Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / میرٹھ یونیورسٹی سے 10 کشمیری طلباء کا اخراج

میرٹھ یونیورسٹی سے 10 کشمیری طلباء کا اخراج

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشیاں منانے کا شاخسانہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشیاں منانے کا شاخسانہ
میرٹھ۔/23مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) دس کشمیری طلباء جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت کے موقع پر خوشیاں منارہے تھے اور پاکستان موافق نعرے لگانے میں ملوث تھے، کو ایک خانگی یونیورسٹی نے بدسلوکی کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں یونیورسٹی سے خارج کردیا جبکہ دیگر 57 کشمیری طلباء کے اخراج کا فیصلہ منسوخ کردیا گیا۔ دو تا ڈھائی ماہ قبل سوامی وویکانند سوبھارتی یونیورسٹی نے طلباء کے خلاف مبینہ طور پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشیاں منانے کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے بعد ایک ڈسپلنری کمیٹی کا قیام بھی عمل میں آیا تھا، جس نے تحقیقات کے بعد 10کشمیری طلباء کو بدسلوکی کرنے اور یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچانے کا قصوروار ٹھہرایا۔

وائس چانسلر پروفیسر منظور احمد نے یہ بات بتائی جبکہ یونیورسٹی نے دیگر 57طلباء کے خلاف اخراج کے احکامات کو منسوخ کردیا۔ مذکورہ 10طلباء اب اپنا امتحان لکھ رہے ہیں۔ امتحانات کے اختتام کے بعد انہیں ان کے گھر واپس بھیج دیا جائے گا۔ پروفیسر منظور نے کہاکہ جیسے ہی امتحانات مکمل ہوں گے انہیں مائیگریشن سرٹیفکیٹ جاری کرے گی جس کے بعد انہیں میرٹھ میں مزید رہنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جاریہ سال 9مارچ کو ایشیاء کپ کے ایک میاچ میں ہندو پاک کی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ آخری اوور میں پاکستانی ٹیم کی جیت پر یونیورسٹی کے 67 طلباء نے خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ یونیورسٹی حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ بہرحال اس واقعہ کی زبردست تشہیر ہوئی تھی۔ مقامی پولیس بھی اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے جہاں یونیورسٹی حکام اور کمیٹی ارکان کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے ۔

سرکاری اراضی پر قبضہ، وی ایچ پی کا انتباہ
جموں۔/23مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی) نے آج انتباہ دیا تھا کہ اگر جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں کو برخاست نہیں کیا گیا تو زبردست احتجاج منظم کیا جائے گا۔ وی ایچ پی ریاستی صدر لیلا کرن شرما نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ریاستی انتظامیہ کو انتباہ دیتے ہیں کہ اگر جموں شہر سے سرکاری اراضیات سے غیر قانونی اور ناجائز قبضوں کو ہٹایا نہیں گیا تو ہم ریاست گیر پیمانہ پر زبردست احتجاج منظم کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT