Friday , November 17 2017
Home / مضامین / میت کے بال و ناخن دراز ہونا

میت کے بال و ناخن دراز ہونا

سوال :  ایک شخص کا انتقال ہوا ، وہ ایک عرصہ سے بیمارتھا، اس کے سر اور مونچھ کے بال بڑھ گئے تھے اور ناخن بھی کافی دراز ہوچکے تھے۔ غسل کے وقت مختلف احباب نے مشورہ دیا کہ ان کے بال اور ناخن کم کئے جائیں۔ خاندان کے قریبی لوگ پس و پیش میں رہے بالآخر غسال نے صرف مونچھ کے بال کم کئے اور ناخن اور سر کے بالوںکو ہاتھ نہ لگایا۔ ایسی صورت میں شرعاً کسی امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے ؟
محمد افسر، ملک پیٹ
جواب :  شرعاً میت کے نہ سر کے بال کاٹے جائیں گے اور نہ مونچھ اور نہ ہی ناخن تراشے جائیں گے بلکہ اسی حالت میں تدفین کی جائے گی۔ عالمگیری جلد اول ص : 158 میں ہے : ولا یسرح شعر المیۃ ولا للحیتہ ولا یقص ظفرہ ولا شعرہ کذا فی الھدایۃ ولایقص شاربہ ولا ینتف ابطہ ولا یحلق شعر عانتہ و یدفن بجمیع ماکان علیہ کذا فی محیط السرخسی۔

عدت گزرنے کے بعد طلاق کا علم ہونا
سوال :  زید کا نکاح رشیدہ سے ہوا ، نکاح کے بعد سے ہی دونوں میں اختلافات شروع ہوگئے۔ شادی کے بعد ایک مہینہ رہا ، اس کے بعد بیرون ملک نوکری کیلئے واپس ہوگیا ۔ بعدہ رشیدہ کچھ دن اپنے سسرال میں رہی، اختلافات کے بڑھ جانے کی وجہ سے رشیدہ اپنے میکے واپس ہو گئی اور بات چیت ، تعلقات سب منقطع ہوگئے۔ ایک سال اس کشمکش میں گزر گیا ۔ رشیدہ کے والدین کواطلاع ہوئی کہ زید کیلئے رشتہ کی تلاش جاری ہے ۔ انہوں نے رشیدہ کیلئے بھی پیام دیکھنا شروع کردیا اور ایک موزوں رشتہ طئے پایا، قاضی صاحب سے رجوع ہونے پر قاضی صاحب نے اطلاع دی کہ شوہر سے طلاق ضروری ہے۔ طلاق کی عدت ختم ہونے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح درست ہے۔ زید کے افراد خاندان سے مطالبہ کیا گیا کہ زید رشیدہ کو طلاق دیدے۔ زید کے والدین نے اطلاع دی کہ جس وقت رشیدہ گھر چھوڑ کر گئی ، اسی وقت رشیدہ کو زید نے طلاق دیدی۔ بعد ازاں زید نے اس کی توثیق کردی اور تحریر روانہ کی ہے ۔ سوال یہ ہیکہ اب رشیدہ پر طلاق کا علم ہونے کے بعد سے عدت کا لزوم ہوگا یا وہ عدت کے بغیر دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔
نام مخفی
جواب :  بشرطِ صحت سوال زید نے رشیدہ کوطلاق دیدی اور عدت طلاق کی مدت ختم ہونے کے بعد رشیدہ کو طلاق کا علم ہوا تو ایسی صورت میں رشیدہ پر مزید عدت کا لزوم نہیں، اس کی عدت طلاق ختم ہوچکی ہے ۔ وہ بشرطِ ثبوت و اقرار دوسرے شخص سے  نکاح کرسکتی ہے کیونکہ طلاق اور وفات دونوں کی عدت کا اعتبار طلاق اور وفات کے فوری بعد سے ہوتا ہے۔
سفر میں قصر کے لئے شوہر کی نیت کا اعتبار
سوال :  ہم لوگ گرما کی تعطیلات میں ہمارے خالہ کے گھر دس دن کیلئے دوسرے شہر گئے تھے، والد صاحب ہم کو چھوڑ کر واپس ہوگئے ، ہم سب اور ہماری والدہ خالہ کے پاس بیس دن رہنے کا پلان کر رہے تھے لیکن والدہ صاحب آمادہ نہیں تھے، ہمیں یقینے تھا کہ والد صاحب ہماری بات مان لیںگے لیکن وہ ایک ہفتہ کے بعد دوبارہ خالہ کے گھر آئے اور دو دن ٹھہرے اور ہم ان کے ساتھ بالآخر واپس ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ ہم لوگ خالہ کے گھر میں مکمل نماز پڑھ رہے تھے ، کچھ نمازیں قضاء ہوگئیں۔ اب ان کو ادا کرناہے ۔ کیا ہم بیس دن رہنے کی نیت کے اعتبار سے مکمل ادا کریں یا والدصاحب کے دس دن کے پروگرام کے مطابق قصر کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ ہم سب والد ہی کے زیر کفالت ہیں اور ان کے تابع ہیں۔
آمنہ شیریں، حیدرآباد
جواب :  اگر کوئی سفر کرے اور کسی دوسرے شہر میں پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو تو وہ مقیم کہلائے گا اور مکمل نمازیں پڑھے گا، قصر نہیں کرے گا اور اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ مسافر ہی رہے گا اور چار رکعت والی نمازیں ہی قصر کرے گا۔ شوہر اور بیوی اپنے بچوں کے ساتھ سفر کریں اور شوہر پندرہ دن سے کم کی نیت کرے اور اس کی بیوی پندرہ دن سے زائد کی نیت کرے تو ایسی صورت میں شوہر کی نیت کا اعتبار رہے گا ۔ بیوی اور بچے جو کہ والد کی زیر کفالت ہیں۔ ان کی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔ عالمگیری جلد اول ص: 141 میں ہے : الاصل ان من یمکنہ الاقامۃ باختیارہ یصیر مقیما بنیۃ نفسہ ومن لا یمکنہ الاقامۃ باختیارہ لایصیر مقیما بنیۃ نفسہ حتی ان المرأۃ اذا کانت مع زوجھا فی السفر والرقیق مع مولاہ والتلمیذ مع استاذہ والأ جیر مع مستاجرہ والجندی مع امیرہ وھو لاء لا یصیرون مقیمین بنیۃ انفسھم فی ظاھر الرولیۃ کذا فی المحیط۔ لہذا سفر کے دوران قضاء ہوئی ۔ نمازیں، اپنے شہر پہنچنے کے بعد ادا کی جائیں تو سفر کے لحاظ ہی سے قصر کی جائے گی۔ مکمل نہیں۔

نماز استسقاء
سوال :  حال ہی میں حیدرآباد میں نماز استسقاء کا اہتمام ہوا، مختلف باتیںاور سوالات کئے گئے۔ ادباً التماس ہیکہ نماز استسقاء کے تفصیلی احکام بیان کئے جائیں تاکہ عوام الناس اس کی افادیت اوراحکام سے واقف ہو۔
عبدالمنان، یاقوت پورہ
جواب :  استسقاء کی تعریف: (1) استسقاء کہتے ہیں طلب باراں کو اور اصطلاح شرع میں خشک سالی کے وقت اللہ تعالیٰ سے بطریق مخصوص مینہ طلب کرنا استسقاء کہلاتا ہے ۔ گویا استسقاء دعاء اور استغفار (گناہوں سے معافی چاہنا یا درخواست مغفرت) ہے۔ (2) استغفار ازروئے نص قرآنی مینہ برسنے کا سبب ہے، چنانچہ ارشاد ہے : استغفروا ربکم انہ کان غفارا یرسل السماء علیکم مدرارا (مغفرت چاہو اپنے رب سے کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے تم پر کثرت سے مینہ برسائے گا) ۔ (آیت 10 ، 11 : سورہ نوح)
محل استسقاء ۔ (1) جہاں تالاب ، کنٹے ، نہر ، باؤلی وغیرہ آدمیوں کے پانی پینے ، جانوروں کے پلانے اور کھیتوں کے سینچنے کو نہ ہوں یا ہوں مگر ان میں پانی بقدر کافی نہ ہو اور اس کی شدید  ضرورت ہو وہاں استسقاء مشروع ہے (یعنی ایسے مقام کے لوگ بارگاہ ایزدی میں بارش کیلئے دعاء مانگیں) (2) جہاں تالاب و غیرہ موجود ہوں اور پانی کافی ہو تو پھر استسقاء کیلئے نہ نکلیں کیونکہ استسقاء شدت ضرورت ہی کے وقت مشروع ہے۔
طریق استسقاء : (1) استسقاء کیلئے مستحب یہ ہے کہ بادشاہ وقت لوگوں کو حکم دے کہ تین روز تک روزہ رکھیں، گناہوں سے توبہ کریں۔ مظالم سے باز آئیں۔ حقداروں کے حقوق ادا کریں پھر چوتھے روز ضعیفوں اور بچوں کو لے کر صحراء کی طرف نکلیں۔ اس طرح کہ سب پھٹے پرانے پیوند لگے مگر پاک کپڑے پہنے پاپیادہ سروں کو جھکائے ہوئے چلیں تاکہ ان کی صورتوں سے بھی عاجزی ، مسکنت ، خشوع و خضوع ظاہر ہو (برہنہ سر اور برہنہ پا ہوں تو بہتر ہے) اور گھروں سے نکلنے کے پہلے مقدور موافق خیر خیرات کریں۔ از سر نو توبہ و استغفار کرلیں۔ مسلمانوں کیلئے دعائے مغفرت کریں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔ اسی طرح برابر تین روز تک صحرا کی طرف نکلیں اور ہر روز کمزوروں ، ضعیفوں اور بچوںکو ضرور ہمراہ لیں۔ یہ بھی حکم ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوںکو ان کی ماؤں سے دوررکھیںتاکہ بچوں کے رونے چلانے اور فریاد و زاری کرنے سے لوگوںکو رقت ہو اور اس کی وجہ سے دریائے رحمت باری جوش میں آجائے ۔ نیز جانوروں کو بھی ساتھ لے جانا مستحب ہے اوران کے بچوں کوبھی ان کی ماؤں سے جدا رکھناچاہئے۔
استسقاء اور نماز و خطبہ : (2) استسقاء میں جماعت کے ساتھ نماز مسنون نہیں ہے (علحدہ علحدہ پڑھ لیں تو مضائقہ نہیں) اور اس میں خطبہ بھی نہیں (صرف دعاء و استغفار ہے) اور چادر لوٹانابھی نہیں۔ یہ مذہب حضرت امام اعظم کا ہے لیکن صاحبین کے پاس مسنون ہے کہ امام جماعت سے (بلا اذان و اقامت) دو رکعت نماز پڑھائے اور دونوں رکعتوں میں قراء ت جہر سے کرے اور افضل یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری رکعت میں ھل اتک حدیث الغاشبۃ پڑھے اور نماز کے بعد (تلوار یا عصاء پر سہارا دیکر زمین پرکھڑا ہو اور لوگوں کی طرف منہ کر کے دو خطبے پڑھے اوردونوں خطبوں کے درمیان جلسہ کرے اور اگر چاہے ایک ہی خطبہ پڑھے۔ (خطبہ میں دعاء ، تسبیح ، استغفار اور مسلمانوں کیلئے دعائے مغفرت ہو) جب تھوڑا سا خطبہ پڑھ چکے تو اپنی چادر لوٹائے، اس طرح کہ (چادر مربع ہو تو اوپر کا رخ نیچے اور نیچے کا رخ اوپر کرے یا (مدور ہو تو ) داہنیطرف کا کنارہ بائیں طرف اور بائیں طرف کا کنارہ داہنیطرف کرلے( چادر صرف امام لوٹائے ۔ مقتدی نہ لوٹائیں)۔ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے۔ (3) جب امام خطبہ سے فارغ ہو تو قبلہ کی طرف منہ کر ے پھر اپنی چادر کو لٹائے اور کھ ڑے ہوئے استسقاء کی دعاء میں مشغلوں ہو۔ (4) مقتدی خطبہ اور دعاء دونوں وقت قبلہ کی طرف منہ کے بیٹھے رہیں۔ خطبہ کے وقت خاموش رہیں اور دعاء کے وقت آمین کہتے جائیں۔ (5) امام کو چاہئے کہ کمزوروں ، ضعیفوں اور بچوں کا واسطہ دیکر دعاء مانگے اور دعاء کے وقت اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ ہاتھوں کو خوب بلند کرے۔ اسی طرح اور لوگ بھی ہاتھ ا ٹھائیں۔ (6) دعاء کیلئے ہاتھ اس طرح اٹھائے جائیں کہ ہتھیلیاں زمین کی طرف ہوں اوران کی پشت آسمان کی طرف (برخلاف اور دعاؤں کے) ۔ (7) استسقاء کی دعاء ماثورہ ہو یعنی ان دعاؤں سے کوئی دعاء کی جائے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ مثلاً : اللھم اسقنا غیثاً مغیثاً مریعاً نافعاً غیر ضار عاجلاً غیر آجل ۔ (8) اگر استسقاء کو نکلنے سے پہلے بارش شروع ہو تو بھی مستحب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر صحرا کی طرف بھیگتے ہوئے چلے ج ائیںتاکہ باران رحمت میں زیادتی ہو اور خاطر خواہ مینہ برسے۔ (9) اگر بارش کثرت سے ہو اور لگاتار سلسلہ جاری رہے جس سے نقصان کا خوف ہو تو اس کے بند ہونے کی دعاء کرنا جائز ہے ۔ اس کی ماثورہ دعاء یہ ہے ۔ اللھم حوالینا ولا علینا اللھم علی الاکام والاحکام والطراب والاودیۃ و منابت الشجر۔

چھبیس سال بعد مہر ادا کرنا
سوال :  میری شادی 1985 ء میں ہوئی۔ میرا مہر موجل 2,500 روپئے اور 2 دینار شرعی ہے۔ مجھے آج کی تاریخ میں بیوی کو کتنا مہر ادا کرنا ہوگا۔ میری بیوی کا کہنا ہے کہ اس وقت آپ کو 500 روپئے تنخواہ تھی۔ آج 24000/- روپئے ہے۔ اس لحاظ سے میرا مہر بھی زیادہ چاہئے۔ مجھے شرعی نقطہ نظر سے کتنا مہر ادا کرنا ہوگا ؟
عبدالمعز،پھسل بنڈہ
جواب :  مہر مؤجل (دیر طلب مہر) در حقیقت شوہر کے ذمہ قرض ہے اور عرصہ دراز قبل لیا گیا قرض بوقت ادائیگی حسبہ ادا کیا جائے گا ۔ وقت کے گزرنے سے، سالہا سال کے بیت جانے سے، آمدنی کے بڑھ جانے کی وجہ سے مقررہ مہر اضافہ نہیں ہوگا۔ لہذا 1985 ء میں باندھا گیا مہر اب ادا کیا جارہا ہے تو اسی کے بقدر دو ہزار پانچ سو روپئے معہ دو دینار شرعی (چھ ماشے دو رتی سونا) ادا کیا جائے گا ۔ بیوی کا ادعاء کہ جب آمدنی کم تھی آج زیادہ ہے شرعاً معتبر نہیں۔ واضح رہے کہ ایک دینار شرعی تین ماشے ایک رتی سونے کے برابر ہوتا ہے ۔ نیز بوقت ادائیگی سونے کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT