میٹرو شہروں میں عنقریب دوسرا ایرپورٹ ہوگا،بڑھتی ایرٹریفک وجہ

نئی دہلی 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز 4 میٹرو شہروں میں نئے ایرپورٹس کے لئے منصوبوں پر کام کررہا ہے، دہلی کے معاملے میں جہاں ملک کا سب سے مصروف ایرپورٹ واقع ہے، گریٹر نوئیڈا میں جیوار ایرپورٹ کے لئے کلیئرنس پہلے ہی دیا جاچکا ہے۔ یہ 3000 ہیکٹر پر پھیلا ہوا انٹرنیشنل ایرپورٹ رہے گا۔ اِسے 20 ہزار کروڑ روپئے تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے اور آئندہ 10 تا 15 سال میں 30 تا 50 ملین مسافرین فی سال کی ضرورتیں پوری ہونے کی توقع ہے۔ وزارت ہوا بازی نے ریجنل کنکٹویٹی اسکیم کے تحت چلنے والی دہلی فلائٹس کیلئے ہنگڈن ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کی راہ بھی ہموار کردی ہے۔ چیرمین ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا گرو پرساد مہاپاترا نے کہاکہ فضائیہ نے آر سی ایس فلائٹس کو دہلی سے آنے اور جانے کی اجازت دے دی ہے اور ان کے لئے ہوائی اڈہ استعمال کیا جائے گا۔ اِس تجویز کو اب وزارت دفاع کی منظوری درکار ہے۔ حکومت یوپی وہاں روڈ کنکٹویٹی میں بہتری لانا چاہتی ہے۔ ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا وہاں 6 ماہ میں ٹرمنل بلڈنگ قائم کرسکتے ہیں جیسے اودھم پور (جموں و کشمیر) میں کیا گیا۔ اِسی طرح ممبئی میں دوسرے ایرپورٹ کے لئے تعمیر جاری ہے، جو ملک کا دوسرا مصروف ترین ایرپورٹ کا حامل شہر ہے۔ نوی ممبئی ایرپورٹ جسے سب سے پہلے 20 سال قبل تجویز کیا گیا تھا اور اُسے 2007 ء میں منظوری دی گئی، 1160ہیکٹر پر تعمیر کیا جائے گا جس میں سے 250 ہیکٹر جنگلاتی اراضی ہے۔ مہاپاترا نے کہاکہ چینائی کو بھی 2030-35 ء تک دوسرے ایرپورٹ کی ضرورت پڑے گی لیکن وہاں اِس ضمن میں قواعد کار کو ابھی قطعیت دیا جانا ہے۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا ایرپورٹ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل پر تیار کیا جائے گا یا اے اے آئی پوری طرح یہ ذمہ لے گی۔ حکومت چینائی کے معاملہ میں گرین فیلڈ ایرپورٹ کے متبادل پر بھی غور کرسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیول ایویشن سکریٹری آر این چوبے اور اے اے آئی عہدیداروں نے گزشتہ تین ماہ میں حکومت ٹاملناڈو کے ساتھ دو اجلاس منعقد کئے۔ مہاپاترا نے بتایا کہ 18 ماہ قبل ہم چینائی میں ہم فی گھنٹہ 28 پروازوں سے نمٹ رہے تھے اور ہمارے ایر نویگیشن سسٹم میں بہتری کے بعد ہمیں یہ تعداد 40 تک بڑھا لینے کی اُمید ہے۔ اِس کے ساتھ ہمیں توقع ہے ہم 2030 ء یا 2035 ء تک چینائی کو برتر ایر ٹریفک سے نمٹنے کے قابل بنالیں گے لیکن چینائی جیسے شہر کو اُس کے بعد سے بلاشبہ ایک دوسرے ایرپورٹ کی ضرورت پڑے گی۔ چینائی نے 2016ء میں 18.4 ملین مسافرین کے لئے خدمات فراہم کی ہے اور یہ تعداد 2020 ء تک اعظم ترین گنجائش 23 تا 26 ملین تک پہونچ جانے کی توقع ہے، بشرطیکہ ٹریفک میں 12.5 فیصد کی شرح پر اضافہ ہوتا رہے۔ اِس سلسلہ میں نشاندہی سنٹر فار ایشیاء پسیفک ایویشن نے اپنے حالیہ جائزہ میں کی ہے۔ ایویشن کے فاضل ادارے نے چینائی میں دوسرے ایرپورٹ کے لئے 500 ملین ڈالر کے مصارف کا اندازہ لگایا ہے۔ حکومت مغربی بنگال نے تجویز پیش کی ہے کہ درگاپور ایرپورٹ کو کولکاتا ایرپورٹ کے متبادل کے طور پر فروغ دیا جاسکتا ہے لیکن وزارت ہوا بازی نے اِس سے کوئی دیگر متبادل پیش کرنے کے لئے کہا ہے۔ مہا پاترا نے کہاکہ درگاپور کولکاتا سے معقول فاصلے پر ہے اور کئی ایرلائنس نے ابھی تک اُس ایرپورٹ سے دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT