Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / میٹرو اور سٹ ون ساتھ ساتھ

میٹرو اور سٹ ون ساتھ ساتھ

حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کی آمد کے ساتھ لاکھوں مسافرین کو یہ امید تھی کہ ان کے اہم مسائل حل ہوجائیں گے اور سفر کم وقت میں آرام دہ بھی ہوجائے گا لیکن میٹرو ریل نے اپنے ساتھ اپنے مسائل لائے ہیں کیوں کہ کئی میٹرو ریل اسٹیشن سے مکان اور دفتر تک پہنچنا ہنوز ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ دریں اثناء میٹرو ریل اور سٹ ون نے اب ریلوے اسٹیشن سے گھر اور دفتر کے سفر کو آسان بنانے کے لیے آپس میں تعاون کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ کے ٹی راما راؤ کے حوالے سے میونسپل سکریٹری اروند کمار کے ٹوئیٹ کے بموجب سٹ ون کے تحت شہر میں 100 برقی بسیں اور رکشے متعارف کئے جائیں گے جو کہ مرکزی بجٹ 2018-19 کا ایک حصہ ہیں جس کے تحت مرکزی حکومت اس پراجکٹ کی تکمیل پر 60 فیصد سبسیڈی فراہم کرے گی ۔ ہندوستان کے 10 شہروں کے لیے یہ منصوبہ منظور ہوا ہے ۔ جس میں حیدرآباد بھی شامل ہے ۔ یہاں اس مسئلے کا تذکرہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ میٹرو ریل کی آمد کے بعد بھی مسافرین کے مسائل کے ختم ہونے میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوا کیوں کہ جس مقام پر ریلوے اسٹیشن قائم ہوا ہے وہاں سے گھروں اور دفاتر کا فاصلہ طئے کرنا ہنوز ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کیوں کہ میٹرو اسٹیشن سے شہر کے اہم مقامات کو جوڑنے کے لیے منی بسیں ، مخصوص گاڑیاں ہنوز دستیاب نہیں ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میٹرو اسٹیشن سے اترنے کے بعد گھروں اور دفاتر کا فاصلہ طئے کرنا پھر ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ جس کے لیے پھر بسوں کا انتظار ، آٹو والوں کے من چاہے کرائے ادا کرنا یا پھر پیدل ایک طویل راستہ طئے کرنا میٹرو ریل کے ساتھ آنے والے عوام کے لیے نئے مسائل ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT