Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / میکسیکو کی سرحد پر ’سولاروال ‘ تعمیر کرنے ٹرمپ کا اعلان

میکسیکو کی سرحد پر ’سولاروال ‘ تعمیر کرنے ٹرمپ کا اعلان

دیوار سے آر پار نظر آئے گا، ’’میں مذاق نہیں کررہا‘‘، ایرفورس ون میں میڈیا کیساتھ امریکی صدرکی پریس کانفرنس
واشنگٹن ۔ 14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں اگر لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوارتعمیر کرنے کے ارادے سے صدر موصوف باز آچکے ہیں تویہ ان کی فاش غلطی ہوگی بلکہ اب تو ٹرمپ کی اس تجویز میں ایک نیا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ اب ان کا کہنا ہیکہ سرحد پر شمسی توانائی والی دیوار تعمیر کروائی جائے گی جس کی ایک اور خوبی یہ ہوگی کہ اس کے آر پار دیکھا جاسکے گا جس کیلئے سیکوریٹی کو اہم وجہ بتایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ ایرفورس ون میں اخباری نمائندے بھی سوار تھے اور وہ لوگ پیرس سے واشنگٹن کا سفر کررہے تھے۔ طیارہ میں منعقدہ اسی کانفرنس میں ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ مذاق نہیں کررہے بلکہ یہ ممکن ہیکہ ہم میکسیکو کی سرحد پر ایک ایسی دیوار تعمیر کریں گے کہ اس کے آر پار بھی دیکھا جاسکے گا اور وہ شمسی توانائی کی حامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس انوکھی دیوار کیلئے متعدد کمپنیوں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کی حامل دیوار تعمیر کرنے کیلئے میکسیکو کی سرحد سے زیادہ اچھی جگہ کوئی نہیں ہوسکتی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحد کی نگہبانی کرنے والے آفیسرس کا مطالبہ ہیکہ دیوار کے آر پار سب کچھ نظر آنا چاہئے۔ انہوں نے دوسرا متبادل یہ پیش کیا ہے کہ اگر آرپار دیکھنے والی دیوار تعمیر نہ کروائی جائے تو پھر فولادی دیوار تعمیر کروائی جائے جس کے متعدد دروازے ہوں جن کے ذریعہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دیوار کے اس پار کیا ہورہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ میکسیکو سے امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کوئی نئی بات نہیں ہے جس نے نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ٹرمپ اسی بات پر زور دے رہے ہیں کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرتے ہوئے نہ صرف غیرقانی تارکین کے داخلہ کو روکا جاسکے گا بلکہ منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام بھی کی جاسکے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بات سننے میں زرا ہیبتناک معلوم ہوتی ہے لیکن منشیات کے اسمگلرس سے کچھ بھی بعید نہیں۔

اگر وہ منشیات کی وزنی تھیلے دیوار کے دوسری طرف پھینک دیں اور وہ امریکی نگرانکاروں کے سر پر آگریں تو کیا ہوگا۔ دیوار کے آر پار چونکہ آپ دیکھ نہیں سکتے لہٰذا 60 پاؤنڈس کا وزن آپ کے سر پر گرے گا تو کیا حشر ہوگا لہٰذا آر پار دیکھی جانے والی دیوار وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کیلئے ہمارے پاس کچھ بہترین ڈیزائنس بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تجویز کے مطابق دیوار پورے 2000 میل کا احاطہ نہیں کرے گی کیونکہ 2000 میل کا سرحدی فاصلہ ضرور ہے لیکن اس کیلئے 2000 میل کی دیوار تعمیر کرنا ضروری نہیں بلکہ اس میں کچھ قدرتی روکاٹیں بھی ہمارے کام آئیں گی۔ 700 تا 900 میل طویل دیوار کافی ہوگی۔ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان مختلف نوعیت کی فصیلیں موجود ہیں جن کا جملہ رقبہ تقریباً 600 میل ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے صرف انسانی رکاوٹیں کھڑی کردینا کافی نہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ ہیں، دریا ہیں اور ایسے دوردراز کے علاقے ہیں جنہیں پار کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس تناظر میں صرف 700 تا 900 میل طویل دیوار کی تعمیر کافی ہوگی۔ دوسری طرف اپوزیشن یعنی ڈیموکریٹس ہیں جنہوں نے اتنی طویل دیوار کی تعمیر کیلئے مختص کئے جانے والے بجٹ کی مخالفت کرنے کا ذہن بنا لیا ہے تاہم ٹرمپ کا کہنا ہیکہ انہوں نے اپنی صدارتی مہمات کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر اور اس کے ساتھ موجودہ رکاوٹیں بھی شامل ہیں جو دیوار کے علاوہ ہوں گی جبکہ دیوار کا کچھ حصہ تعمیر بھی ہوچکا ہے اور تعمیری کام ہنوز جاری ہے لیکن اس کام کو بڑے پیمانے پر انجام نہیں دیا جارہا ہے۔ بس صرف موجودہ دیوار کی نوک پلک کو سنوارا جارہا ہے۔ ٹرمپ نے البتہ اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ دیوار کی تعمیر کے اخراجات امریکہ برداشت کرے گا یا میکسیکو ۔ یاد رہیکہ میکسیکن حکومت نے دیوار کی تعمیر کے اخراجات ادا کرنے سے پہلے ہی انکار کردیاہے۔

TOPPOPULARRECENT