Saturday , December 15 2018

میٹرو ریل کا آر ٹی سی بسوں پر کوئی اثر نہیں

مسافرین کی تعداد اور یومیہ آمدنی برقرار ۔ عہدیداروں کا ادعا
حیدرآباد۔ 8 اپریل (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں میٹرو ریل پہلے مرحلے کا آغاز ہونے کے باوجود آر ٹی سی پر منفی اثر نہیں ہوسکا جبکہ میٹرو ریل کے پہلے مرحلے کی شروعات کے ساتھ یہ پیش قیاسیاں کی جارہی تھیں کہ آر ٹی سی کو نقصانات ہوسکتے ہیں۔ عوام آر ٹی سی بسوں میں سفر کی بجائے میٹرو ریل میں سفر کو اہمیت دیں گے لیکن اس کے برعکس آج بھی عوام میٹرو ریل کے مقابلہ میں آر ٹی سی بسوں میں سفر کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے باعث آر ٹی سی پر میٹرو ریل کا کوئی اثر نہیں ہوسکا اور آر ٹی سی نے ابتداہی سے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ میٹرو ریل کے شروع ہونے پر آر ٹی سی کی یومیہ آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ آر ٹی سی ذرائع نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میں آر ٹی سی کی یومیہ 3,850 بسیں چلائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعہ زائد از 33 لاکھ مسافرین کو سفر کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں جبکہ میٹرو ریل کا آغاز ہوئے چار ماہ گزر جانے کے باوجود میٹرو کاریڈار روٹس پر آر ٹی سی بسوں میں نہ مسافروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہی آر ٹی سی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹرو ریل ناگول سے امیر پیٹ اور امیر پیٹ تا میاں پور کاریڈار کا فاصلہ 30 کیلومیٹر ہے اور اس فاصلے تک آر ٹی سی کی جانب سے مختلف روٹس کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے 1,710 بسیں چلائی جارہی ہیں۔ میٹرو کاریڈار روٹ پر دو پہیوں والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ میٹرو ریل اسٹیشنوں تک پہونچنے کیلئے بھی آر ٹی سی بسوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ آر ٹی سی کی جانب سے سٹی بسوں میں عوام کو بہتر سفر کی سہولتیں فراہم کرنے نہ صرف تعداد میں اضافہ بلکہ نئی بسیں خرید کر چلانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT