Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / میرا کمار کو مجلس کی تائید کا مہاراشٹرا کے رکن اسمبلی نے اعلان کیوں کیا ؟

میرا کمار کو مجلس کی تائید کا مہاراشٹرا کے رکن اسمبلی نے اعلان کیوں کیا ؟

حیدرآباد کی قیادت کی بجائے مہاراشٹرا کے نووارد مجلسی سے اعلان کرانے پر کئی سوال

حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) این ڈی اے صدارتی امیدوار رام ناتھ کویند کی کامیابی کی مکمل راہیں ہموار ہونے کے بعد مجلس اتحاد المسلمین نے اپوزیشن صدارتی امیدوار و کانگریس قائد محترمہ میرا کمار کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔ مجلس کی جانب سے صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین نے انتہائی اہمیت کے حامل اس صدارتی انتخاب میں خود اعلان کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے مہاراشٹرا اسمبلی میں جماعت کے رکن اسمبلی امتیاز جلیل سے یہ اعلان کروایا جبکہ شہر حیدرآباد میں کئی سینئر اراکین اسمبلی بالخصوص قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی تلنگانہ قانون ساز اسمبلی بھی موجود ہیں علاوہ ازیں یاقوت پورہ حلقہ اسمبلی سے منتخبہ سب سے زیادہ سینئر رکن اسمبلی بھی موجود ہیںاور صدر مجلس کے قریبی تصور کئے جانے والے رکن اسمبلی ملک پیٹ کی موجودگی کے باوجود صدارتی انتخابات میں کانگریس کی امیدوارہ کی تائید کا اعلان مہاراشٹرا سے کروایا جانا جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے عوام کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ صدارتی امیدوار کی تائید کو کامیاب بنانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بہار میں نتیش ۔لالو اتحاد میں دراڑ پیدا کروانے میں کامیابی حاصل کرلی اور تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کی بھی بی جے پی نے تائید حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ مجلس کی تائید کے لمحہ آخر میں کئے جانے کی وجوہات کے متعلق دہلی میں موجود سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے امیدار کے انتخاب کویقینی بنانے کے تمام امکانات کا جائزہ لینے کے بعد اس کی طمانیت حاصل کرلی اور پھر جو جہاں چاہے جائے والی پالیسی اختیار کرلی جس کے نتیجہ میں کئی جماعتوں کو اپنے چہروں پر نقاب برقرار رکھنے کا موقع میسر آگیا ۔جبکہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر رام ناتھ کویند کے انتخاب کو یقینی بنانے کا جائزہ لیتے ہوئے طمانیت حاصل نہیں کرلی جاتی تو ان جماعتوں میں کئی ارکان کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کیلئے غیر حاضر رکھنے کی ترغیب دی جاتی تاکہ اس کا راست فائدہ بی جے پی امیدوار کو حاصل ہو سکے۔ مجلس کی جانب سے کانگریس امیدوار کی تائید کے متعلق صدر مجلس کی جان بسے اعلان نہ کئے جانے کے متعلق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ذرائع ابلاغ کے سوالوں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے رکن اسمبلی اورنگ آباد کے ذریعہ جماعت کی جانب سے اپوزیشن امیدوار و کانگریس قائد مسز میرا کمار کی تائید کا اعلان کروایا۔ کانگریس نے تعداد نہ ہونے کے باوجود امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں جاری اندرونی اختلافات کو آشکار کیا جا سکے لیکن بی جے پی نے تمام حالات پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے ملک کے اہم ترین منصب پر اپنے نمائندہ کو منتخب کروانے کی راہ ہموار کرلی ہے۔ مجلس کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مجلس ریاستی حکومت کی حلیف ہے لیکن صدارتی انتخاب کے معاملہ میں ریاست میں برسر اقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے رام ناتھ کویند کی تائید کا اعلان کئے جانے کے باوجود مجلس نے اپنی حلیف کے اقدام پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ بہار میں نتیش کمار نے این ڈی اے امیدوار کی تائید کا اعلان کیا اس کے ساتھ ہی حلیف جماعت راشٹر جنتا دل قائد مسٹر لالو پرساد یادو نے اپنی حلیف جماعت کے اس اقدام کی مذمت کی اور دونوں کے تعلقات میں دراڑ پیدا ہونے لگی اور اب یہ دراڑ کافی حد تک بڑھ چکی ہے لیکن تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت کے اقدام پر حلیف جماعت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ کہا گیا کہ وہ کن بنیادوں پر میرا کمار کی تائید کر رہے ہیں؟ اور برسراقتدار حلیف کی جانب سے این ڈی اے امیدوار کی تائید کے اعلان پر کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟

 

TOPPOPULARRECENT