Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / میانمار کے حالات روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کیلئے ناسازگار

میانمار کے حالات روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کیلئے ناسازگار

یانگون۔8اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) میانمار کا بحران شمالی ریاست راکھین میں روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش سے وطن واپسی کیلئے سازگار حالات نہیں رکھتا ۔ جبکہ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ان کی بازآبادکاری کے سلسلہ میں معاہدہ ہوچکا ہے ۔ تقریباً 7لاکھ روہنگیا مسلمان گذشتہ اگست سے اب تک فوج کی خونریز کارروائی سے بچنے کیلئے میانمار سے فرار ہوکر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ گزین کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ مبینہ طور پر میانمار کی فوج کے سپاہیوں نے روہنگیا مسلم خواتین کی جبری اجتماعی عصمت ریزی کی تھی اور بعد ازاں انہیں قتل کردیا تھا لیکن فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کو روہنگیا عسکریت پسندوں کے 25اگست کو حملہ کی جوابی کارروائی قرار دیتی ہے ۔ 25 اگست کو روہنگیاؤں کے حملہ میں تقریباً 12 سرحدی محافظ پولیس کے ارکان عملہ ہلاک کردیئے گئے تھے ۔ میانمار اور بنگلہ دیش نے نومبر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ان کی بازآبادکاری کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے ‘ تاہم ارسلامونے جو اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کے دفتر میں برسرکار ہے اپنے چھ روزہ دورہ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شمالی ریاست راکھین کا دورہ کیا ہے جبکہ ان کا احساس ہے کہ میانمار کو آزادنہ نقل و حرکت ‘ سماجی اتحاد اور خدمات تک رسائی جیسے اہم مسائل کی یکسوئی کرنا ضروری ہے ۔ کئی سال سے بے گھر مسلم اقلیت بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی زندگی گذار رہی ہے ‘ انہیں ناگفتہ بہ حالت میں زندگی گذارنا پڑرہا ہے ۔ ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے ۔ انہیں تعلیم کے محدود مواقع حاصل ہیں اور حفظان صحت کے بھی بہتر مواقع دستیاب نہیں ہے ۔ اگر ان تمام مسائل کی یکسوئی ہوجائے تو روہنگیا پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹنے اور ریاست راکھین میں بازآبادکاری کیلئے تیار ہیں ۔ راکھین میں روہنگیاؤں کیلئے اسپتال اور کلینک قائم کئے جانے چاہیئے ۔ انہوں نے سرکاری ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ کرسکتے تھے وہ ہم نے کردیا ہے ‘ ہمارا احساس ہے کہ مزید کوئی کام انجام دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ اہم مسائل کی جلد از جلد یکسوئی کرے تاکہ روہنگیا پناہ گزین اپنے وطن واپس آسکیں ۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے نمائندے ملر نے بھی میانمار کا دورہ کیا تھا اور روہنگیا مسلمانوں سے بات چیت کی تھی جو بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں قابل مذمت حالات میں زندگی گذار رہے ہیں ۔ چھ سال قبل انہیں اپنے وطن سے فرار ہونے پر میانمار کی فوج نے مجبورکردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT