Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / میڈیکل ، انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کے آغاز پر زور

میڈیکل ، انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کے آغاز پر زور

حیدرآباد 15 جولائی (پی ٹی آئی) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے تعلیمی سال 2014-15 ء کے لئے پروفیشنل کورسیس میں داخلوں سے متعلق کونسلنگ کے عمل کے فی الفور آغاز پر حکومت تلنگانہ کو ترغیب دینے کے مقصد سے آج گورنر آندھراپردیش ای ایس ایل نرسمہن سے مداخلت کی اپیل کی۔ چندرابابو نائیڈو نے اپنے وزیر فروغ انسانی وسائل گنٹ

حیدرآباد 15 جولائی (پی ٹی آئی) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے تعلیمی سال 2014-15 ء کے لئے پروفیشنل کورسیس میں داخلوں سے متعلق کونسلنگ کے عمل کے فی الفور آغاز پر حکومت تلنگانہ کو ترغیب دینے کے مقصد سے آج گورنر آندھراپردیش ای ایس ایل نرسمہن سے مداخلت کی اپیل کی۔ چندرابابو نائیڈو نے اپنے وزیر فروغ انسانی وسائل گنٹا سرینواس راؤ کے ساتھ آج رات راج بھون پہونچ کر گورنر سے ملاقات کی اور انجینئرنگ کے علاوہ دیگر پیشہ وارانہ کورسیس میں داخلوں کے عمل پر جاری تعطل سے اُنھیں باخبر کیا۔ گورنر سے ملاقات کے بعد چندرابابو نائیڈو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اِس تعطل کی وجہ سے دو لاکھ سے زیادہ طلباء کا مستقبل معلق ہوگیا ہے۔ اِن میں اکثر طلبہ کا تعلق آندھراپردیش اور تلنگانہ سے ہے جو اپنی تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے دیگر ریاستوں کو منتقل ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے 31 جولائی تک داخلوں کا عمل مکمل کرنے کی مہلت دی ہے تاکہ اگسٹ سے کلاسیس کا آغاز کیا جاسکے۔ باور کیا جاتا ہے کہ چندرابابو نائیڈو نے گورنر کو مطلع کیاکہ اُنھوں نے 4 دن قبل اِس ضمن میں اپنے تلنگانہ کے ہم منصب کے چندرشیکھر راؤ کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کی حکومت کونسلنگ کا عمل شروع کرنے کے لئے تیار ہے لیکن حکومت تلنگانہ نے اُن کے اِس مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون 2014 ء (جس کے ذریعہ تلنگانہ کا وجود عمل میں آیا ہے) کی دفعہ 95 میں واضح طور پر یہ صراحت کی گئی ہے کہ تمام سرکاری، خانگی، امدادی اور غیر امدادی اعلیٰ تعلیمی، فنی تعلیمی اور طبی تعلیمی ادارہ جات میں داخلوں کے کوٹے مزید 10 سال تک جوں کی توں حالت میں برقرار رہیں گے۔ علاوہ ازیں عام داخلوں کا موجودہ عمل بھی آئندہ دس سال تک موجودہ حالت میں برقرار رہے گا۔ چندرابابو نائیڈو نے چندرشیکھر راؤ کے نام اپنے مکتوب میں بتایا کہ ’’دونوں ریاستوں کے طلبہ کونسلنگ میں تاخیر کے سبب دیگر ریاستوں کو منتقل ہورہے ہیں جس سے اولیائے طلبہ کو مالی اور نفسیاتی بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے اور دونوں ریاستوں کے کالجس بُری طرح متاثر ہورہے ہیں‘‘۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر نے پیشہ وارانہ کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیمی فیس کی بازادائیگی سے متعلق پیدا شدہ تنازعہ کا بھی تذکرہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کی حکومت نے نئی ریاست میں تعلیم حاصل کرنے والے آندھرائی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ سے انکار کردیا ہے تاہم حکومت آندھراپردیش نے اپنے اِس عہد کا اظہار کیاکہ وہ تلنگانہ کے طلبہ کے خلاف ایسا کوئی امتیازی سلوک نہیں کرے گی اور کہاکہ اگر ٹی آر ایس حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر برقرار رہتی ہے تو اِس مسئلہ کو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT