Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / میٹرو ریل پراجیکٹ کے کاموں کی جنگی خطوط پر تکمیل کی کوششیں

میٹرو ریل پراجیکٹ کے کاموں کی جنگی خطوط پر تکمیل کی کوششیں

پرانے شہر کے سوا سارا پراجیکٹ نومبر 2018 میں مکمل ہوجائیگا ۔ مینیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد /8 ستمبر (سیاست نیوز ) میٹرو ریل پراجکٹ کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ میٹرو ٹرین کے کام جنگی خطوط پر انجام دئے جارہے ہیں ۔ آئندہ ماہ ٹرائیل رن کا جائزہ لیا جائیگا ۔ 30 کیلومیٹر تک ریلوے لائین بچھانے کا کام آخری مراحل میں ہے ۔ سوائے پرانے شہر کے میٹرو ٹرین پراجکٹ آئندہ سال نومبر 2018 میں مکمل ہوجائے گا ۔ آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این وی ایس ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کی ہدایت پر 30 کیلومیٹر تک میٹرو ٹرین چلانے کے کاموں کو جنگی خطوط پر انجام دیا جارہا ہے کیونکہ 28 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی اس کا افتتاح کرنے والے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں تین کاریڈار پر مشتمل 30 کیلومیٹر تک ناگول تا امیرپیٹ 17 کیلومیٹر اور میاں پور سے امیرپیٹ 13 کیلومیٹر تک میٹرو ٹرین چلائی جائیگی ۔ میاں پور سے امیر پیٹ تک 11 اسٹیشنس اور ناگول سے امیرپیٹ تک 13 اسٹیشنس پر ٹرین رکے گی ۔ امیر پیٹ میں انٹر چینج رہے گا ۔ میاں پور سے ناگول جانے والوں کو امیر پیٹ سے دوسری ٹرین لینا پڑے گا ۔ عوام کی سہولت کیلئے سیڑھیاں ، اسکالیٹرس، لفٹس لگائے جارہے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں سے ہر حرکت پر نظر رکھی جائے گی ۔ دونوں کاریڈارس کے 30 کیلومیٹر سفر میں جملہ 25 اسٹیشنس رہیں گے ۔ تعمیری کاموں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ میٹوگوڑہ تا امیر پیٹ تک 9 کیلومیٹر ڈکٹ کے کام مکمل ہوگئے ۔ چلکل گوڑہ ، الاگڈہ ، بیگم پیٹ ، آروپی پر بھی کام تکمیل کے قریب ہے ۔ اسٹیشن کے پاس پلیٹ فارمس ، اسٹیشنس روپ ورک ، روف شیٹنگ ورکس بھی مکمل ہوگئے ہیں ۔ ایلفنٹا ریلوے برج کے پاس اسٹیل گڈر فیٹنگ کے کام آخری مراحل میں ہیں ۔ ٹریکشن ویرنگ 19.8 کے ٹی ایم ( کیلو فار میٹر) کے منجملہ 11.22 کے ٹی ایم ویرنگ مکمل ہوئی ہے ۔ ٹریک کے کام بھی 83.3 فیصد مکمل ہوئے ہیں ۔ ٹیلی کمیونکیشن انسٹرالیشن ورک بھی پایہ تکمیل کو پہونچ گیا ہے ۔ سگنل اینڈ ٹریفک کنٹرول سسٹم کا کام بھی مکمل ہوگیا ہے ۔ 17 ایکسلیٹرس تنصیب کرنے کے کام آخری مراحل میں ہیں ۔ مزید 18 ایلوٹرس کے کام جاری ہیں ۔ امیر پیٹ پر انٹر چینج سلاب کا کام جاری ہے جو 15 اکٹوبر تک مکمل ہوجائیگا ۔ تقریباً 15 ہزار کروڑ کی لاگت سے میٹرو ٹرین پراجکٹ مکمل کیا جارہا ہے ۔ مرکزئ حکومت نے 1458 کروڑ کی مدد کی ہے ۔ ماباقی ایل اینڈ ٹی سرمایہ کاری ہے ۔ حصول اراضیات ، سڑکوں کی توسیع کاموں کیلئے حکومت نے 1980 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ معاہدہ کے مطابق پراجکٹ کی تکمیل کے 35 سال بعد حکومت کے حوالے کیا جائے گا ۔ ساری دنیا میں 200 میٹرو ٹرین کے پراجکٹس میں صرف سنگارپور ، ہانگ کانگ ، ٹوکیو کے میٹرو پراجکٹس فائدے میں ہیں ۔ کیونکہ ان پراجکٹس کے اسٹیشن میں مال ، شورومس ، اڈورٹائسنگ ، پارکنگ وغیرہ سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے ۔ حیدرآباد پر اسی سسٹم کے تحت کام کیا جارہا ہے ۔ این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ آر ٹی سی بسوں کو میٹرو ٹرین سرویس سے مربوط کیا جائے گا ۔ منی بسوں کا انتظام کرتے ہوئے خصوصی بس بیز کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ آر ٹی سی ، ایم ایم ٹی ایس اور میٹرو ٹرین کیلئے اسمارٹ کارڈ اور ایپ تیار کیا جارہا ہے ۔ ہر اسٹیشن کے قریب 600 میٹرس وائیٹ ٹیاپنگ سڑک تعمیر کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT