Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / میٹرو ریل پراجیکٹ پرانے شہر کیلئے محض ایک خواب

میٹرو ریل پراجیکٹ پرانے شہر کیلئے محض ایک خواب

ایل اینڈ ٹی نے پراجیکٹ بند کردیا، نئی روٹ پر کام کرنے سے انکار، مقامی جماعت ذمہ دار
قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کی میٹرو ریل پراجکٹ منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی سے ملاقات
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے عوام کیلئے میٹرو ریل محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے منیجنگ ڈائرکٹر حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ این وی ایس ریڈی سے ملاقات کی۔ محمد علی شبیر نے پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے یہ ملاقات کی جس پر این وی ایس ریڈی نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ جاریہ کاموں کی تفصیلات بیان کی۔ ریڈی نے واضح کردیا کہ املی بن تا فلک نما روٹ پر میٹرو ریل پراجکٹ شاید ہی شروع ہوپائے کیونکہ پراجکٹ کی تکمیل کرنے والی کمپنی ایل اینڈ ٹی نے نہ صرف پرانے شہر کے علاقوں سے گذرنے والی روٹ کے پراجکٹ کو بند کردیا ہے بلکہ مقامی جماعت کی جانب سے تجویز کردہ موسی ندی کے راستے کی روٹ کا سروے کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح پرانے شہر کے عوام کیلئے میٹرو ریل محض ایک خواب بن کر ہی رہ جائے گا۔ پراجکٹ میں رکاوٹ کیلئے پرانے شہر کی مقامی جماعت ذمہ دار ہے جس نے مختلف بہانوں کے ذریعہ پراجکٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔ پراجکٹ کی تکمیل سے نہ صرف پرانے شہر کی ترقی ممکن تھی بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بالواسطہ مواقع فراہم ہوسکتے تھے۔ این وی ایس ریڈی نے محمد علی شبیر کو پراجکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ کی مالیت 14000 کروڑ تھی جو بڑھ کر18000 کروڑ ہوچکی ہے۔ پبلک ۔ پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ پراجکٹ دنیا کا سب سے بڑا پراجکٹ ہے۔ سنگاپور میں میٹرو ریل کی مسافت صرف 29 کلو میٹر ہے۔ میٹرو ریل پراجکٹ میں مرکزی حکومت کی حصہ داری 10فیصد ہے اور مرکز نے 1400 کروڑ کے منجملہ 1100 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے ہیں۔ ایل اینڈ ٹی باقی 90 فیصد کی تکمیل کررہا ہے۔ ریاستی حکومت کا کام اراضی فراہم کرنا ہے جس کے تحت لینڈ ایکویزیشن پر 3000 کروڑ روپئے صرف کئے جارہے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں میاں پور تا ناگول میٹرو ریل کا کام مکمل ہوچکا ہے جس کا افتتاح بہت جلد وزیر اعظم کے ذریعہ کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلہ میں املی بن تا ایس آر نگر اور املی بن تا ایل بی نگر روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تلنگانہ حکومت کے بعض اعتراضات کے سبب کوٹھی اور اسمبلی کے علاقوں میں کام کے آغاز میں تاخیر ہوئی ہے۔ سابقہ پراجکٹ کے مطابق املی بن تا فلک نما ساڑھے پانچ کلو میٹر کی مسافت کی تکمیل کا منصوبہ تھا۔ یہ روٹ املی بن سے براہ دارالشفاء، پرانی حویلی، منڈی میر عالم، سلطان شاہی، ہری باؤلی تا فلک نما طئے کی گئی تھی اور اس کے سروے کا کام بھی مکمل کرتے ہوئے سڑک کی توسیع کا منصوبہ تیار کرلیا گیا تھا۔ تاہم مقامی جماعت نے اس پراجکٹ کی مخالفت کی اور موسی ندی کے کنارے سے براہ پرانا پُل، بہادر پورہ، فلک نما تک نئی روٹ کی نشاندہی کی۔ حکام نے کہا کہ موسی ندی کے راستے سے میٹرو ریل کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس راستہ پر میٹرو ریل چلانا ممکن ہے لہذا ایل اینڈ ٹی نے املی بن تا فلک نما روٹ کے پراجکٹ کو عملاً ختم کردیا ہے۔ میٹرو ریل لمیٹیڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ اگر حکومت موسی ندی کے کنارے سے روٹ کی تجویز پیش کرتی ہے تب بھی کمپنی اس کی تکمیل کیلئے تیار نہیں۔ املی بن تا فلک نما پرانے شہر کے راستے سے پراجکٹ کی لاگت ابتداء میں 1400 کروڑ تھی جو بڑھ کر 2000 کروڑ ہوچکی ہے اور ایک کلو میٹر کیلئے 250 کروڑ کا خرچ آسکتاہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فلک نما تا شمس آباد میٹرو ریل پراجکٹ کے امکانات بھی موہوم دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ہائی ٹیک سٹی سے شمس آباد روٹ پر کام کی باآسانی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ پرانے شہر کے عوام اس پراجکٹ کے آغاز کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے اور انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ میٹرو ریل کی آمد سے پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔ لیکن مقامی جماعت کی ناعاقبت اندیش پالیسی نے عوام کو مایوس کردیا ہے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مقامی جماعت کے رویہ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف پرانے شہر کی ترقی کیلئے حکومت سے نمائندگی کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف میٹرو ریل جیسے پراجکٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ کی عدم تکمیل سے پرانے شہر کی پسماندگی برقرار رہے گی اور عوام کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ان کی نام نہاد قیادت پسماندگی کی برقراری کے حق میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT