Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / میاں پور اراضی معاملت کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا انتباہ

میاں پور اراضی معاملت کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا انتباہ

گورنر کو بھی یادداشت پیش کرنے کا اعلان، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 10 جون (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ عوام تخت اور تختہ کے ہنر سے بخوبی واقف ہے۔ اگر پسند کرتے ہیں تو اقتدار کے تخت پر بیٹھا دیتے ہیں۔ اگر نفرت کرتے کرتے ہیں تو پھانسی کے تختے تک پہنچا دیتے ہیں۔ بغیر کسی تاخیر کے چیف منسٹر کے سی آر میاں پور اراضی اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کروائے بصورت دیگر کانگریس پارٹی اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔ گورنر کو یادداشت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے بھی رجوع ہونے سے گریز نہیں کرے گی۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر ترجمان اے آئی سی سی مدھوگوڑیشکی اور کانگریس کے رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی بھی موجود تھے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ میاں پور اراضی اس ملک کا سب سے بڑا اسکام ہے جہاں 15 ہزار کروڑ روپئے ہڑپ لئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بنڈہ گوڑہ، ابراہیم پٹنم، شمس آباد اور قطب اللہ پور میں بھی بڑے پیمانے پر اراضی اسکامس منظرعام پر آرہے ہیں۔ چیف منسٹر کے آفس سے اراضی اسکامس کے تار جڑے ہوئے ہیں۔ ٹی آر ایس کے قائدین اور چیف منسٹر کے ارکان خاندان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ لہٰذا عوامی عدالت میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کیلئے چیف منسٹر سارے اراضی اسکامس کی سی بی آئی تحقیقات کرائے۔ میاں پور اراضی اسکام کی حکومت نے سی آئی ڈی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کو سی آئی ڈی تحقیقات پر بھروسہ نہیں ہے۔ ماضی میں ووٹ برائے نوٹ، گینگسٹر نعیم اور ایمسیٹ پرچوں کے افشاء کی تحقیقات سی آئی ڈی کے ذریعہ کرائی گئی تھی جس کے نتائج آج تک منظرعام پر نہیں آئے۔ کے سی آر نے سینہ ٹھوک کر ووٹ برائے نوٹ معاملے میں چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کو جیل بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ گینگسٹر نعیم انکاؤنٹر پر بھی بلند بانگ دعوے کئے گئے جو کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا حکومت سی بی آئی تحقیقات کرائے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی کی قیادت میں کانگریس کے قائدین نے میاں پور کا دورہ کیا۔ دوسرا وفد اراضی کی رجسٹری منسوخ کرنے کیلئے سی سی ایل اے سے تحریری نمائندگی کرچکا ہے۔ ضلع رنگاریڈی کے کانگریس قائدین احتجاج کررہے ہیں۔ بہت جلد کانگریس کا وفد راج بھون پہنچ کر گورنر نرسمہن کو بھی یادداشت پیش کرے گا۔ اگر حکومت کی جانب سے سی بی آئی تحقیقات نہ کرانے کی صورت میں عدلیہ سے بھی رجوع ہوں گے۔ دامودھر راؤ ٹی آر ایس کے قائد ہے اور ایک کروڑ کی گاڑی میں گھوم رہے ہیں جن کا بغیر کسی رکاوٹ کے چیف منسٹر کے گھر میں آنا جانا ہے۔ وہ بھی اسکام میں ملوث ہے۔ ٹی آر ایس کے سکریٹری جنرل و رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور ان کے ارکان خاندان بھی ابراہیم پٹنم کے اراضی اسکام میں ملوث ہیں۔ ان سب کی تحقیقات ضروری ہے۔ کانگریس پارٹی خاموش تماشائی نہیں رہے گی بلکہ اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT