Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / میرے سرکارؐ کے نعلین مبارک کے نثار

میرے سرکارؐ کے نعلین مبارک کے نثار

حبیب محمد بن عبداﷲ رفیع المرغنی
میلاد پاک کی متبرک محافل میں شرکت کے دوران خوش الحان ثناء خوان رسولوں کے ذریعہ بارہا یہ شعر سننے میں آیاکہ   ؎
جو سر پر رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضوؐر
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں
اور ہر بار یہ حسرت دل میں مچل کر رہ گئی کہ کاش نعل پاک حضوؐر سے برکت حاصل کرنے کا موقع ملتا۔ اگرچہ ان گناہگار آنکھوں نے نعلین پاک کی مختلف تصویرات کی زیارت تو متعدد مرتبہ کی ہے مگر سر پہ رکھنے والا معاملہ نہیں ہوسکا۔ ایسے ہی ایک روز مدارج النبوہ کے مطالعہ کے دوران تعریف نعلین مبارکہ نظر سے گزری پھر علامہ عبدالرحمن ابن جوزی کی ’’الوفا‘‘ میں صفت نعلین مبارکہ پڑھی تو اشتیاق مزید بڑھا۔ علامہ محمود کردی کی کتاب تبرک الصحابہ بآثار رسول اللہ کے مطالعہ سے اس اعتقاد کو تقویت حاصل ہوئی کہ نعلین پاک سے تبرک حاصل کرنا کوئی امر بدعت نہیں بلکہ معمول صحابہ و تابعین رہا ہے۔ محدثین کی روایات اور مورخین کے بیانات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اﷲ رب العزت اور ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا بڑا کرم ہوا اور محترم سید منیرباشیبان نے بلگام میں بڑے پیمانے پر تبرکات کی زیارت کا اہتمام کیا جس میں نہ صرف شرکت کا موقع ملا بلکہ سرکار کے نعلین مبارک کو سر پر رکھنے کا شرف حاصل ہوا جو اس مضمون کا باعث بنا ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو سابقون الاولون اور بدری صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے حضور اکرمؐ کے نعلین مبارک اُٹھائے رکھنے کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن مسعود کے مناقب میں ان کی پہچان ہی صاحب النعلین والوسادۃ والمطہرہ لکھی ہے ۔
مواہب اللدنیہ اور علامہ ابن جماعہ کی مختصر السیرمیں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم کے نعلین بردار تھے جب کبھی حضوؐر کہیں تشریف لے جانے کے لئے اٹھتے تو یہ آپؐ کو نعلین پہناتے اور جب حضوؐر نعلین اتار کر تشریف فرما ہوتے تو یہ آپؐ کی نعلین اٹھا کر اپنے بازوئوں میں پہن لیتے تھے۔ (مواہب اللدنیہ)
امام زرقانی مواہب اللدنیہ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا حضوؐر کے نعلین مبارک کو اپنے بازوئوں میں پہن لینے کا راز یہ تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو حضوؐر کی خدمت کے لئے خالی رکھتے تھے تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ اپنے ہاتھوں سے حضوؐر کی خدمت بجالائیں۔

احترام نعلین پاک جو صحابہ سے متوارث چلا آتا ہے، ہر دور میں عاشقان رسول کے ہاں یکساں رہا ہے بلکہ عام و خاص امراء و فقراء سبھی نعلین مبارکہ کو محترم سمجھتے رہے ہیں۔یہ تو تھا معاملہ برکات و احترام نعلین پاک کا۔ اب ذرا اس سے آگے بڑھئے تو معلوم ہوگا کہ عاشقان رسولؐ تو نقش کف پائے رسول ؐپر مرمٹنے کو تیار ہیں۔ حضرت علامہ عبدالرحمن جامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
چوں سوئے من گزر آری من مسکیں زنا داری
فدائے نقش نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ
ایک اور عاشق رسول نقش نعلین کو اپنا سرمایہ افتخار سمجھتے ہوئے یوں گویا ہیں:
بمقامیکہ نشان کف پائے تو بود
سالہا سجدہ صاحب نظراں خواہد بود
ترجمہ:جس مقام پر آپ کے پاؤں مبارک کے قدموں کا نشان ہے ہم صاحب نظر اس قدم شریف کے نشان پر مدتوں سجدے کریں گے۔
بات صرف نقش نعلین پر ہی ختم نہیں ہوتی اور نہ نعلین و نقش نعلین کے احترام و برکات پر بلکہ بعض علماء نے تو عکس نقش نعلین رسولؐ کو بھی باعث برکت بتایا ہے۔ یہ چند سطور تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میری طرح اور بھی اگر کچھ دوست ’’تاجداری‘‘ کے حصول کے متمنی ہوں تووہ سرکار دوعالمؐ کے نعلین پاک کے نقش و عکس سے یہ تمنا پوری کرنے کے لئے اس کے فضائل و برکات کا مطالعہ فرمائیں اور استفادہ کریں۔

نقش نعلین پاک کے بہت فوائد ہیں جو علمائے کرام نے معتبرہ و مستند حوالوں سے اپنی تالیفات میں نقل کئے ہیں۔ مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:اس نقش شریف کے آثار ، خواص و فضائل کو کون شمار میں لاسکتا ہے مگر اس مقام پر (یعنی رسالہ نیل الشفاء بنعل المصطفیٰ میں) نہایت اختصار کے ساتھ کتب معتبرہ علمائے محدثین و محققین سے چند برکات اور کچھ ابیات برائے ذوق و شوق نقل کئے جاتے ہیں۔
’’فتح المتعال فی مدح خیر النعال‘‘ میں علامہ محدث حافظ تلمسانی فرماتے ہیں کہ اس نقش پاک کے فوائد اس قدر واضح ہیں کہ محتاج بیان نہیں۔ ان فوائد عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ ابو جعفر کا کہنا ہے کہ میں نے ایک طالب علم کو نقش نعلین بنوادیا تھا، چنانچہ ایک روز اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کل رات اس نقش پاک کی ایک عجیب برکت دیکھی۔ ہوا یوں کہ رات کو میری بیوی کوشدید درد اٹھا، میں نے یہ نقش پاک اس کی درد کی جگہ پر رکھ کر اﷲ تعالیٰ سے التجا کی۔ یااﷲ مجھے اس کی برکت سے صاحب نعلینؐ کی برکت دکھلا اور میری بیوی کو شفا عطا فرما۔ چنانچہ اﷲ کے فضل سے فورا ًشفاء ہوئی۔

نقش نعل رسولؐ کے فضائل وبرکات میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جن میں محدث تلمسانی ’’فتح المتعال فی مدح خیر النعال‘‘ کے علاوہ دیگر کئی علماء متقدمین و متاخرین نے نعلین پاک کے نقش کے فضائل وبرکات میں کم وبیش پچاس مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ محدث تلمسانی کی کتاب کی کئی شروح اور کئی خلاصے چھپ چکے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ محدث تلمسانی نے یہ کتاب موضوع کی مناسبت سے مسجد نبوی میں حضور اکرمؐ کے قدمان ناز کی سمت بیٹھ کر لکھی ہے۔ شیخ محقق، علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ نقش نعلین کی تعریف و مدح میں اور اس کے فضائل میں بے شمار قصیدے لکھے گئے ہیں۔ابو المحاسن علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی نے وصف و تعریف نعلین مبارکہ میں طویل قصیدہ لکھا ہے جس کے مندرجہ ذیل دو شعر ہدیہ قارئین ہیں۔
انی خدمت مثال نعل المصطفی
لاعیش فی الدارین تحت ظلالہا
سعد بن مسعودؓ بخدمۃ نعلہ
وانا السعید لخدمتی لمثالہا
فرماتے ہیں، میں نے (یہ قصیدہ لکھ کر) نقش نعل مصطفیؐ کی جو خدمت کی ہے، وہ اس نظریہ سے ہے تاکہ میں دنیا و آخرت میں ان کے سائے میں زندگی بسر کروں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضوؐر کے نعلین کی خدمت کرکے شاداں و فرحاں تھے، اور میں حضوؐر کے نعلین کے نقشہ کی خدمت کرکے خوش ہوں۔

مواہب لدنیہ میں علامہ احمد قسطلانی تحریر فرماتے ہیں کہ نقش نعلین شریف مقام درد پر رکھنے سے درد سے نجات مل جاتی ہے اور پاس رکھنے سے راہ میں لوٹ مار سے محافظت ہوجاتی ہے اور شیطان کے مکروہ فریب سے امان میں رہتا ہے اور حاسد کے شروفساد سے محفوظ رہتا ہے۔ مسافت طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔قاسم بن محمد کا قول ہے کہ اس نقشہ کی آزمائی ہوئی برکت یہ ہے کہ جو شخص اس کو تبرکاً اپنے پاس رکھے، ظالموںکے ظلم سے، دشمنوں کے غلبہ سے، شیطان سرکش سے اور حاسد کی نظر بد سے امن وامان میں رہے گا اور اگر حاملہ عورت زچگی کی تکلیف کے وقت اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھے تو بفضلہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان ہو۔
صاحب فتح المتعال علامہ تلمسانی فرماتے ہیں کہ ایک اثر خود میرا مشاہدہ کردہ ہے اور وہ یہ کہ ایک بار سفر دریائے شور کا اتفاق ہوا اور دوران سفر ایک بار ایسی حالت ہوئی کہ سب ہلاکت کے قریب تھے۔ کسی کے بچنے کی امید نہ تھی۔ میں نے نقشہ نعلین ناخدا کے پاس بھیج دیا تاکہ اس سے توسل کرے چنانچہ اسی وقت اﷲ تعالیٰ نے عافیت فرمائی۔
حافظ زین الدین العراقی نے سیرت النبیؐ ایک ہزار اشعار میں لکھی ہے۔ ان میں سے بعض اشعار حضوؐر کے نعلین مبارکہ کے بارے میں ہیں۔ ہر ہر شعر عشق و محبت مصطفی کا آئینہ دار ہے۔لکھتے ہیں:
ونعلہ الکریمہ المصونہ
طوبیٰ لمن مس بہا جبینہ
حضوؐر کے نعلین بڑے برکت والے ہیں
خوش نصیب ہے وہ جس نے اپنی پیشانی کو ان سے مس کیا۔
میرے سرکارؐ کے نعلین مبارک کہ نثار
آج تک عرش معلیٰ کو مزہ ملتا ہے

TOPPOPULARRECENT