Monday , September 24 2018
Home / سیاسیات / میگھالیہ اور ناگالینڈ اسمبلی انتخابات کیلئے آج رائے دہی

میگھالیہ اور ناگالینڈ اسمبلی انتخابات کیلئے آج رائے دہی

دونوں ریاستوں کے عوام 597 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، کانگریس ، بی جے پی دونوں کامیابی کیلئے پرعزم

شیلانگ/کوہیما ۔26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ریاست میگھالیہ اور ناگالینڈ میں آج سے شروع ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے ساری تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جہاں پر صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک رائے دہی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ سوائے چند حلقوں کے جہاں صرف تین بجے تک ہی ووٹ کی جاسکے گی۔ دونوں ریاستوں میں 60 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات مقرر ہیں۔ تاہم دونوں ریاستوں میں ایک ایک سیٹ کم ہوکر صرف 59 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ میگھالیہ کے حلقہ اسمبلی ولیم نگر جہاں سے این سی پی امیدوار جوناتھن این سنگما کی 18 فبروری کو دھماکہ میں موت ہوگئی تھی، رائے دہی موقوف کردی گئی ہے۔ جبکہ ناگالینڈ میں شمالی انگامی حلقہ اسمبلی سے این ڈی پی پی کے سربراہ ناپیو ریو کو بلا مقابلہ منتخب کرلیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج تریپورہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ تین مارچ کو جاری کیے جائیں گے۔ دونوں ریاستوں میں گزشتہ شام دو بڑی سیاسی جماعتوں کا انتخابی مہم کا اختتام عمل میں آیا ہے۔ بی جے پی جو کہ آسام، منی پور، اروناچل پردیش میں حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے، وہ اب اپنی پارٹی کو توسیع کرتے ہوئے شمال مشرقی ریاستوں میں بھی اپنا قدم جمانے کے لیے جان توڑ کوشش کررہی ہے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی جو کہ میگھالیہ میں پچھلے 10 سال سے برسر اقتدار ہے، کسی بھی حال اپنی حکومت بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن بی جے پی کسی بھی حال میگھالیہ سے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کررہی ہے۔ سیاسی مبصرین بی جے پی کے مہم پر قریب سے نظریں رکھے ہوئے ہیں جو کہ شمال مشرقی ریاستوں میں کانگریس کے مضبوط گڑھ میں اپنا قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے جہاں چند علاقوں میں ہی بی جے پی کے تئیں رجھان دیکھا جارہا ہے۔ میگھالیہ میں کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑا کرنے میں ابتداء میں برابری کا مظاہرہ کیا تھا تاہم بعد میں دونوں جماعتوں نے 47 حلقہ اسمبلی میں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ اگرچہ بی جے پی میگھالیہ میں علیحدہ علیحدہ انتخابی مقابلہ کررہی ہے تاہم نیشنل پیپلس پارٹی کے ساتھ، جس کے سربراہ پی اے سنگما کے فرزند سی سنگما ہیں اتحاد کرلیا ہے۔ جبکہ ناگالینڈ نے بی جے پی نے این ڈی پی پی (دی نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی) کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے انتخابات کا سامنا کررہی ہے۔ یہاں پر این ڈی پی پی کے امیدوار 40 نشستوں سے مقابلہ کررہے ہیں جبکہ زعفرانی پارٹی نے محض 20 نشستوں پر ہی اپنے امدوار کو اتارا ہے۔ دوسری طرف کانگریس جس نے ناگالینڈ کو1963 سے تین مرتبہ چیف منسٹر دیا ہے، ناگالینڈ میں صرف 18 نشستیں مقابلہ کررہی ہیں جوکہ بی جے پی سے دو نشست کم ہے۔ الیکشن کمیشن کی اطلاع کے مطابق میگھالیہ میں مجموعی طور پر 370 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ جبکہ 18.4 لاکھ ووٹرس 3083 پولنگ بوتھ رائے دہی میں حصہ لیں گے۔

TOPPOPULARRECENT