Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / میرجملہ، نیک نام خان، ملک عنبریادوں میں آج بھی زندہ

میرجملہ، نیک نام خان، ملک عنبریادوں میں آج بھی زندہ

تینوں تاریخ ساز شخصیتوں سے موسوم ،تاریخی محلہ جات میں کثیر آبادیاں

تینوں تاریخ ساز شخصیتوں سے موسوم ،تاریخی محلہ جات میں کثیر آبادیاں
حیدرآباد ۔ 17 جنوری (نمائندہ خصوصی) ہر محلہ کے نام کے ساتھ اسی مقام کی کوئی نہ کوئی خصوصیت وابستہ رہتی ہے اور وہی خصوصیت محلہ کی وجہ تسمیہ بنتی ہے۔ حیدرآباد کے قدیم ترین تین محلوں کے نام ان حضرات کے نام سے رکھا گیا تھا۔ اگرچہ حیدرآباد کی ان ہستیوں کے نام سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن ان کا تصویری خاکہ جو سالارجنگ میوزیم میں خاص طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد کے بڑے محلے میں سے ایک میرجملہ تالاب جسے لوگ تالاب کٹہ مراد محل کے نام سے جانتے ہیں۔ میرجملہ دراصل مرزا محمد امین تھا۔ (میرجملہ دراصل ایک عہدے کا نام ہے) سلطان ابوالحسن تاناشاہ کے عہد میں میرجملہ نے 1040ھ میں شہر کے جنوبی گوشہ میں ایک تالاب بنوایا تھا جو ان ہی کے نام سے میر جملہ کے تالاب سے مشہور ہوا۔ اس تالاب سے ملحق ایک باغ لگوا کر اس کے اطراف بہت سی عمارتیں بنوا کر اس محلہ کو آباد کیا جس کا نام سلطان شاہی ہے۔ سلطان شاہی سے محلق میرمومن کا دائرہ تھا۔ اس کے عقب میں بادشاہ نے مراد محل بنوایا جو کچھ عرصہ بعد برباد ہوگیا۔ اب صرف نام ہی باقی رہ گیا۔ میرجملہ تالاب کے کنارے سید مظفر کا باغ اور عمارت تھی۔ اس عمارت کا رخ تالاب کی طرف تھا۔ اس میں بیٹھ کر نظام علی خاں بہادر تالاب کی سیر کرتے اور تالاب میں ہاتھی لڑا کر تماشہ دیکھا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ تالاب خشک کردیا گیا۔ اس کا اندراج مالگزاری کے کاغذات میں مراد محل کے نام سے ہے۔ مراد محل جہاں تھا وہیں راجہ چندو لال کا بیلہ بنا، جو اب بھی بیلہ کے نام سے ہی مشہور ہے۔ اس طرح اب میرجملہ تالاب کٹہ کے نام سے مشہور کثیر مسلم آبادی والا علاقہ ہے جہاں اسکول، دواخانے، ڈاکٹرس، انجینئر اور دیگر تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ اسی طرح نامپلی بھی ’’نیک نام خان‘‘ سے موسوم ہے جو عبداللہ قطب شاہ کے زمانے میں ایک صوبیدار تھے ، ان کا اصل نام رضا علی ہے۔ پہلے ایران میں شاہ عباس صفوی کے ملازم تھے اور بعد میں گولکنڈہ آئے اور میرجملہ کے تحت کام کیا۔ ان کو بعد میں نیک نام کا خطاب ملا۔ بادشاہ نے 1081ھ مطابق 1470ء میں سلطنت کا دیوان بنایا۔ نیک نام خان پوری وفاداری سے فوجی اور غیرفوجی بڑی بڑی خدمات انجام دیئے۔ نیک نام خان عالم اور شاعر بھی تھے۔ ان کا انتقال 1472ء کو ہوا۔ ان کی مزار نیک نام پور میں واقع ہے۔ ان کے نام سے نامپلی ہے جو پہلے نیک نام پلی تھا جبکہ تیسرا علاقہ عنبرپیٹ ہے جو دراصل ملک عنبر سے منسوب ہے۔ یہ عنبرشاہ میاں صاحب سے مشہور ہے۔ عنبرشاہ متقی پرہیزگار، شب بیدار بزرگوں میں سے گذرے ہیں۔ آپ کا زمانہ آج سے تقریباً 300 سال قدیم ہے۔ آپ اپنے وقت میں رشدہدایت کے چراغ جلائے۔ آپ کے ہی نام سے علاقہ عنبرپیٹ کو موسوم کیا گیا۔ اس علاقہ میں ان کا مزار بھی موجود ہے۔ عنبرشاہ ایک نہایت ہی بہادر شخص تھے اور یہ عادل شاہ کے دور میں وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ ایک طرف ہماری نسلیں اپنے اسلاف کے ناموں اور تاریخی حیثیت سے ناواقف ہیں تو دوسری طرف فرقہ پرست عناصر ایک منظم منصوبے اور سازش کے تحت شہر کے ناموں کو بتدریج تبدیل کرنے مسلسل کوشش کررہے ہیں جیسے ضیاء گوڑہ کو جیا گوڑہ کہا جارہا ہے۔ ندی مسلم گوڑہ کو نندی مسلائی گوڑہ کہا جارہا ہے۔ اسی طرح بندے علی گوڑہ کو بندلہ گوڑہ کردیاگیا ہے۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT