Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / میرٹھ ‘ ووٹنگ مشین پر کوئی بھی بٹن دبائیں ‘ ووٹ بی جے پی کو ملا

میرٹھ ‘ ووٹنگ مشین پر کوئی بھی بٹن دبائیں ‘ ووٹ بی جے پی کو ملا

مجالس مقامی انتخابات کے دوران ایک پولنگ بوتھ پر رائے دہندوں کا زبردست احتجاج
میرٹھ 23 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی پول کھلنے کے واقعات اب میرٹھ میں بھی سامنے آئے ہیں جہاں مجالس مقامی انتخابات کیلئے رائے دہی ہوئی تھی ۔ ایک پولنگ بوتھ پر اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا جب رائے دہندوں کو پتہ چلا کہ ایک الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں تمام ووٹ صرف بی جے پی کے کھاتے میں جا رہے ہیں چاہے رائے دہندے کوئی بھی بٹن دبائیں۔ میرٹھ میں چہارشنبہ کو مجالس مقامی انتخابات کیلئے ووٹ ڈالے گئے ۔ بی ایس پی کی ایک امیدوارہ عشرت جہاں کے شوہر محمد شاہد کو ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ رائے دہندوں نے ہاتھی کے نشان پر بٹن دبایا اور ووٹ کنول کے پھول پر چلا گیا ۔ محمد شاہد نے بتایا کہ کم از کم 150 ووٹ اسی طرح بی جے پی کے حق میں چلے گئے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ دوسرے وارڈز میں بھی اسی طرح مشینوں میں چھیڑ چھاڑ سامنے آئی ہے ۔ شاہد نے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا ہے ۔ جس علاقہ میں یہ مسئلہ پیدا ہوا وہ اکثریتی غلبہ والا ہے ۔ عہدیداروں نے ادعا کیا کہ مشین میں خرابی پیدا ہوگئی تھی جبکہ غیر بی جے پی جماعتوں کا الزام ہے کہ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔ تسلیم احمد نامی ایک شخص کا ایک اور ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ احمد کو ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے کہ انہوں نے بی ایس پی امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ۔ ابھی وہ بٹن دبا ہی رہے تھے کہ مشین میں ان کا ووٹ بی جے پی کے حق میں رجسٹر ہوگیا ۔ وہ ایک گھنٹے تک انتظار کرتے رہے ۔ واضح رہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے فوری بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا تھا ۔ ان انتخابات میں بھی بی جے پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT