Wednesday , July 18 2018
Home / دنیا / میری صدارت برخاست کرنا ’’فوجی بغاوت‘‘ کے مترادف : موگابے

میری صدارت برخاست کرنا ’’فوجی بغاوت‘‘ کے مترادف : موگابے

ہرارے ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے گذشتہ سال نومبر میں جن حالات کے تحت صدر کے عہدہ سے برطرف کئے گئے تھے اس کی تلخی کو وہ آج بھی محسوس کرتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے اپنی برطرفی یا معطلی کو ایک ’’بغاوت‘‘ سے تعبیر کیا ہے جسے کچلنے کی ضرورت ہے۔ بغاوت کا احساس ہی کچلے جانے کے قابل ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی برطرفی کے بعد پہلی بار ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران یہ بات کہی جسے آج نشر کیا گیا۔ جنوبی افریقہ SABC براڈکاسٹر کو ہرارے میں موجود ایک دفتر سے دیئے جانے والے انٹرویو کے دوران موگابے نے انتہائی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات کہی حالانکہ ان کا لہجہ نرم تھا تاہم وہ جو کچھ بھی کہہ رہے تھے وہ صاف اور واضح تھا۔ اس وقت ان کے سامنے ان کا اور ان کی بیوی گریس کا ایک بڑا پورٹریٹ بھی رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی برطرفی کو فوجی بغاوت سے تعبیر کرتے ہیں البتہ ملک میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو ایسا نہیں سمجھتے۔ یاد رہیکہ موگابے کے بعد جنوبی افریقہ کی صدارت نانگاگوا نے سنبھالی ہے۔ اسی طرح برطانیہ آئی ٹی وی نیوز کو بھی ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار پر واپس آنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں ملک کا صدر بننا نہیں چاہتا۔ میری عمر 94 سال ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نئے صدر 75 سالہ نانگاگوا سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان سے نفرت کرتے ہیں بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ نانگاگوا نے ملک و قوم کو دھوکہ دیا۔ ان کی صدارت غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ حکومت کے کسی اعلیٰ عہدہ کیلئے کسی قائد کا انتخاب مناسب اور جائز طریقہ سے ہونا چاہئے۔ اس عمل کیلئے میں اپنا تعاون دینے تیار ہوں۔ میں اس موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال کرسکتا ہوں بشرطیکہ ایسا کرنے کیلئے مجھے مدعو کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT