Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / میوؤں کا بادشاہ ’’آم‘‘

میوؤں کا بادشاہ ’’آم‘‘

صابر پٹیل صدر حیدرآباد مینگو گروورز اسوسی ایشن

قارئین اکرام کی خدمت میں ہر سال آم کے بارے میں میرے جو کچھ ناقص معلومات ہیں پیش کرتا رہتا ہوں۔ آم کے باغات، آم کی فصل ، آم کے اقسام ، آم کی برآمدات اور خصوصاً آم کی تاریخ پر روشنی ڈالتا ہوں۔ اسی مضمون میں اپنے دورۂ کینیڈا اور امریکہ کا ذکر کرتا ہوں۔
اب کے سال آموں کی فصل بہت بہتر ہے ۔ انشاء اللہ کافی آم مارکٹ میں آئے گا ۔ بارش اچھی ہونے سے فصل بھی اچھی ہے ، آم سستے داموں سے فروخت ہوگا۔
آم کی تاریخ : آم بھارت میں چھ ہزار سال قبلِ مسیح سے پایا جاتا ہے ۔ رامائن اور مہا بھارت میں آموں کا ذکر ہے ۔ قدیم شاستروں اور طبی کتابوں میں مختلف ناموں سے آم کا ذکر کیا گیا ہے ۔ سنسکرت زبان کے مشہور شاعر کالیداسؔ نے اپنی مشہور تصانیف ’’شکنتلا‘‘ اور ’’میگھ دت‘‘ میں آموں کا ذکر کیا ہے ۔ قدیم زمانے میں بطور تحفہ آم پیش کرنا قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ چنانچہ گوتم بدھ جب امرپالی کی کٹیا پر پہنچتے تو ان کی ضیافت آم اور دوسرے پھلوں سے کی گئی۔
ہندو مت والے آم کے درخت کو کافی متبرک سمجھتے ہیں۔ شادیوں اور تہواروں کے موقعوں پر آم کے پتوں کی لڑیاں دروازوں پر باندھتے ہیں۔
آم کو دیوتاؤں کا ’’بھوگ‘‘ یعنی ان کی مرغوب غذا سمجھا جاتا ہے ۔اسی وجہ سے بنگال کے چند مخصوص قسم کے آم دیوتاؤں کے بھوگ سے منسوب کئے گئے ہیں ۔ مثلاً ’کیش بھوگ‘ ، ’موہن بھوگ‘ اور ’گپت بھوگ‘ وغیرہ۔
مسلم حکمرانوں نے بھی آم کی بہتر سے بہتر فصل کیلئے بہت کاوشیں کی ہیں۔ مغل شہنشاہوں کو آم بہت مرغوب رہا ہے ۔ شہنشاہ بابر کو آم بہت پسند تھے۔ انہوںنے اپنی سوانح حیات ’’تزک بابری ‘‘ میں آم کی بہت تعریف کی ہے ۔ لکھتے ہیں’’اس پھل کی حلاوت کا مقابلہ کوئی دوسرا پھل نہیں کرسکتا۔ شہنشاہ اکبر کو بھی آم بہت پسند تھے ، سب سے پہلی امرائی (آم کا باغ) دربھنگا (بہار) میں لگایا گیا جس میں تقریباً ایک لاکھ عمدہ قلمی آموں کے درخت لگائے تھے ۔ اس باغ کو ’’ایک لگھا باغ‘‘ کہا جاتا تھا ۔
آم کے اقسام اور پیداوار : آندھراپردیش اور تلنگانہ کو ہندوستان میں آم کی پیداوار کیلئے امتیازی مقام حاصل ہے ۔ یہاں تقریباً دو لاکھ ستر ہزار ہیکڑ زمین پر آم کے با غات پھیلے ہوئے ہیںاور سالانہ تقریباً 30 لاکھ ٹن آم کی پیداوار ہوتی ہے ۔ آندھراپردیش میں کاشت کئے جانے والے آموں میں بیگن پلی ( بے نشان) اور سفیدہ ریاست کے بڑے رقبے پر قابض ہیں ۔
’’پدا رسم‘‘ اضلاع مشرقی و مغربی گوداوری اور کر شنا کے مشہور آم ہیں۔ نوز ویٹر علاقہ کی مشہور قسم ’’چنا رسم‘‘ ہے۔ رائلسیما علاقہ کا مشہور آم ’’نیلم‘‘ ہے جو تجارتی لحاظ سے جنوبی ہند کا مشہور آم ہے ۔ ’’دسہری ‘‘ شمالی ہند کا کمرشیل آم ہے  جس کی شمالی تلنگانہ میں عمدہ فصل ہوتی ہے ۔ سورنا ریکھا (سندری۔ لال سندری) وشاکھاپٹنم اور سری کا کلم کی مشہور قسم ہے ۔ طوطا پری (بنگلورہ ، کلکٹر ، لارڈ) کی فصل زیادہ تر خشک علاقوں میں ہوتی ہے ۔ ان اقسام کے علاوہ محمودہ وقار آباد ، امرپالی، نونیتم اور رائل اسپیشل کی کاشت بھی ریاست میں ہوتی ہے ۔ حیدرآباد کے سرمایہ دار طبقے کے لوگوں کے باغات میں بہتر سے بہتر اور نفیس آم مثلاً مرغوبہ (ملغوبہ)، گوا ، اعظم الثمر وغیرہ ہوتے ہیں جو بازار تک کم پہنچتے ہیں۔
الغرض بھارت میں ایک ہزار سے زائد اقسام کے آموں کی کاشت کی جاتی ہے ۔ مثلاً حمایت ، لنگڑا، فضلی (فجری) ، الفسونسا، دلپسند، چرکورسال ، سرولی، بہشت (چاوسا) بمبئی پیڑہ ، رس ملائی ، کالی پری ، برہان ، گوٹی ، لال پری ، الائچی ، گلبدن ، کاجو وغیرہ ۔
آم کی برآمدات : ہر سال ہندوستان سے تقریباً چالیس تا پچاس ہزار ٹن آم  40 ممالک کو برآمد کیاجاتا ہے جن میں خلیجی ریاستیں، فلپائن ، پاکستان ، ایران ، انڈونیشیا ، ملایشیا ، آسٹریلیا ، دبئی اور اسرائیل وغیرہ شامل ہیں۔ امیر انٹرپرائزس، ٹولی چوکی سے بھی کافی مقدار میں آم اکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ امریکہ میں ہندوستان کے آم برآمد نہیں کئے جاتے۔ برسوں قبل اس وقت کے صدر امریکہ ’’جارج بش‘‘ کے دورہ حیدرآباد میں خواہش کی گئی تھی کہ آندھرا سے امریکہ کو آم کی برآمدات کی اجازت دی جائے اور انہوں نے غور کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔
میرے حالیہ دورۂ کینیڈا اور امریکہ میں ’’حیدرآباد مینگو گروورز اسوسی ایشن کی جانب سے حکومت امریکہ کو بذریعہ مراسلہ یادداشت  پیش کی گئی ۔ اربابِ مجاز حکومتِ ہند سے خواہش کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کر کے امریکہ کو آم برآمدات کا اجازت نامہ حاصل کریں۔
آم کے خواص : آم غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے ۔ شیریں اور لذیذ ہوتا ہے ، اس میں معدنی اجزاء اور پروٹین کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ بینائی کو جلا بخشتا ہے ۔ جسم اور ہڈیوں کی نشو و نما کرتا ہے آم (کیری) بھوک میں اضافہ کرتا ہے ۔ صفرے کی زیادتی کو دور کرتا ہے ۔ قبض کو دور کرتا ہے ۔ یہ خون آور میوہ ہے ، حلق کی خراش کے لئے آم کے پتوں کا دھواں دیں تو افاقہ ہوتا ہے ۔
آخر میں ’’حیدرآباد مینگو گروورز اسوسی ایشن کے بارے میں ذکر کرتا چلوں۔ اس اسوسی ایشن نے اب تک کئی افراد کو آم کے باغات کے سلسلے میں مفید مشورے دیئے ہیں اور ان باغات میں اچھی فصل آرہی ہے ۔
آم کی فصل ، آم کے باغات کے لئے کھاد اور دواؤں کے استعمال کے بارے میں جدید تکنیک کے استعمال کے سلسلے میں مفید مشوروں کیلئے اسوسی ایشن سے ربط پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ٹیلیفون نمبر 9397007969 پر ربط پیدا کریں۔

TOPPOPULARRECENT