Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / ’میری تمام کامیابیاں، ماں کی شفقت کی مرہون منت‘

’میری تمام کامیابیاں، ماں کی شفقت کی مرہون منت‘

NEW DELHI, SEP 4 (UNI):-President Pranab Mukherjee as teacher of 'Political History of India' at Dr. Rajendra Prasad Sarvodaya Vidyalaya, President's Estate in New Delhi on Friday, an initiative by Delhi government to get prominent personalities turn teacher on the occasion of Teacher's Day. UNI PHOTO-37u

مائیں بہترین ٹیچرس ہوتی ہیں، تعلیم سے طلبہ کو دلچسپی میں ٹیچرس کی کلیدی رول، طلبہ سے صدر پرنب مکرجی کا خطاب
نئی دہلی 4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی آج ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کی ترقی و کامیابی دراصل ان کی والدہ کی محبت، شفقت اور پرورش کا نتیجہ ہے۔ صدر پرنب مکرجی نے کہاکہ وہ بچپن میں انتہائی شریر تھے اور اپنی شرارتوں کے ذریعہ ماں کو ستایا کرتے تھے اور شرارتوں پر ان کی خوب پٹائی بھی ہوا کرتی تھی۔ مسٹر مکرجی آج یہاں راشٹرپتی بھون اسٹیٹ میں XI ویں اور XII ویں جماعتوں کے طلبہ سے خطاب کررہے تھے۔ یوم اساتذہ کے ضمن دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال اور ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیہ نے اپنی حکومت کے پروگرام ’’ایک دن کیلئے ٹیچر بنیں‘‘ کا اہتمام کیا تھا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو طلبہ سے بات چیت اور نصیحت کا موقع فراہم کیا گیا تھا تاکہ طلبہ ان کے تجربات اور مشاہدات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی میں ترقی و کامیابی کو یقینی بناسکیں۔ صدر پرنب مکرجی نے کہاکہ دن بھر کی شرارتوں پر والدہ ان کی خوب پٹائی کیا کرتی تھیں لیکن کچھ دیر بعد وہ مجھے سمجھاتیں اور مناتیں۔ اس موقع پر مجھے اپنی دن بھر کی تمام شرارتوں کا حساب دینا پڑتا تھا‘‘۔ مسٹر مکرجی نے جو طلبہ سے خطاب کے دوران ٹیچرس کی ٹوپی بھی پہنے ہوئے تھے لیکن کہاکہ مائیں ہی سب سے بہترین ٹیچر ہوتی ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر راجندر پرساد سرودیہ ودیالیہ کے بچوں سے کہاکہ ’’میں آپ سے کہتا ہوں کہ مائیں ہی بہترین ٹیچرس ہوتی ہیں‘‘۔ اس موقع پر تمام طلبہ بھرپور دلچسپی اور مکمل انہماک کے ساتھ پرنب مکرجی کے خطاب کی سماعت کررہے تھے۔

اُنھوں نے کہاکہ وہ مجاہدین آزادی کومبا کنکار مکرجی اور راجیہ لکشمی کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد کی زندگی جیل کی کوٹھری اور پارٹی آفس کے دفتر کے محور پر گھومتی رہی۔ البتہ ان کی والدہ راجیہ لکشمی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔ صدر مکرجی نے یاد دلایا کہ گائے چرانے والے دیہاتی بچوں کے ساتھ وہ بھی چراگاہوں کو جایا کرتے تھے لیکن دیہاتی بچہ ہونے کے باوجود اندھیروں سے کافی ڈرا کرتے تھے۔ اُنھوں نے اعتراف کیاکہ ’’میں ایک شریر بچہ تھا۔ میں اپنی ماں کو مسلسل ستایا کرتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کسی نے بھی اتنی شرارت نہیں کی ہوگی اور کوئی بھی میری طرح شریر نہیں تھے ہوں گے‘‘۔ ان کے اس ریمارک پر تمام طلبہ نے زوردار قہقہہ بلند کیا۔ صدر پرنب مکرجی نے ہندوستانی سیاسی تاریخ پر ایک گھنٹہ طویل لکچر کے دوران خطاب کی سماعت کرنے والے بچوں سے کہاکہ ’’آج میں کوئیو زیر یا صدر نہیں ہوں بلکہ صرف آپ کا ’مکرجی سر‘ ہوں‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ کوئی امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طالب علم نہیں تھے بلکہ ایک اوسط طالب علم تھے، مجھے پانچ کیلو میٹر پیدل چلتے ہوئے اسکول پہونچنا پڑتا تھا اور میں اپنی ماں سے اس طویل فاصلہ کی شکایت کرتا تھا‘‘۔ ماں کہا کرتی تھیں کہ بیٹا ! اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اور سخت محنت کا مشورہ دیا کرتی تھیں۔ پرنب مکرجی نے اپنے کالج کے پرنسپال کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک ممتاز مقرر تھے جنھوں نے تاریخ اور انگریزی میں میری دلچسپی کو یقینی بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’میرے ٹیچر جولیئس سیزر کا ذکر کرتے ہوئے (سیزر کا قتل کرنے والے) بروکوس کے علاوہ انٹونی اور سیزر کا رول ادا کیا کرتے تھے‘‘۔ یہ ایسا خوبصورت انداز تھا کہ اس سے مجھ میں کافی دلچسپی پیدا ہوتی اور دو سال کے دوران میں نہ شیکسپیئر کی آدھی سے زیادہ کتب کا مطالعہ کرلیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ میں تعلیم سے دلچسپی بڑھانے کیلئے ٹیچرس ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT