Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / میری حکومت نہیں، تمام ادارہ جات کا صفایا : عمرعبداللہ

میری حکومت نہیں، تمام ادارہ جات کا صفایا : عمرعبداللہ

سرینگر ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ ’’میری کوئی حکومت نہیں ہے کیونکہ تمام ادارہ جات سیلاب کی نذر ہوگئے‘‘۔ انہوں نے 6 دن قبل ریاست میں آئے بدترین اور تباہ کن سیلاب کی یاد تازہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ خود ان کے گھر میں برقی سربراہی مسدود ہے اور ان کے سیل فونس کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ اس کے باوج

سرینگر ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ ’’میری کوئی حکومت نہیں ہے کیونکہ تمام ادارہ جات سیلاب کی نذر ہوگئے‘‘۔ انہوں نے 6 دن قبل ریاست میں آئے بدترین اور تباہ کن سیلاب کی یاد تازہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ خود ان کے گھر میں برقی سربراہی مسدود ہے اور ان کے سیل فونس کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود عمر عبداللہ گیسٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے کام کررہے ہیں جہاں انہوں نے عارضی ’’منی سکریٹریٹ‘‘ تیار کیا ہے۔ وہ یہاں سے راحت کاری اقدامات پر نظر رکھے ہیں۔ ریاست کے وزیرفینانس عبدالرحیم راتھر کا آج ٹیکسزیشن آفس میں پتہ چلا جہاں وہ 5 دن سے محصور تھے۔ وہ سیلاب کے پانی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل پائے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میری ریاست کا دارالحکومت سرینگر مکمل غرقاب ہوچکا ہے۔ ابتدائی 36 گھنٹوں تک میری کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں نے اس کے بعد ایک کمرہ میں 6 آفیسرس کے ساتھ مل کر سرکاری کام کاج انجام دینا شروع کیا۔ تباہ کاریوں کو یاد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ تمام اداروں کا صفایہ ہوگیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کی عمارت، ہائیکورٹ، پولیس ہیڈکوارٹر اور تمام ہاسپٹلس زیرآب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ابتدائی 3 دن تک اپنے وزراء سے رابطہ بھی قائم نہیں کرسکے اور ایک یا دو وزراء کے ٹھکانوں کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

اس کے علاوہ ارکان اسمبلی کی اکثریت سے بھی ان کا رابطہ نہیں ہوسکا۔ عمر عبداللہ کے قریبی ساتھی اور حکمراں نیشنل کانفرنس کے صوبائی کشمیر صدر ناصر وانی اب چیف منسٹر کی رہائش گاہ منتقل ہوچکے ہیں لیکن ان کے ارکان خاندان قریبی ہوٹل میں پانی میں ہنوز محصور ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مسلح افواج نے جو راحت کاری اقدامات کئے ہیں، وہ قابل ستائش ہے اور اس کا سہرا ان ہی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی اولین ترجیح یہ ہیکہ عوام تک راحت کاری اشیاء پہنچائی جائیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ چند سال قبل امکانی سیلاب کے بارے میں خبردار کیا جاچکا تھا لیکن حکومت نے اسے نظرانداز کردیا تو چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سیلاب سے بچاؤ کا منصوبہ مرکزی حکومت کو روانہ کیا تھا۔ اس میں یہ بھی شامل تھا کہ 1.6 لاکھ کیوزک پانی کی نکاسی عمل میں لائی جائے۔ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا کہ کیا اس قدر بھاری مقدار میں پانی جمع کرنا ممکن ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اب قدرت نے ہمیں یہ کردکھایا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے تباہ کاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ تباہ کاری کے اثرات کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔

TOPPOPULARRECENT