Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / میدک کے ضمنی انتخاب میں سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کا الزام

میدک کے ضمنی انتخاب میں سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کا الزام

کانگریس امیدوار کو ہمدردی کے ووٹ، ای دیاکر راؤ کا بیان

کانگریس امیدوار کو ہمدردی کے ووٹ، ای دیاکر راؤ کا بیان
حیدرآباد /16 ستمبر (سیاست نیوز) تلگودیشم کے سینئر رکن اسمبلی ای دیاکر راؤ نے کہا کہ میدک کے ضمنی انتخاب میں حکمراں ٹی آر ایس طاقت اور سرکاری مشنری کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کامیاب ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بی جے پی کے سخت مقابلہ کی امید تھی، تاہم کانگریس امیدوار مسز سنیتا لکشما ریڈی ایک اچھی قائد ثابت ہوئیں، جن کا ضلع میں اچھا نام ہے، جب کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم کے دوران ان کی توہین کی، جس کی وجہ سے انھیں ہمدردی کے ووٹ ملے اور وہ دوسرے مقام پر پہنچ گئیں۔ انھوں نے کہا کہ تلگودیشم اپنی انتخابی مہم کا جائزہ لے گی اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے کامیابی ضرور حاصل کی، مگر اس کی اکثریت گھٹ گئی ہے، جو ٹی آر ایس کے زوال کا اشارہ ہے، جب کہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم امیدوار نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے عوامی اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ مسٹر دیاکر راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اقتدار کے 100 دن مکمل کرنے کے باوجود اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے، جس کی تلگودیشم سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسان اور طلبہ پریشان ہیں، لہذا چیف منسٹر تلنگانہ کو چاہئے کہ فوراً اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے عوامی مسائل پر غور اور اس کی یکسوئی کے لئے ضروری اقدامات کریں، بصورت دیگر تلگودیشم حکومت کے خلاف عوامی شعور بیداری مہم کا آغاز کرے گی۔ واضح رہے کہ میدک کے ضمنی انتخاب میں تلگودیشم نے اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا تھا، بلکہ اپنی حلیف بی جے پی کے امیدوار جگاریڈی کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT