فیصلہ سازیوں کے موقع پر مشورہ کیا جانا چاہیئے جن سے ان کی انسانی ضروریات اور سیاسی مستقبل متاثر ہوتا ہو لیکن گذشتہ ماہ بین الاقوامی بحران گروپ کی ایک رپورٹ کے بموجب میانمار میں از سرنو مذہبی خطوط پر صف آرائی ہورہی ہے اور اس کے نتیجہ میں روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں ابتر صورتحال کے باوجود مقیم ہیں اور اپنے وطن واپس آنا نہیں چاہتے ۔ کئی امدادی گروپس اور سفارت خانوں نے شک و شبہ ظاہر کیا ہے کہ روہنگیا اپنے وطن واپس ہونے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوں گے ۔ دریں اثناء کاکس بازار ( بنگلہ دیش) سے موصولہ اطلاع کے بموجب کئی ہندو برمی پناہ گزین جو بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں اپنے وطن میانمار واپسی کیلئے بے چین ہیں ۰ بنگلہ دیش میں اگست کے اواخر تک 6,55,000پناہ گزین پہنچ چکے تھے ۔ جن میں سے ہندو پناہ گزین میانمار کی ریاست راکھین کے روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ مقیم تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT