Monday , January 22 2018
Home / Top Stories / میانمار کی فوج کا ’روہنگیا مسلمانوں کی ہلاکتوں‘ میں ملوث ہونے کا اعتراف

میانمار کی فوج کا ’روہنگیا مسلمانوں کی ہلاکتوں‘ میں ملوث ہونے کا اعتراف

یانگون ۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کی فوج نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ریاست راکھین میں حالیہ کشیدگی کے دوران اس کے فوجی روہنگیا مسلمانوں کے قتل میں ملوث تھے۔میانمار کی فوج کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فوج کے چار اہلکاروں نے انڈن گاؤں میں دس لوگوں کو ہلاک کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں اہلکاروں نے دیہاتیوں کی ’ بنگالی دہشت گردوں‘ پر انتقامی حملے میں مدد کی۔گذشتہ ماہ میانمار کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ انڈن گاؤں کے نزدیک ایک قبر سے ملنے والے دس انسانی ڈھانچوں کی تحقیقات کرے گی۔ان تحقیقات کے نتائج کو فوج کے کمانڈر انچیف کے فیس بک صفحے پر جاری کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قتل عام دو ستمبر کو گیا گیا تھا۔رپورٹ میں فوج نے روہنگیا عسکریت پسندوں کو’ بنگالی دہشت گرد‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دیہاتیوں اور سکیورٹی فورسز نے دس بنگلی دہشت گروں کو ہلاک کیا۔اس کے ساتھ کہا گیا ہے کہ فوج ہلاکتوں میں ملوث اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔تاہم اس کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ بدھ مت دیہاتیوں کو دہشت گردوں نے دھمکی دی اور اشتعال دلایا تھا جس کے ردعمل میں یہ واقعہ پیش آیا۔میانمار پر الزامات ہیں کہ وہ راکھین ریاست میں نسل کشی کر رہا ہے اور گذشتہ برس اگست میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک مہینے کے دوران کم از کم 6700 روہنگیا افراد کو قتل کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT