میدک سے کانگریس کی شکست کو صدر تلنگانہ پی سی سی نے قبول کرلیا

حیدرآباد /17 ستمبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے میدک میں پارٹی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ عوام کا فیصلہ قابل قبول ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے مقابلہ میں ضمنی انتخابات میں کانگریس کو 1.2 فیصد ووٹوں کا نقصان ہوا ہے، جس کی وجہ رائے دہی کا تناسب کم ہونا ہے۔ علاوہ ازیں ک

حیدرآباد /17 ستمبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے میدک میں پارٹی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ عوام کا فیصلہ قابل قبول ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے مقابلہ میں ضمنی انتخابات میں کانگریس کو 1.2 فیصد ووٹوں کا نقصان ہوا ہے، جس کی وجہ رائے دہی کا تناسب کم ہونا ہے۔ علاوہ ازیں کانگریس نے تنہا مقابلہ کیا، جب کہ حکمراں ٹی آر ایس کو سی پی آئی، سی پی ایم اور مجلس کی تائید حاصل تھی، اس کے باوجود کانگریس امیدوار سنیتا لکشما ریڈی دوسرے نمبر پر رہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کی تائید تلگودیشم اور ایم آر پی ایس نے کی، پھر بھی وہ تیسرے نمبر پر رہی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوامی رائے کا احترام کرتی ہے، بہت جلد جائزہ لے کر پارٹی کی کمزوریوں کو دور کرلیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی کے لئے کامیابی اور ناکامی کوئی نئی بات نہیں ہے، کانگریس ایک عوامی جماعت ہے، سب کچھ بھول کر وہ عوام میں گھل مل جائے گی اور عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے اپنی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ مسٹر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ نتائج سے کانگریس پارٹی خوف زدہ نہیں ہے اور نہ ہی عوامی مسائل پر کوئی سمجھوتہ کرے گی، بلکہ عوامی شعور بیدار کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی اور ٹی آر ایس کے منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکمرانی کے 100 دن مایوس کن رہے، جس کی وجہ سے سماج کا کوئی طبقہ مطمئن نہیں ہے۔ کسان، خواتین، طلبہ، معذورین، معمرین اور ایمپلائز سب کے سب پریشان ہیں اور ٹی آر ایس انھیں اعتماد میں لینے میں پوری طرح ناکام ہو گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT