Friday , September 21 2018
Home / جرائم و حادثات / میل اسکارٹ کے نام پر دھوکہ دینے والی ٹولی بے نقاب

میل اسکارٹ کے نام پر دھوکہ دینے والی ٹولی بے نقاب

انٹرنیٹ کے ذریعہ خواتین کو فراہم کرنے کا ریاکٹ 400 افراد شکار

انٹرنیٹ کے ذریعہ خواتین کو فراہم کرنے کا ریاکٹ 400 افراد شکار
حیدرآباد /9 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) انٹرنیٹ اشتہار کے ذریعہ ’’ میل اسکارٹ ‘‘ کے نام پر ھوکہ دینے والی ٹولی کو پولیس نے بے نقاب کردیا ۔ جو دولت اور لذت کی پیشکش کرتے ہوئے نوجوانوں کو راغب کر رہے تھے ۔ گذشتہ ایک سال سے جاری اس دھوکہ دہی کے معاملہ پر بالا آخر سائبر کرائم پولیس نے اپنی توجہ مرکوز کی اور تین افراد کو گرفتار کرلیا ۔ مارکیٹنگ انٹلی جنس یونٹ کی جانب سے توجہ دہانی پر از خود کیس درج کرتے ہوئے سائبر کرائم نے اس گھناؤنے ریاکٹ کو بے نقاب کردیا ۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈیٹکٹیو ڈپارٹمنٹ مسٹر بالاراجو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ان تینوں ملزمین کو پیش کیا 29 سالہ گوندا تکارام ساکن آصف نگر 27 سالہ ایم شرانپا ساکن منگل ہاٹ اور 28 سالہ راجو ساکن کاروان کو گرفتار کرلیا ۔ ان تینوں ملزمین نے انٹرنیٹ پر’’ میل اسکارٹ ‘‘کیلئے اشتہار جاری کیا تھا اور خواہش مند امیدواروں کو سوغاتیں فراہم کرنے کی لالچ دی تھی ۔ اور دو اسکیموں کو متعارف کروایا تھا ۔ 10 ہزار روپئے ادا کرنے پر ایک سال کی اسکیم اور 6 ہزار ادا کرنے پر 6 ماہ کی اسکیم اور چند شرائط بھی درج کردئے تھے اور ہر میٹنگ پر 20 تا 25 ہزار روپئے حاصل ہونے کی بات کی گئی تھی ۔ ایک طرف روپیوں اور دوسری طرف لذتوں کی پیشکش کو دیکھ کر سینکڑوں افراد نے اپنے نام اندراج کروائے ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان تینوں میں دو افراد چوتھی جماعت اور ایک نے 10 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی ۔ جیسے ہی ان ملزمین کی جانب سے بتائے گئے بینک اکاونٹ میں رقم جمع ہوجاتی ہے لوگ اپنا فون بند کردیتے تھے ۔ اس طرح اس ٹولی نے 6 بینک اکاونٹس کے ذریعہ رقم کو اپنے کھاتوں میں جمع کروالیا تھا ۔ یہ لوگ تین ماہ تک جتنا ہوسکے عوام کو ٹھگ لیتے اور پھر فون نمبرات کے علاوہ ویب سائیٹ کو بھی بند کردیتے تھے ۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ تلنگانہ ، آندھراپردیش اور مہاراشٹرا ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس ٹولی کی دھوکہ کا شکار ہوئے ۔ پولیس کے بیان کے مطابق تقریباً 400 افراد کے ذریعہ اس ٹولی نے 35 تا 40 لاکھ روپئے ہڑپ لئے ۔ سال 2013 میں ان افراد نے اس ریاکٹ کا آغاز کیا تھا ۔ گرفتار افراد میں 29 سالہ تکارام اس طرح کی ایک ریاکٹ کی دھوکہ کا شکار ہوا تھا جس کے بعد اس نے منصوبہ تیار کرتے ہوئے خواتین کیلئے مرد افراد کو فراہم کرنے کا یہ گھناؤنا انداز بنایا تھا ۔ ڈی سی پی ڈی ڈی مسٹر بالا راجو نے اس طرح کی دھوکہ باز اسکیموں سے ہوشہار رہنے کی عوام سے درخواست کی ۔ اس موقع پر اے سی پی سائبر کرائم ڈاکٹر بی انورادھا ، انسپکٹر ماجد علی خان ، سب انسپکٹر وینو گوپال ، راگھو ، سنیل اور وسیم موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT