Monday , December 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / میرے خواب کی رکاوٹیں

میرے خواب کی رکاوٹیں

رفیعہ نوشین
خوابوں کی اپنی دنیا ہوتی ہے ۔ ایسے ہی جیسے دنیا کے خواب ہوتے ہیں۔ خوابوں کی زندگی ہوتی ہے ، بالکل ایسے ہی جیسے زندگی کے خواب ہوتے ہیں۔ خواب بنیادی طور پر تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو جاگتی آنکھوں سے دیکھا جانیوالا خواب ، دوسرا سوتے ہوئے دکھائی دینے والا خواب اور تیسرا روتے ہوئے دیکھا جانے والا خواب۔ باقی خواب ان ہی بنیادی شاخوں سے پھوٹتے ہیں۔ خوابوں کے لئے عموماً اندھیروں کا انتظار کیا جاتا ہے جب تیرگی کچھ بڑھ جائے تو جو خواب نظر آتے ہیں ، ان کی گہرائی زیادہ ہوتی ہے ۔
میں جب اس دنیا میں آئی تو میں نے بھی خواب دیکھنا شروع کیا ۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنے پسند کے رنگ برنگے کپڑے پہنچ کر تتلی کی طرح ہر جگہ آزادانہ گھوم رہی ہوں۔ ہر قسم کا کھیل ، کھیل رہی ہوں۔ کھل کھلاکر ہنس رہی ہوں۔ جیسے ایک ساتھ کئی گھنٹیاں بج اُٹھی ہوں۔ میں اپنی ز ندگی کے ہر پل کو بھرپور طریقے سے جینا چاہتی تھی ۔ خدا کی بنائی ہوئی ہر چیز سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی لیکن میری پیدائش کے ساتھ ہی میرے سماجیانہ  Socialization کا عمل شروع ہوگیا جس نے ہر ہر قدم پر مجھے بتایا کہ مجھے کیسے رہنا ہے ؟ کیا پہننا ہے ؟ کیا بولنا ہے ؟ کن کھلونوں سے کھیلنا ہے ؟ کہاں جانا ہے ؟ جس نے مجھے بتایا کہ لڑکیاں ہمیشہ لڑکوں سے کم تر ہوتی ہیں ۔ جس نے مجھے بتایا کہ لڑکیوں کا دائرہ کار صرف گھر کی چار دیواری میں ہیں، جس سے باہر نکلنا ان کیلئے مناسب نہیں ! جس نے مجھے بتایا کہ لڑ کیوں کو ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کی مرضی پر ہی چلنا ہوگا ۔ بھلے ہی وہ حق کے خلاف ہوں جسنے مجھے بتایا کہ لڑکیاں ظلم و ستم سہنے کے لئے ہی پیدا ہوئی ہیں اس لئے ظلم سہنا اور اُف نہ کرنا اُن کا شیوہ ہونا چاہئے ۔
یہ میری زندگی کی پہلی سب سے بڑی رکاوٹ تھی جو میرے خوابوںکے حصول میں اُٹھنے والے ہر قدم کو پیچھے کی جانب ڈھکیل دیتی تھی ۔ جب میں اسکول جانے کے قابل ہوئی تو میرا خواب تھا کہ میںایک اعلیٰ معیار کے انگریزی میڈیم اسکول میں داخلہ لوں اور انگریزی میں خوب گٹ پٹ کروں جیسے دوسرے بچے کرتے ہیں۔ تاکہ امی بھی فخر سے کہہ سکیں کہ دیکھو تو میری لاڈلی کیسے فر فر انگریزی بولتی ہے لیکن میرے اس خواب کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔ صنفی امتیاز (Gender Discrumination) جس کی وجہ سے میرے بھائی کو تو شہر کے سب سے بڑ ے انگریزی میڈیم اسکول میں شریک کیا گیا جس کی فیس ہزاروں میں تھی جبکہ میرے لئے محلے کے قریبی سرکاری اردو میڈیم اسکول کا انتخاب کیا گیا کیونکہ بھائی ’لڑکا‘ تھا ۔ خاندان کا وارث جسے وہ اپنے بڑھاپے کا سہارا مانتے ہیں۔ اس لئے اس پر زیادہ سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے میں انہیں کوئی عار نہ تھا جبکہ لڑکی کو پرایا دھن اور مہمان مانا جاتا ہے جسے ایک دن شادی کرکے اس گھر سے وداع کرنا ہے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’اب تو بیٹے بھی چلے جاتے ہیں ہوکر رخصت صرف بیٹی کو ہی مہمان نہ سمجھا جائے‘‘۔
والدین کی اکثر یہی سوچ ہوتی ہے کہ لڑکی کی تعلیم پر خرچ کرنا فضول ہے ۔ اس سے تو اچھا ہے کہ جہیز جمع کریں جو شادی کے کام تو آئے گا ۔ پڑھائی کے معاملے میں ہی نہیں ، امتیاز تو مجھ سے ہر معاملہ میں کیا گیا ۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی تغذیہ سے بھرپور غذا ہمیشہ بھائی کے حصے میں آتی۔ دو دن پھل اور انڈے کا پہلا حقدار وہ ہوتا۔ بچا کھچا روکھا سوھا کھانا میرے حصے میں آتا۔ ناقص تغذیہ کی وجہ سے میں خون کی کمی (Anemia) کا شکار ہوگئی جس سے میری صحت پر کافی اثر پڑا اور میرا خواب اس امتیاز کے ہتھے چڑھ گیا۔
’’کیوں تیاگ کرے ناری کیول …؟
کیوں نر دکھلائے جھوٹا بل …؟ ‘‘
جیسے تیسے پرائمری اسکول کی تعلم مکمل کر کے ہائی اسکول میں قدم رکھا تو میرے لئے مشکلیں اور بڑھ گئیں۔ اسکول دور تھا ، آتے جاتے غنڈہ قسم کے لڑکے مجھے چھیڑتے، لڑکے کے خلاف کوئی قدم ا ٹھانے کے بجائے میرا اسکول جانا فوراً بند کروادیا ۔ یہ کہہ کر کہ ابھی تک تو وہ لڑکا صرف مجھے چھیڑ رہا ہے ، کل کو کچھ اور کرے گا تو کون ذمہ دار ؟ اس طرح سے میرا اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب ملیامٹ ہوگیا اور میں سوچنے لگی اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو چھیڑتا ہے تو اس کیلئے کون ذمہ دار ہے ؟ وہ لڑکا جس نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی ؟ یا پھر وہ لڑکی جو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ جب بھی ایسے حادثات ہوتے ہیں تو لڑکی کو ہی کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے ؟ کیوں لڑ کوں کو قصوروار نہیں مانا جاتا ؟ اُن کی زیادتی کا خنجر ہماری ترقی اور با اختیاری پرہی کیوں چلتا ہے ؟ آخر کیوں ؟ ان سوالوں کا جواب مجھے کبھی نہیں ملا۔ترک تعلیم کرواکے مجھے گھر کے کام کاج میں مشغول کردیا گیا ۔ میں بیچاری 14 سالہ لڑکی نے اپنے بچپن کو چولہا چکی کی نذر کردیا ۔ اس کے باوجود گھر میں بیٹھی بیٹی والدین کو بہت کھلتی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس سے چھٹکارا پالیں کیونکہ انہیں لڑکی بوجھ جو لگتی ہے ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم لڑکیوں نے بھی اپنی ترقی کیلئے آنکھوں میں کاجل کے ساتھ ساتھ ان گنت خواب بھی سجا رکھے ہیں ۔
اور پھر زیادہ تر لڑکیوں کے خواب اس وقت بکھر جاتے ہیں ۔ جب کم سنی میں اُن کی شادی کردی جاتی ہے ۔ کبھی کسی بھگوان سے تو کبھی کسی حیوان جیسے کتا اور گائے وغیرہ سے ۔ یہ شادیاں کسی بھی لڑکی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ شادی کے فوراً بعد کم  سن لڑکیاں ماں بن جاتی ہیں۔ ایک لڑکی جو بذات خود قانوناً بالغ نہیں ہوئی وہ دوسری لڑکی کا بوجھ کیسے اُٹھا سکتی ہے ؟ جبکہ نہ تو اس کا جسم اس بات کیلئے تیار ہوتا ہے نہ ہی ذہن۔ اسی پریشانی میں وہ اپنی گھریلو ذمہ داریاں نہیں نبھا پائی تو اسے تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے ۔ کبھی شوہر ظلم ڈھاتا ہے تو کبھی سسرال والے ۔ کبھی جہیز کے لئے زندہ جلائی جاتی ہے تو کبھی زخموں سے جانبر نہیں ہوپاتی۔
غریبی مجھ جیسے کئی لڑکیوں کے خوابوںکی سب سے بڑی دشمن ہے جو کئی قسم کے دوسرے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ جیسے تعلیم سے دوری ، بچہ مزدوری ، کمسنی کی شادی یا بے جوڑ شادیاں ، جہیز کے اموات ، جنین کشی ، دختر کشی ، جسم فروشی ، صحت کے مسائل اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔غربت کے مسائل سے پیچھا چھڑانے کے لئے ایک دن کارخانہ چلی گئی ۔ دیکھا تو خواتین کو مردوں کے بہ نسبت کم اجرت دی جارہی تھی ۔ جب عورت اور مرد ایک ساتھ ایک جیسا کام کر رہے ہیں تو پھر یہ امتیاز کیوں ؟
ایسے ہی موقعوں پر دل سے ایک ٹیس سی اُٹھتی ہے اور دل کہتا ہے کاش ! عورت مرد کے تفرقات سے ہٹ کر عورت کو صرف انسان سمجھا جاتا تو میرے بھی کئی خواب پورے ہوتے۔ محلے میں ایک دن میئر صاحب کا جلسہ ہوا تھا جس میں وہ بڑے جوش و خروش سے کہہ رہے تھے کہ ہماری سرکار نے عورت کی حفاظت کیلئے، عورت کی ترقی کیلئے اور عورت کی بااختیاری کیلئے کئی اسکیمات پالیسی اور پروگرام ترتیب دیئے ہیں۔ ہاں میں بھی جانتی ہوں۔ دیکھا ہے میں نے ٹی وی پر لیکن ان یالیز یا پروگرامس نے میرے خوابوں کی تعبیر میں کوئی موثر رول ادا نہیں کیا ! میں بلا کسی رکاوٹ کے تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ RMSA-RTE Act یا پھر KBGV کوئی اسکیم بھی میرے تعلیم کی جاری رکھنے میں مددگار ثابت نہیں ہوئی ۔ بچوں کی شادی روکنے والے قانون میں اتنا دم نہیں تھا کہ میری شادی کو روک کر خاطیوں کو سزا دلاسکے۔ ہمارے دستور کے دفعات 14,15,16 مساوات کی بات کرتے ہیں اور ہر قسم کے امتیاز سے روکتے ہیں لیکن یہ قانون بھی میرے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور ناانصافیوں کو کبھی نہیں روک سکا۔
کسی کام کی وہ پالیسیاں، قوانین اور اسکیمات جو صرف کاغذی پیرہن لئے ہوئے ہیں؟ جب تک ان پر سختی سے عمل آوری نہیں ہوتی تب تک ہمارے خواب کبھی پورے نہیں ہوسکتے۔ اسکے باوجود اپنے خوابوں کی تعبیر کو پانے کیلئے مجھے خواب دیکھنے ہی ہوں گے  اور وہ بھی جاگتی آنکھوں سے اور مجھے خود ان خوابوں کو پورا کرنا ہوگا ورنہ کوئی کٹھ پتلی بناکر اپنے خواب مجھ سے پورے کروائے گا اور میں نہیں چاہتی کہ میں کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنوں۔ مجھے آج بھی اپنے آپ پر پورا اعتماد ہے کہ میں اپنے خوابوں کی تعبیر کو ایک نہ ایک دن پاکر رہوں گی کیونکہ والٹ ڈزنی نے کہا تھا ’’آپ کچھ کرنے کا خواب دیکھ سکتے ہیں تو آپ وہ کر بھی سکتے ہیں ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT