Sunday , November 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / میرے ساتھ کھیل کے دنوں میں امتیاز برتا گیا : سید کرمانی

میرے ساتھ کھیل کے دنوں میں امتیاز برتا گیا : سید کرمانی

Syed Mujtaba Hussain Kirmani

عنقریب خودنوشت میں انکشاف کرنیکا ارادہ ۔ کرنل نائیڈو ایوارڈ کیلئے نامزدگی کا مطالبہ
بنگلورو ، 30 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق ہندوستانی وکٹ کیپر سید کرمانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کھیل کے دنوں میں ساتھی کرکٹرز کے ہاتھوں انھیں جس طرح امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اُس کا وہ عنقریب خودنوشت میں انکشاف کریں گے۔ ’’میں اَنا اور تکبر کا شکار ہوا ہوں۔ یہ میرے ساتھ پیش آیا۔ جو کھلاڑی میرے ساتھ کھیلے وہ سلیکٹرز بن گئے۔ میں 1986ء سے 1993ء تک ڈومیسٹک سرکٹ سے جُڑا رہا اور میں نے شاندار پرفارمنس پیش کئے۔ مجھے کبھی فٹنس کا مسئلہ درپیش نہ رہا، اور نا ہی میں کسی تنازعہ میں گھِرا، اور پھر بھی مجھے منتخب نہیں کیا گیا، ایسی باتیں میری کتاب میں ملیں گی،‘‘ سید کرمانی نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ کتاب 2011ء ورلڈ کپ کے دوران ہی جاری کرنا چاہ رہے تھے، مگر انھیں گریزاں رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ ’’ہر چیز کیلئے کوئی وقت ہوتا ہے جیسا کہ میرے لئے وقت آچکا ہے کہ مجھے کرنل سی کے نائیڈو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کیلئے نامزد کیا جائے۔‘‘ کرمانی نے کہا کہ وہ اس کتاب کے نام کا فی الحال افشاء نہیں کریں گے۔ ’’اس کتاب کا عنوان پُرکشش رہے گا۔ اگر ٹائٹل کچھ متنازعہ نوعیت کا ہو تو کتاب تیزی سے فروخت ہوجائے گی۔‘‘ سید کرمانی نے اس بات پر بھی اپنی مایوسی کا اظہار کیا کہ انھیں ڈائریکٹر کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ اسوسی ایشن کی حیثیت سے برقرار رہنے کیلئے نہیں کہا گیا۔ ’’میں کے ایس سی اے کا چھ سال ڈائریکٹر رہا اور پھر وہ کہہ دیتے ہیں کہ بہت شکریہ! کیا وجہ رہی؟ کیا میری کارکردگی خراب رہی؟ (میرے ساتھ رویہ) کس اساس پر ہے؟ جناب! یہ تو سراسر اَنا کا معاملہ ہے۔‘‘ یہ پوچھنے پر کہ کس نے انھیں مایوس کیا، کرمانی نے کہا، ’’اور کون؟ اُن کی عددی طاقت (اقتدار) خود ظاہر کرتی ہے۔ اُن کے پیسے کی طاقت سے ظاہر ہوجاتا ہے‘‘۔ کرمانی نے کہا کہ وہ کوچنگ کا جاب حاصل کرنے مرے نہیں جارہے ہیں، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ انھیں اس کھیل کی خدمت کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ آئی پی ایل ٹیموں کی قیادت ہندوستانیوں کی بجائے بیرونی کھلاڑی کرنے کے تعلق سے کرمانی نے کہا کہ ہر ملک کو پہلے خود اپنے کھلاڑیوں کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ کپتانی یا کوچنگ کی قابلیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ’’ہم کیوں خود اپنے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ ہمارے پاس معقول اشخاص ہیں جو کیپٹن اور کوچ بن سکتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT