Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / میلاد النبی ﷺ پر خلوص دل سے اظہار مسرت کیا جائے

میلاد النبی ﷺ پر خلوص دل سے اظہار مسرت کیا جائے

بانی جامعہ نظامیہ حضرت العلامہ شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اﷲفاروقی رحمۃ رب الانامؒ  فرماتے ہیں اگر خلوص نیت اور صدق دل کے ساتھ اظہار مسرت کیا جائے تو حق تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت دونوںمیں اس کا بدلہ ضرور عنایت ہوگا۔ کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ کے محبوب ہیں اور محبوب کے وجود پہر جس قدر خوشی کی جائے باعث خوشنودی حبیب ہوگی۔ اور جس سے خدائے تعالیٰ خوش ہو اس کو کس چیز کی کمی ہے۔ دیکھئے الملک المظفر ابو سعید کو کوبری رحمہ اللہ کو رب تعالیٰ نے کیسی برکت عنایت فرمائی۔ ہر سال میلاد شریف کی دعوت میں پانچ ہزار بھنی ہوئی بکریاں، دس ہزار مرغ، ایک لاکھ روٹیاں اور ایک لاکھ مسکہ کی ٹکیاں اور تیس ہزار میٹھے کے برتن عام و خاص مہمانوں کے لئے تیار کئے جاتے اور جو بھی علماء و صوفیاء کرام شریک ہوتے ان کو خلعتیں بھی پیش کی جاتیں۔ أبو سعید رحمہ اللہ پہلے بادشاہ ہیں جنہوںنے میلاد شریف کے موقع پر کھانا کھلانے کا اہتمام کیا۔ ان کی یہ دعوت دیگر صدقات علانیہ اور صدقات سیریہ کے علاوہ ہوتی تھیں۔

بانی جامعہ نظامیہ حضرت العلامہ شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اﷲفاروقی رحمۃ رب الانامؒ  فرماتے ہیں۔ ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار کیا تب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میلاد شریف میں کھانا کھلانے کے متعلق فقھاء کرام کے اقوال کو ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جو ہم سے خوش ہوتے ہیں ہم بھی ان سے خوش ہوتے ہیں)  مومنین کے لئے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی سے بڑی کیا نعمت ہوگی۔ اس خوشی کے منانے میں منکرات و مکروہات سے اجتناب نہایت ضروری ہے۔

بانی جامعہ نظامیہ حضرت العلامہ شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اﷲفاروقی رحمۃ رب الانامؒ  فرماتے ہیں ’’یاد رہے کہ بغیر صدق نیت کے کسی کار خیر کا فائدہ نہ دنیا میں حاصل ہوتا ہے نہ آخرت میں‘‘ عدم اخلاص اور غرض فاسد سے بچنے کے ساتھ ان چیزوں سے بھی اجتناب ضروری ہے جو شریعت اسلامیۃ میں ناجائز و ممنوع ہیں۔مثلاً ان محافل کے انتظامات وغیرہ میں مشغول ہو کر نمازوں سے کوتاہی کرنا بالکل آخری وقت میں نہایت تیزی کے ساتھ ادا کردینا جس میں تعدیل ارکان کا کوئی پاس و لحاظ نہ رہے تو یہ مذموم ہے بلکہ اس موقع کا لحاظ کرتے ہوئے ہر نیک اور اچھے کام کو زیادہ اہتمام اور عمدگی سے ادا کیا جائے تو باعث خوشنودی اور استحقاق انعام ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT