Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں داخلوں کی راہ ہموار

میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں داخلوں کی راہ ہموار

نیٹ ایک سال ملتوی کرنے آرڈیننس کو صدرجمہوریہ کی منظوری ،غیریقینی صورتحال ختم

٭  ریاستوں کو 85% انڈر گریجویٹ میڈیکل
اور ڈینٹل نشستوں کو پُر کرنے کیلئے خود اپنا امتحان منعقد کرنے یا پھر نیٹ کا حصہ بننے کا اختیار
٭  نیٹ کا دوسرا مرحلہ 24 جولائی کو منعقد ہوگا
نئی دہلی۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ریاستی سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں داخلوں کی آج اس وقت راہ ہموار ہوگئی جب دو آرڈیننس جاری کرتے ہوئے انہیں ملک گیر سطح پر یکساں انٹرنس امتحان ’’نیٹ‘‘ سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات سے استثنٰی دے دیا گیا ۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے ان آرڈیننس پر دستخط کردیئے اور فوری اثر کے ساتھ نافذالعمل ہوگیا۔ میڈیکل شعبہ میں دلچسپی رکھنے والے لاکھوں طلبہ میں پائی جارہی غیریقینی کیفیت کو ختم کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے آج صبح چین کے دورۂ پر روانہ ہونے سے قبل ان دو آرڈیننس پر دستخط کئے۔ اس سے پہلے انہوں نے مرکزی کابینہ کی جانب سے جمعہ کو آرڈیننس کی منظوری کے سلسلے میں چند سوالات اٹھائے تھے۔ صدرجمہوریہ کے ان آرڈیننس پر گزٹ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے ساتھ ہی یہ نافذالعمل ہوگیا ہے۔ ریاستوں کو اب یہ اختیار رہے گا کہ وہ خود اپنا امتحان منعقد کریں یا پھر نیٹ کا حصہ بن جائیں تاکہ انڈر گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کی 85% نشستوں کو پُر کیا جاسکے۔ مابقی 15% نشستیں کُل ہند سطح پر کونسلنگ کرتے ہوئے نیٹ کے ذریعہ پُر کی جائیں گی۔ مرکزی وزیر صحت جی پی نڈا نے آرڈیننس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یکساں انٹرنس امتحان کو ایک موثر قانونی موقف دیا گیا تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ تمام خانگی میڈیکل کالجس اور ڈیمڈ یونیورسٹیز نیٹ کے دائرہ کار میں ہوں گے، تاہم پی جی کورسیس کیلئے نیٹ کے تحت جاریہ سال ڈسمبر میں انٹرنس ٹسٹ منعقد ہوگا۔ انڈین میڈیکل کونسل (ترمیمی) آرڈیننس 2016 اور ڈینٹسٹس (ترمیمی) آرڈیننس 2016ء فوری اثر کے ساتھ نافذالعمل ہوگیا

اور گزٹ اعلامیہ کے مطابق انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 اور ڈینٹسٹس ایکٹ 1948 میں بالترتیب ترمیم لائی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو جزوی طور پر بدل دیا گیا جس میں تمام سرکاری کالجس، ڈیمڈ یونیورسٹیز اور خانگی میڈیکل کالجس کو جاریہ تعلیمی سال 2016-17ء سے ہی نیٹ کے دائرۂ کار میں شامل کیا گیا تھا۔ نڈا نے کہا کہ آرڈیننس جاری کرنے کی ضرورت اس لئے لاحق ہوئی کیونکہ سپریم کورٹ میں فی الحال تعطیلات ہیں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوان غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے ان اندیشوں کو بھی مسترد کردیا کہ مرکز، آرڈیننس کی راہ اختیار کرتے ہوئے نیٹ سے گریز کی کوشش کررہا ہے۔ نڈا نے کہا کہ نیٹ پر پہلے ہی عمل کیا جارہا ہے اور 24 جولائی کو دوسرا مرحلہ منعقد ہوگا۔ آرڈیننس کا مقصد تمام انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل داخلوں کیلئے یکساں امتحان کو موثر قانونی موقف فراہم کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT