Tuesday , February 20 2018
Home / شہر کی خبریں / میٹرو ٹرین میں نشست کی عدم دستیابی پر نیچے بیٹھنے پر جرمانہ

میٹرو ٹرین میں نشست کی عدم دستیابی پر نیچے بیٹھنے پر جرمانہ

10 کیلو بیاگیج مفت بعدازاں ہر فی کیلو زائد کیلئے ایک روپیہ وصول کیاجائے گا
حیدرآباد ۔ 25 نومبر (سیاست نیوز) جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسکیانرس، سخت ترین حفاظتی اقدامات، ہر حال میں عمل آوری کئے جانے والے اصول و ضوابط، نام سے تو میٹرو ریل ہی ہے مگر ہوائی اڈوں میں عمل کئے جانے والے اصول و ضوابط، البتہ یہ تمام اقدامات مسافرین کے تحفظ کیلئے ہی کئے جارہے ہیں۔ میٹرو ریل میں سیٹیں بہت کم ہوا کرتی ہیں اور سیٹیں روبرو ہوں گی اور درمیان میں خالی جگہ زیادہ ہوگی۔ اگر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے ریل میں سیٹ نہ ملے تو پلیٹ فارم پر ریل کے اندر نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر کوئی مسافر ریل کے اندر پلیٹ فارم پر بیٹھ جائے تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں مسافرین کو سیٹ مل جائے تو سیٹ پر بیٹھیں گے اور سیٹ نہ ملنے کی صورت میں کھڑے ہی رہنا ہوگا۔ اتنا ہی نہیں مسافرین کے بیاگیج پر بھی تحدیدات ہوں گی اور کوئی بھی مسافر اپنے ساتھ 10 کیلو گرام سے بڑھ کر لگیج ساتھ نہیں لے جاسکتا اور مسافرین کے بیاگیج کے اوزان کیلئے ہر ایک اسٹیشن میں دو الیکٹرک ترازو ہوں گی جہاں دس کیلو سے زائد ہونے پر فی کیلو گرام کیلئے ایک روپیہ چارج وصول کیا جائے گا اور40 کیلو گرام سے زائد لگیج لے جانے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی اور اس بات کی بھی اطلاع ہیکہ میٹرو عہدیداران بیاگوں کے سائز بھی مقرر کرنے سے متعلق غور کررہے ہیں یعنی ایک بیاگ کی لمبائی 60 سنٹی میٹر، چوڑائی 45 سنٹی میٹر اور اونچائی 25 سنٹی میٹر ہونے سے مسافروں کو سفر کی سہولت ہونے کا خیال کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں مسافرین کی سہولت کیلئے اسٹیشن میں ٹکٹ کاؤنٹرس کے پاس زیادہ بھیڑ ہونے کی صورت میں بہ آسانی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے اسٹیشن میں پورٹیبل ٹکٹ انالائز و (پی ٹی اے) کا بھی انتظام کیا جارہا ہے اور ہر ایک میٹرو اسٹیشن میں مسافرین کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کیلئے عملہ کا تقرر بھی کیا جائے گا اور اس عملہ کو اختیار ہوگا کہ لی گئی ٹکٹ کا وقت ختم ہونے پر مسافرین پر جرمانہ عائد کرسکتے ہیں۔ اسٹیشن میں اوقات سے متعلق میٹرو کے اصول و ضوابط بہت سخت ہوں گے۔ میٹرو اسٹیشن کو تین حصوں پبلک ایریا، پرائیویٹ ایریا اور پلاٹ فارم میں تقسیم کیا جائے گا اور پبلک ایریا میں کوئی بھی جاسکتا ہے۔ پرائیویٹ ایریا میں جانے کی صورت میں ریل پر سوار ہونے کیلئے ٹوکن لینا ہوگا اور ٹوکن حاصل کرنے کے بعد سے وقت کا حساب لگایا جائے گا جبکہ پرائیویٹ ایریا میں جانے کیلئے حاصل کیا گیا ٹوکن صرف اور صرف 29 منٹ تک ہی کارگر ہوگا اور 29 منٹ سے زائد وقت گزارنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور 29 منٹ کے اندر ہی پلیٹ فارم پر پہنچنا ہوگا اور وہاں بھی وقت گزاری نہیں کرسکتے بصورت دیگر وہاں بھی جرمانے عائد کئے جائیں گے اور ٹوکن حاصل کرنے کے بعد 2:30-2 گھنٹوں کے اندر منزل مقصود کیلئے اسٹیشن سے باہر نکلنا ہوگا اور انہیں قواعد پر اسمارٹ کارڈ ہولڈرس کو بھی عمل کرنا ہوگا۔ دو گھنٹوں سے زائد وقت گزار کر باہر جانے کیلئے مشین میں کارڈ لگاتے ہی حقیقت باہر آجائے گی۔ میٹرو اسٹیشن میں ٹکٹ کیاش مینجمنٹ آفیسرس کی اہم ذمہ داری ہوگی اور ٹکٹ سے متعلق معلومات اور دیگر معلومات کی حصولی کیلئے اسٹیشن میں ریڈرس کا انتظام کیاگیا ہے اور ٹکٹ کو اس ریڈر مشین پر رکھتے ہی تمام معلومات واضح ہوجائیں گی۔ ممنوعہ اشیاء کے ساتھ آنے والے مسافرین کو اسٹیشن میں داخلہ ہی نہیں دیا جائے گا۔ عام طور پر ہم دوران سفر ریل میں سیب کاٹنے کیلئے چھوٹی سی چاقو ساتھ لے جاتے ہیں مگر میٹرو میں ایسی چاقو پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT