Wednesday , December 19 2018

میدک میں دلخراش حادثہ ‘ٹرین کی اسکول بس کو ٹکر ‘ 24 طلبا ہلاک

حیدرآباد 24 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ضلع میدک کے ماسائی پیٹ گاؤں میں ایک بے پہرہ ریلوے کراسنگ پر پیش آئے دلخراش حادثہ میں 24 اسکولی طلبا ہلاک اور دوسرے شدید زخمی ہوگئے ۔ یہاں ایک اسکولی بس کو تیز رفتار ٹرین نے ٹکر دیدی ۔ یہ تمام توپران میں کاکتیہ ٹکنو اسکول کے طلبا تھے ۔ حادثہ صبح 9 بجکر 10 منٹ پر پیش آیا جب اسکولی بس بے پہرہ ریلوے کراسنگ س

حیدرآباد 24 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ضلع میدک کے ماسائی پیٹ گاؤں میں ایک بے پہرہ ریلوے کراسنگ پر پیش آئے دلخراش حادثہ میں 24 اسکولی طلبا ہلاک اور دوسرے شدید زخمی ہوگئے ۔ یہاں ایک اسکولی بس کو تیز رفتار ٹرین نے ٹکر دیدی ۔ یہ تمام توپران میں کاکتیہ ٹکنو اسکول کے طلبا تھے ۔ حادثہ صبح 9 بجکر 10 منٹ پر پیش آیا جب اسکولی بس بے پہرہ ریلوے کراسنگ سے گذر رہی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا بس میں اسلام پور اور ذاکر پلی گاووں کے 40 طلبا بس میں سوار تھے اور اسکول جا رہے تھے ۔ ٹرین کی رفتار اور حادثہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹکر کے بعد ٹرین بس کو 500 میٹر تک گھسیٹ کر لے گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ہر روز کی طرح آج صبح بھی کاکتیہ ٹیکنو اسکول توپران کی اسکول بس اسلامپورہ کشٹا پور، وینکٹا پور، ماسائی پیٹ اور دیگر مواضعات سے طلباء و طالبات کو لے کر اسکول جارہی تھی کہ اسلام پورہ اور ماسائی پیٹ کے درمیان ریلوے لائن پر ناندیڑ حیدرآباد پاسنجر ٹرین کی زد میں آگئی۔ حادثہ اتنا خطرناک تھا کہ ٹکر کے بعد بس کے پرخچے اُڑ گئے اور بس ملبے کو انجن تقریباً ایک کیلومیٹر تک گھسیٹ لے کر گیا۔ حادثہ میں بیشتر اسکولی طلبا برسر موقع ہلاک ہوگئے جبکہ 18 طلبہ حیدرآباد کے ہاسپٹل میں شدید زخمی حالت میں زیرعلاج ہیں۔ مقام حادثہ پر طلباء کی نعشیں بکھری پڑی ہوئی تھیں اور انتہائی دلخراش مناظر دیکھے گئے۔ برسر موقع پر ہلاک طلباء کی نعشیں بغرض پوسٹ مارٹم ایریا ہاسپٹل میدک منتقل کی گئیں۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی چیف منسٹر ریاست تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع انتظامیہ کو فوری راحت کاری اقدامات کرنے اور زخمیوں کی جان بچانے کیلئے انہیں بہترین کارپوریٹ ہاسپٹل میں داخل کروانے کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے اپنے دیگر پروگرامس کو منسوخ کرکے فوری مقام حادثہ پر پہنچ گئے جبکہ زخمی طلبہ کی مدد کیلئے ریاستی وزراء پدما راؤ اور مہیندر ریڈی نے یشودھا ہاسپٹل اور بالاجی ہاسپٹل میں انتظامات کی نگرانی کی۔ رکن پارلیمنٹ نظام آباد کویتا نے ایریا ہاسپٹل میدک پہنچ کر متوفی طلبہ کے ورثا سے ملاقات کرکے اظہار تعزیت کیا۔ ضلع کلکٹر ڈاکٹر شرتھ نے حادثہ پر ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو روانہ کی۔ حادثہ کے بعد راحتی انتظامات میں محکمہ پولیس ریوینیو، صحت کے عہدیداروں نے حصہ لیا۔ 20 ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعہ متوفی طلبہ کی نعشیں اور زخمی طلبہ کو مختلف دواخانوں کو منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بس ڈرائیور کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ کاکتیہ ٹیکنو اسکول کی اسکول بس جس کا نمبر AP 23X5349 نے 38 طلبہ کو مختلف مواضعات سے لینے کے بعد اسلام پورہ اور ماسائی پیٹ کے درمیان واقع ریلوے کراسنگ جس پر کوئی ریلوے ملازم تعینات نہیں ہے، پہنچی اور بس ڈرائیور ریل کی آمد پر غور کئے بغیر بس کو ریلوے لائن پر لے کر گیا۔ اتنے میں ناندیڑ سے حیدرآباد جانے والی پاسنجر ٹرین نمبر 57564 تیزی کے ساتھ آئی اور بس کو ٹکر دے دی۔ اس حادثہ میں ہلاک ہونے والے طلباء کی سمن، ومشی، چنتلا، دیویا، ودیا، چرن، مہیش، رضیہ ، وحید ، شروتی، ورون اور مہیش گوڑ کی حیثیت سے کی گئی ان میں روضیہ اور وحید دونوں بہن بھائی ہیں جوکہ موضع کشٹا پور کے متوطن ہیں۔ رضیہ اور وحید کے ہلاک ہونے کی خبر سن کر صدمے سے ان کے والد کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کرجانے کی اطلاع ہے۔ مذکورہ بس میں ہلاک بیشتر طلبا و طالبات آپس میں بھائی بہن ہیں۔ ایک خاندان کے تین بچے اس حادثہ میں ہلاک ہوئے۔ مقام حادثہ پر بچوں کے والدین اور رشتہ داروں کی آہ و بکا سے ماحول مغموم ہوگیا۔ حادثہ کے فوری بعد اطراف و اکناف کے ہزارہا افراد مقام حادثہ پر جمع ہوگئے اور ریلوے لائن سے متصل حیدرآباد تا نظام آباد قومی شاہراہ پر راستہ روکو احتجاج منظم کرکے اسکول انتظامیہ اور ریلوے کے خلاف نعرے بلند کئے۔ ساؤتھ سنٹرل ریلوے جنرل منیجر سریواستو نے بتایا کہ ریلوے لیول کراسنگ نمبر 233-C پرما سائی پیٹ کے قریب حیدرآباد نظام آباد ریلوے لائن پر پیش آیا جس کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ایک ہفتہ 640 ریلوے گیٹس پر ملازمین کو تعینات کیا جائے گا۔ متوفی طلباء رضیہ اور وحید کے والد کا نام غنی خاں بتایا گیا جو صدمے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ وزیراعظم نریندر مودی، صدر کل ہند کانگریس کمیٹی سونیا گاندھی، نائب صدر کانگریس راہول گاندھی اور دیگر قائدین نے حادثہ پر اظہار افسوس کیا۔ مقام حادثہ کا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی پونالہ لکشمیا، کانگریس رکن اسمبلی گیتا ریڈی، صدر وائی ایس آر کانگریس جگموہن ریڈی نے دورہ کرکے متوفی طلبہ کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور ڈپٹی چیف منسٹر راجیہ اور نرسمہا ریڈی وزیر داخلہ نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

TOPPOPULARRECENT