Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / میری حکومت مسلمانوں کی ترقی کیلئے پابند عہد : نریندر مودی

میری حکومت مسلمانوں کی ترقی کیلئے پابند عہد : نریندر مودی

ملک کو ’اسکام انڈیا‘ سے ’اسکیل انڈیا‘ میں تبدیل کرنے اپنے خوابوں کی تعبیر کو یقینی بناؤں گا کامیابی سے مجھے کئی اچھے درس ملے ہیں مسلمان بھائیوں کو تشویش و فکر کی ضرورت نہیں 15 نکاتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کا اعلان پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی پہلی تقریر

ملک کو ’اسکام انڈیا‘ سے ’اسکیل انڈیا‘ میں تبدیل
کرنے اپنے خوابوں کی تعبیر کو یقینی بناؤں گا
کامیابی سے مجھے کئی اچھے درس ملے ہیں

مسلمان بھائیوں کو تشویش و فکر کی ضرورت نہیں
15 نکاتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کا اعلان
پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی پہلی تقریر

نئی دہلی ۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ میری حکومت مسلمانوں کے بشمول تمام طبقات کی ترقی کیلئے پابند عہد ہے۔ غریبوں کی بہبود پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہر ایک سیاسی پارٹی اور ریاستوں سے مل کر ملک کو خوشحال اور طاقتور بنائیں گے۔ لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے ملک کی ترقی کو یقینی بنانے اپنے خوابوں سے متعلق اظہارخیال کیا۔ 15 نکاتی ایجنڈہ پر دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کا وعدہ کیا۔ وفاقی تعاون کے ذریعہ ہندوستان کو ’’اسکام انڈیا‘‘ سے ’’اسکیل انڈیا‘‘ میں تبدیل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے نظریہ کی جانب خصوصی طور پر نشاندہی کی کہ زرعی اور انفراسٹرکچر شعبوں کو بہتر سے بہتر بنایا جائے گا۔ جو کوئی ریاست میں بہترین پالیسی اختیار کی گئی ہے اس کو مرکز بھی اختیار کرے گا۔ ان کی حکومت کی اولین ترجیح غریبوں کو ترقی دینا ہے اور 2022ء تک اس ملک کا کوئی بھی گھر پانی، برقی اور بیت الخلاء کے بغیر نہیں ہوگا۔ جب ملک اپنی آزادی کی 75 ویں سالگرہ تقاریب منارہا ہوگا۔ صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر کے دوران مباحث کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ ہم ہندوستان کو ترقی کے محاذ پر بدل کر رکھ دیں گے۔ میں اپوزیشن کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا۔ میرے ہر فیصلہ میں اپوزیشن کی مرضی شامل ہوگی۔ عدد کی بنیاد پر میں آگے نہیں بڑھوں گا بلکہ اجتماعی فیصلہ سازی کی بنیاد پر میں قدم بڑھاؤں گا۔

انہوں نے اقلیتوں کی قسمت کے بارے میں بعض ارکان کی جانب سے ظاہر کردہ اندیشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کی ترقی کیلئے کام کرے گی۔ ان کا یہ ایقان ہیکہ اگر جسم کا ایک حصہ کمزور پڑ جائے تو پورا جسم صحت مند نہیں رہ سکتا۔ ہم مسلمانوں کی ترقی کیلئے پابند عہد ہیں۔ ہم اس میں کوئی دلجوئی یا لبھانے والی بات نہیں دیکھتے۔ کامیابی نے ہمیں کئی سبق سکھائے ہیں۔ ہمیں حاصل ہونے والے درس کے ذریعہ ہی ہم اچھی حکمرانی فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ بزرگوں کی دعاؤں سے ہم آگے بڑھ سکیں گے۔ وزیراعظم نے اپنی انتخابی تقاریب میں کئے گئے وعدوں اور عنوانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر عمل آوری کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے منتخب نمائندوں کے خلاف زیرالتواء فوجداری مقدمات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان مقدمات کی تیزی سے یکسوئی کی ضرورت ہے تاکہ خاطیوں کو سزاء مل سکے اور بے قصوروں کا تحفظ کیا جاسکے۔ پارلیمنٹ کو یہ گنجائش حاصل ہے کہ وہ ایسا کرسکتی ہے۔ ہم سپریم کورٹ کی مدد کریں گے۔ قانون کا خوف ہر ایک کے دل میں ہونا چاہئے۔ اس طرح کے کیسوں میں عاجلانہ فیصلوں سے ہی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں خاص کر مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’مسلمان بھائی‘‘ میری حکومت سے خائف یا تشویش میں مبتلاء نہ ہوں۔

جیسا کہ بعض ارکان نے اندیشے ظاہر کئے کہ ان کی حکومت میں اقلیتوں کا مستقبل خطرناک ہوگا۔ ان کی حکومت مسلمانوں کی ترقی کیلئے ہر حال میں کام کرے گی۔ پہلی مرتبہ مودی نے گذشتہ ہفتہ پونے میں ایک مسلم سافٹ ویر انجینئر محسن صادق شیخ کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد نے فیس بک پر کی گئی پوسٹنگ کے خلاف یہ اقدام کیا ہے۔ پونے کے قتل کے حوالہ کے علاوہ انہوں نے اترپردیش میں بدایوں اجتماعی عصمت ریزی واقعات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جو کچھ واقعات ہوئے ہیں وہ تکلیف دہ ہیں۔ ہمارا ضمیر ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ خواتین کے خلاف مظالم پر بعض قائدین کے تبصروں پر اعتراض کرتے ہوئے مودی نے سیاسی قائدین سے کہا کہ وہ عصمت ریزی کے واقعات کا نفسیاتی تجزیہ نہ کریں بلکہ خواتین کا احترام کریں۔ عصمت ریزی کے خاطیوں کو سخت سزاء دی جانی چاہئے۔ کرپشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اس لعنت کا خاتمہ کرے گی۔ سرکاری نظم و نسق میں خراب حکمرانی کے داخل ہونے کا مطلب ذیابیطس سے متاثرہ جسم کی طرح ہوتا ہے۔ یہ پورے نظام کو تباہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ساری دنیا میں ہندوستان کا نام ’’اسکام انڈیا‘‘ سے مشہور ہوگیا ہے۔ عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اعتمادشکنی ہرگز نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم مل جل کر کام کریں گے تو اس چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ہم ہندوستان کے ’’اسکام انڈیا‘‘ کے امیج کو تبدیل کرکے ’’اسکیل انڈیا‘‘ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بار بار مہاتما گاندھی کی تعلیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے قابوں کو پورا کرنے کیلئے ہمیں کوششیں کرنی چاہئے۔ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے اہم 15 نکات
نئی دہلی ۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے اہم 15 نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) ہندوستان کا امیج تبدیل کیا جائے گا: ’’اسکام انڈیا‘‘ سے ’’اسکیل انڈیا‘‘ بنایا جائے گا۔ ہمارے نوجواجوں میں ماہرانہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے گا۔
(2) عصمت ریزی واقعات کا نفسیاتی تجزیہ نہ کرنے کا مشورہ: میں سیاسی قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عصمت ریزی کے واقعات کا نفسیاتی جائزہ نہ لیں۔ جرم کے خلاف ہم خاموشی اختیار نہیں کرسکتے۔ خواتین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
(3) ہم ’’تکبر‘‘ نہیں کریں گے: کامیابی نے ہمیں کئی سبق سکھائے ہیں۔ ہمیں انہیں یاد رکھنا ہوگا۔ تکبر سے گریز کرتے ہوئے بزرگوں کی دعائیں حاصل کی جائیں گی۔
(4) اپوزیشن کا تعاون حاصل کریں گے: ملک کی ترقی کو یقینی بنانے اپوزیشن کا تعاون ضروری ہے۔ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر ضروری ہوا تو اپوزیشن کی رہنمائی میں ہی ہم آگے بڑھیں گے۔
(5) قیمتوں پر قابو پانے کا وعدہ: میری حکومت افراط زر پر قابو پانے کا وعدہ کرچکی ہے۔ ہم اس پر قائم ہیں اور نشانہ کو حاصل کریں گے۔ ہر غریب کو غذا کی فراہمی ہمارا اولین مقصد ہے۔
(6) تعمیری تنقید کا خیرمقدم کیا جائے گا: ہم تعمیری تنقید کا خیرمقدم کریں گے۔ تنقید سے کاموں میں بہتری آتی ہے تو اسی میں ملک کی فلاح و بہبود مضمر ہے۔ تنقید سے ہی ہمیں قوت حاصل ہوگی اور رہنمائی ملے گی ۔

(7) ماہرانہ پیشہ کو فروغ دینے پر توجہ:دنیا میں میان پاور کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے ہمارے پڑوسی ملک چین نے ضعیفوں کو بھی اپنے ساتھ رکھا ہے جبکہ ہم نوجوانوں میں ماہرانہ صلاحیتیں پیدا کریں گے۔
(8) سال 2022ء تک تمام کیلئے مکانات کی فراہمی: 10 تا 12 سال طویل پروگرام کے تحت ہم اپنے ملک کے تمام عظیم سپوتوں کی یاد میں تمام کو مکانات فراہم کریں گے۔
(9) صاف ستھرا ہندوستان کیلئے کام: مہاتما گاندھی نے صفائی پر زور دیا تھا۔ ہم ہندوستان کو صاف ستھرا بنانے پر توجہ کریں گے۔ 2019ء میں مہاتما گاندھی کی 150 ویں جینتی تک بابائے قوم کو ہم صاف ستھرا ہندوستان تحفہ میں دیں گے۔
(10)اقلیتوں کیلئے کام کرنے کا وعدہ : جسم کا ایک عضو کمزور پڑ جائے تو سارا جسم غیرصحتمند ہوجاتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو ترقی دینے کے پابند عہد ہیں۔ اس میں کسی قسم کی دلجوئی تلاش نہ کی جائے۔
(11) تمام وعدوں کو پورا کرنے کا عہد: عوام میں شک و شبہ پایا جانا قابل فہم ہے لیکن میں ایوان کو تیقن دیتا ہوں کہ صدرجمہوریہ نے جس راہ کی نشاندہی کی ہے اس پر چلتے ہوئے ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔
(12) ریاستوں کے ساتھ کام کرنے کا عزم : وفاقی تعاون پر ہم ایقان رکھتے ہیں۔ ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہم بالادستی پر یقین نہیں رکھتے۔
(13) زرعی شعبہ میں عصری ٹیکنالوجی کو فروغ : زرعی شعبہ کو عصری بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
(14) ترقی کیلئے جدوجہد کو عوامی تحریک بنانے کا عزم : مہاتما گاندھی نے جدوجہد آزادی کو عوامی تحریک میں تبدیل کردیا تھا۔ اسی وجہ سے ملک آزاد ہوا۔ اسی جذبہ کے ساتھ ملک کی ترقی کیلئے ہم کام کریں گے۔
(15) غریب کیلئے کام کرنے عوام کے توقعات کی نگہبانی کا وعدہ : ہم اپنے ایجنڈہ کے ہر نکات پر دیانتداری سے عمل کریں گے۔ یہ حکومت ملک کے غریب عوام سے تعلق رکھتی ہے۔ عوام کے توقعات کے ہم نگہباں ہیں۔ یہ حکومت غریبوں کیلئے ہے اور غریبوں کیلئے ہی وقف رہے گی۔ متمول افراد اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت کی اہم ذمہ داری غریب کی آواز سننا ہے۔

TOPPOPULARRECENT