Saturday , November 25 2017
Home / دنیا / میرا کام صدر کی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل ہے

میرا کام صدر کی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل ہے

ٹرمپ کے فون کا جواب نہ دینے پر برطرف ہندوستانی وفاقی پراسیکیوٹر پریت بھرارا کی وضاحت
نیویارک ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی نژاد سابق اعلیٰ سطحی وفاقی پراسیکیوٹر پریت بھرارا جنہیں ان کی برطرفی سے صرف دو روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے فون کال وصول ہوئی تھی، نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسٹر ٹرمپ سے بیزار ہوچکے ہیں اور فون کا جواب نہ دے کر انہوں نے ٹرمپ پر مہربانی کی ہے۔ میان ہٹن کے سابق پراسیکیوٹر نے گذشتہ ہفتہ نیویارک یونیورسٹی کے اسکول آف لاء کے ڈین ٹریورموریسن کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ میں ہر ایک کے ساتھ مہربانی والا رویہ اپنائے ہوئے تھا۔ وہ کیسے؟ ان کے فون کالس کا جواب نہ دیتے ہوئے اور یہی مہربانی میں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بھی کی ہے۔ یاد رہیکہ پریت بھرارا کو برطرف کئے جانے کے صرف دو روز قبل انہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے فون موصول ہوا تھا جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ ٹرمپ کو دوبارہ فون کریں لیکن بھرارا نے ٹرمپ کو کوئی فون نہیں کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ وائیٹ ہاؤس اور جسٹس ڈپارٹمنٹ کے درمیان رابطہ بنانے کیلئے متعدد ضوابط ہیں۔ موصوف (ٹرمپ) وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی صدارتی انتخابات کی مہمات میں ہر وقت بس یہی راگ الاپا تھا کہ سابق صدر بل کلنٹن نے کسی معاملہ کی تحقیقات جاری رہنے کے باوجود بھی اس وقت کے اٹارنی جنرل سے ملاقات کی تھی۔ ان کا اشارہ فینیکس میں سابق صدر بل کلنٹن اور لورٹیا لائنچ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی جانب تھا۔ اپنی انتخابی مہمات میں ٹرمپ نے بار بار یہی بات کہی کہ جب بل کلنٹن کی لوریٹا لائنچ سے ملاقات ہوئی ہوگی تو وہ (ٹرمپ) نہیں سمجھتے کہ ہلاری کلنٹن کے خانگی ای میل سرور استعمال کرنے کا معاملہ زیربحث نہیں آیا ہوگا۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہوا ہوگا کہ بل اور لوریٹا نے اپنے پوتاپوتی یا نواسا نواسی کے بارے میں یا دیگر غیر اہم موضوعات پر بات کی ہوگی۔ بھرارا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موقع پر ٹرمپ کے ساتھ کوئی بھی ربط چاہے وہ شخصی طور پر ملاقات ہو یا فون پر بات چیت، عوام کے ذہنوں میں ان کے (بھرارا) دفتر کی جانب سے مستقبل میں کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں شک و شبہات پیدا کرسکتا تھا۔ اس بات پر بھلا کون یقین کرے گا کہ امریکی صدر نے صرف یہاں وہاں کی بات کرنے یا وقت گذاری کیلئے فون کیا تھا۔ لہٰذا امریکی صدر کے فون کا جواب نہ دے کر میں نے کئی لوگوں کو دکھی ہونے سے بچا لیا۔ یقین کیجئے کہ جس وقت صدر موصوف کا فون آیا تو میں بالکل بیزاری کی کیفیت میں تھا اور شاید اسی کیفیت نے مجھے صدر موصوف کو دوبارہ کال کرنے پر راغب نہیں کیا۔ اپنی اچانک برطرفی سے متعلق پوچھے جانے پر بھرارا نے ٹرمپ کے ساتھ اس ملاقات کو یاد کیا جو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ نومنتخبہ صدر کے ساتھ میان ہٹن کے ٹرمپ ٹاور میں ہوئی تھی۔ انتخابی جیت پر نومنتخبہ صدر بے حد مسرور نظر آرہے تھے اور اسی وقت ٹرمپ نے مجھے کہا تھا کہ میں ایک اور میعاد کیلئے اپنے عہدہ پر برقرار رہوں۔ بھرارا نے امریکہ میں اٹارنیز کے دفاتر کو آزادانہ اور شفاف کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا ماننا ہیکہ اٹارنیز کے دفاتر کی سرگرمیاں سیاسی نوعیت کی نہیں ہوتیں اور صدر چاہے جو بھی ہو، وہ ان سرگرمیوں کو سیاسی رنگ نہیں دے سکتا۔ میرا کام صدر کی خدمت کرنا نہیں چاہے وہ اوباما ہوں یا ٹرمپ یا کوئی اور۔ میرا کام ہے عوام کی خدمت کرنا اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کرنا۔

TOPPOPULARRECENT