Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / میت کے گھر اور نماز جنازہ کے موقع پر چوکس رہنا ضروری

میت کے گھر اور نماز جنازہ کے موقع پر چوکس رہنا ضروری

غم سے بے حال افراد سارقین کا نشانہ، مساجد میں بھی اعلانات
حیدرآباد۔19نومبر(سیاست نیوز) شہر میں بیشتر جنازہ اور نماز جنازہ کے موقع پر سارقین سے چوکنا رہنے کے اعلانات عام ہوتے جارہے ہیں ۔ میت کے گھر اور مساجد میں نماز جنازہ کے دوران سرقہ کے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ نماز جنازہ کے دوران سرقہ کرنے والوں کی ٹولیاں شہر کی بڑی مساجد میں آنے والے جنازوں پر نگاہیں مرکوز کئے ہوتے ہیں اور ان کا نشانہ مغموم افراد خاندان اور انہیں سنبھالنے والوں کے علاوہ پرسہ دینے کیلئے پہنچنے والے افراد ہوتے ہیں ۔ جامع مسجد چوک‘ شاہی مسجد باغ عامہ‘ مکہ مسجد کے علاوہ شہر کی دیگر مساجد میں بھی جنازہ کے وقت یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اپنے پرس‘ جیب اور موبائیل فون کی حفاظت کریں ۔ بتایاجاتاہے کہ مساجد میں موجود جیب کترو ںکی ٹولیوں میں زنانہ سارقین بھی شامل ہیں جو پرسہ دینے والوں کے بھیس میں میت کے گھروں میں داخل ہوتی ہیں اور ان کا نشانہ معمولی گھریلو اشیاء ہوتی ہیں جو کہ بہ آسانی چوری کی جا سکتی ہیں۔میت کے گھروں اور جنازو ںمیں پیش آنے والے سرقہ کے ان واقعات میں ملوث ٹولیوں کا پتہ چلانے میں پولیس کو ہونے والی ناکامی کی بنیادی وجہ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ میت کے گھر میں ہونے والے سرقہ کا پتہ فوری نہیں لگ پاتا اور جنازو ں میں سیل فون یا پرس کی چوری کی شکایت بھی فوری وصول نہیں ہوتی اسی لئے فوری طور پر کاروائی کرنا دشوار ہوتا ہے ۔محکمہ پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب شہر کے مرکزی مقامات اور مساجد کے باہر بھی سی سی ٹی وی کی موجودگی کے سبب سارقین کا پتہ چلانا دشوار نہیں رہا اسی لئے متاثرین کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی صور ت میں پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے شکایت درج کروائیں تاکہ سارقین کی ان ٹولیوں کو گرفتار کیا جاسکے۔بتایاجاتا ہے کہ شہر کی بیشتر مساجد میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے اور مساجد کمیٹیاں خودسی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنارہی ہیں تو ایسی صورت میں ان سارقین کی گرفتاری ممکن ہوسکتی ہے اسی لئے سرقہ کا شکار ہونے والوںکو خاموشی اختیار کرنے کے بجائے انہیں شکایت درج کروانی چاہئے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں آئے دن جنازہ کے دوران پاکٹ مارنے اور موبائیل فون غائب کردیئے جانے کی شکایت عام ہونے لگی ہے۔چند برس قبل اس طرح کی متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد محکمہ پولیس کی جانب سے جنازوں میں شامل جرائم پیشہ نوجوانوں پر نظر رکھی جانے لگی تھی جس کے سبب طویل مدت تک اس طرح کے واقعات بند ہوچکے تھے لیکن اب دوبارہ یہ واقعات عام ہونے لگے ہیں جس کے سبب نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ مساجد کے ذمہ داروں میں بھی تشویش کی لہر پائی جانے لگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT