Monday , December 18 2017
Home / دنیا / میک کین کی تاریخی معلومات ناقص : خواجہ آصف

میک کین کی تاریخی معلومات ناقص : خواجہ آصف

افغانستان کی لڑائی کا ویتنام کی جنگ سے موازنہ غیرمنطقی،
انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب
امریکہ کو ویتنام میں بھی شکست ہوئی تھی اور افغانستان
میں بھی ہوگی
عام طور پر پاکستان کے دوست سمجھے جانے والے میک کین
پر تنقیدوں سے حاضرین حیرت زدہ
واشنگٹن ۔ 6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیرخارجہ پاکستان خواجہ آصف نے آج اعلیٰ اختیارات کے حامل ری پبلکن سینیٹر جان میک کین کو افغانستان میں جاری جنگ کا موازنہ ویتنام کی جنگ سے کرنے پر شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کانگریس کی تائیدوالے تھنک ٹینک یوایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مک کین کی تاریخی معلومات ناقص ہیں۔ اس فورم سے میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کی لڑائی کا موازنہ ویتنام کی جنگ سے کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر آصف کے اس ریمارک نے وہاں موجود حاضرین کو بھی حیرت زدہ کردیا کیونکہ میک کین کو عام طور پر پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھنے والا تصور کیا جاتا ہے اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی مخالفت کی۔ اعلیٰ اختیارات کی حامل سینیٹ آرمڈ سرویسیس کمیٹی کے صدرنشین میک کین کو ہمیشہ پاکستان کے دوست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہیں امریکہ کے سیاسی حلقوں اور دفاعی محکمہ جات میں بھی ایک قابل احترام شخصیت سمجھا جاتا ہے لہٰذا خواجہ آصف نے جس طرح میک کین کے بارے میں تبصرہ کیا ہے وہ ناقابل فہم ہے بلکہ غیرواضح بھی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جس وقت امریکہ نے ویتنام کے ساتھ جنگ چھیڑی تو وہ (امریکہ) روزِاول سے ہی شکست خوردہ تھا۔ ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی گہرائی میں ہم جانا نہیں چاہتے بلکہ تاریخ کے فیصلوں کو مدنظر رکھیں جو یہ کہتی ہیکہ امریکہ نے ویتنام کی جنگ میں شرمناک شکست کا سامنا تھا اور تاریخ یہی کہتی ہیکہ افغانستان میں امریکہ جو رول ادا کررہا ہے، اس سے افغانستان کی جنگ میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خواجہ آصف نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کیلئے نئی حکمت عملی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہاکہ حقیقت یہ ہیکہ امریکہ افغانستان میں ہار چکا ہے اور صرف نازک صورتحال میں اپنا ’’منہ چھپانے‘‘ کیلئے امریکہ وہاں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر افغان مسئلہ کا حل نکالنے کیلئے اگر فوج کا استعمال کیا گیا تو یہ ممکن ہیکہ طالبان اور دولت اسلامیہ ہاتھ ملا لیں اور اس کے بعد جو ہوگا اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ ہمارے لئے، ہمارے خطہ کیلئے بدترین صورتحال ہوگی اور ہم نہیں چاہتے کہ خدانخواستہ ہمیں ایسی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے اور یہی وجہ ہیکہ ہم امریکیوں کے ساتھ اپنی تمام توانائی، دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جسے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ خواجہ آصف جہاں ایک طرف ایسے بیانات دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف امریکی وزیردفاع جم میاٹس پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کررہا ہے اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو امریکہ پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ریکس ٹلرسن کا یہ بھی کہنا ہیکہ امریکہ پاکستان کو ایک خطیر رقم صرف اس لئے ادا کرتا ہے کہ وہ اس کا استعمال دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و تاراج کرنے کیلئے کرے لیکن پاکستان ٹس سے مس نہیں ہوا اور اب تک ایسی کوئی بڑی کارروائی نظر نہیں آئی جس کے تحت یہ کہا جاسکے کہ پاکستان حقیقتاً دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے سنجیدہ ہے۔ یہاں تک القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کا پتہ بھی امریکی ’’سیل‘‘ نے لگایا تھا اور ایبٹ آباد پہنچ کر اس کا خاتمہ کیا گیا۔ اس وقت بھی جب سابق صدر بارک اوباما کا دور تھا، پاکستان نے اسامہ کی گرفتاری کیلئے کوئی تعاون نہیں کیا تھا۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو برسوں تک یاد رہیں گے۔ اس کے باوجود پاکستان کا دعویٰ کرنا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں کامیابیاں حاصل کررہا ہے، ناقابل فہم ہے جس پر صرف پاکستانی حکام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT